آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل10؍ربیع الثانی 1440ھ18؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی (نیوز ڈیسک) عالمی بینک کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی جانب سے اگر مصنوعی طور پر ایک دوسرے پر عائد کردہ تجارتی پابندیاں ختم کی جائیں تو دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کی موجودہ حد 2؍ ارب ڈالرز سے بڑھ کر 37؍ ارب ڈالرز ہو جائے گی۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان غیر رسمی تجارت؛ رسمی تجارت کے مقابلے میں 91؍ فیصد ہے۔ اپنی رپورٹ میں ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ بھارت سے پاکستان زیادہ تر اشیا تیسرے ملک، عموماً متحدہ عرب امارات، کے ذریعے پہنچتی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بندرگاہ سے متعلق پابندیوں کی وجہ سے جغرافیائی حدود کے فائدے کو معدوم ہو جاتی ہیں حالانکہ ان پابندیوں کے خاتمے سے اشیا کی منتقلی (ٹرانز ٹ ) اور اخراجات کم ہو سکتے ہیں اور تجارت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان اٹاری واہگہ بارڈر سے بھارت سے صرف 138؍ اشیا کی درآمد کی اجازت دیتا ہے۔ بھارت نے 1996ء میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کے تحت پاکستان کو انتہائی پسندیدہ ملک کا درجہ یا مارکیٹ تک غیر امتیازی رسائی کی اجازت دی تھی

تاہم پاکستان نے اب تک یہ اقدام نہیں کیا۔ ورلڈ بینک کے مطابق، دونوں ملکوں کے درمیان پیچیدہ تعلقات نے باہمی تجارت اور ساتھ ہی خطے کے ملکوں کے درمیان تجارت کو بہت زیادہ حد تک نقصان پہنچایا ہے۔ دونوں ملک جنوبی ایشیا کی 88؍ فیصد جی ڈی پی بناتے ہیں۔ سائوتھ ایشین فری ٹریڈ ایریا (سافٹا) کے تحت دونوں ملکوں نے ٹیرف کو کم کرکے زیادہ سے زیادہ 5؍ فیصد تک مقرر کیا ہے۔ بھارت نے کم ترقی پذیر ممالک سے درآمدات پر ٹیرف صفر کر دیا ہے جبکہ بھارت (614؍ اشیا) اور پاکستان (936؍ اشیا) نے ایسی کئی چیزوں کو حساس قرار دیتے ہوئے ٹیرف میں کسی طرح کی کوئی مراعات نہیں دیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں