آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل18؍رجب المرجب 1440ھ 26؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پولیو ایک ایسا موذی مرض جو خدانخواستہ لاحق ہوجائےتو متاثرہ بچےکےلئے جسمانی معذوری کی شکل میںساری زندگی کاروگ بن جاتا ہے۔

بلوچستان میں رواں عشرہ کے اوائل میں پولیو کیسزکی تعداد اگرچہ تشویشناک رہی تاہم وقت گزرنےکےساتھ اس میں بہتری آئی۔سن2011میں بلوچستان سے پولیو کے73کیسزرپورٹ ہوئے تھے جس کےبعد 2014میں 25 کیسزرپورٹ ہوئے۔

بعد میں تین سال کےعرصے میںدس اور رواںسال اب تک تین کیسز رپورٹ ہوئےہیں۔متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ پولیو کی صورتحال اگرچہ بہتر ہےتاہم ان کاعزم ہے کہ اس وائرس کاصوبےسےمکمل خاتمہ کیاجائے۔

اس حوالےسےچیف ایگزیکٹوافسر،ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے انسدادپولیو بلوچستان راشدرزاق نےبتایا کہ صوبےسےپولیو کےخاتمے کےلئےکوششیں جاری ہیں۔ہدف یہی ہے کہ صوبے کو پولیو سے پاک کیاجائے۔

اس حوالےسے محکمہ صحت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز اور شعبہ ہائے زندگی کےافراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسدادپولیو کی کاوشوں میں بھرپور ساتھ دیں۔

انہوں نے پولیو کی روک تھام کےحوالےسےیونیسیف اوردیگرمتعلقہ اداروں کےتعاون کو بھی سراہا۔

دوسری جانب دیکھاجائے تو بلوچستان میں پولیو کےحوالےسےصورتحال کی بہتری میں کلیدی کردار بچوں کو پولیو سےبچاو کےقطرے پلانے والی خواتین پولیو ورکرز کا رہا ہے۔

گذشتہ کچھ سالوں کے دوران انسدادپولیو کی ٹیموں پر حملے کے پیش آنےوالےچند ناخوشگوار واقعات کےباوجود یہ خواتین صوبےسےپولیو کےخاتمے کا مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس میں رواں سال جنوری میں کوئٹہ کےنواحی علاقے شالکوٹ میں رونما ہونےوالا افسوسناک واقعہ بھی شامل ہے جس میں ایک خاتون پولیو ورکر اور ان کےہمراہ بچی کو فائرنگ کا نشانہ بنایاگیاتھا۔

پولیو کےخاتمےکی کوششوں میں سرگرم کوئٹہ کی دو خواتین پولیو ورکرزسے بات کی گئی تو ان کا کہناتھا کہ انسدادپولیو کی مہم کےدوران انہیں بےحدمشکل ہوتی ہے۔

اس کی بڑی وجہ لوگوں میں آگہی کی کمی اوررویےہیںانہیں لوگوں کو پولیو سے بچاؤ کےقطرے پلانے کےحوالےسےقائل کرناپڑتاہےتاہم وقت گزرنے کےساتھ اس میں بہتری آرہی ہے۔ہمارا مقصد یہی ہے کہ کوئی بھی بچہ پولیو کاشکار نہ ہو۔

صوبائی محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کا دعوی ہے کہ بلوچستان میں پولیو سےپاک معاشرے کاخواب جلد شرمندہ تعبیر ہوگاتاہم اس کےلئے تمام شعبہ ہائے زندگی کےافراد اور خصوصاًوالدین کاتعاون ناگزیرہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں