آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل14؍شوال المکرم 1440ھ 18؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کھوڑی گارڈن کے قریب ہم کچھ بونگے بیٹھے ہوئے تھے اور سر کھپا رہے تھے کہ مختلف ملازمتوں، عہدوں اور اسامیوں پر تقرری کے لئے کس قسم کی تعلیمی لیاقت اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً آپ پولیس میں کانسٹیبل لگنا چاہتے ہیں۔ کانسٹیبل کو عرف عام میں سپاہی کہتے ہیں۔ سپاہی لگنے کے لئے آپ کی عمر اٹھارہ اور چوبیس برس کے درمیان ہونی چاہئے،آپ کی صحت قابل دید ہونی چاہئے،آپ کا سینہ چالیس انچ اور کمر تیس انچ ہونی چاہئے،آپ صبح سویرے تین گھنٹے ورزش کرنے کے قابل ہوں اس کے علاوہ آپ کم سے کم میٹرک پاس ہوں۔ یہ ہیں بنیادی ضرورتیں یعنی رکوائرمنٹ سپاہی بننے کے لئے۔ سپاہی بن جانے کے بعد تربیتی کورسز اور تجربوں سے آپ حراست میں آنے والوں کو حراساں کرنا اور لتروں سے پیٹنا سیکھ جائیں گے۔ لاک اپ میں ملزمان سے سچ اگلوانا آپ کے لئے بائیں ہاتھ کا کام بن جائے گا۔ خوشحالی آپ کے پیٹ سے جھانکنے لگے گی۔ تب آپ کا سینہ پچیس انچ اور پیٹ پچاس انچ ہو جائے گا۔ریلوے میں انجن ڈرائیور لگنے کے لئے صرف میٹرک سے کام نہیں چلتا کسی اچھے لوکو موٹو انسٹیٹیوٹ سے ڈپلومہ لینا آپ کے لئے لازم ہو جاتا ہے۔ ڈپلومہ لینے کے بعد محکمہ پوری ریل گاڑی آپ کے حوالے نہیں کرتا۔ کافی عرصہ تک آپ کو سینئر ریلوے انجن ڈرائیوروں کے ساتھ مختلف روٹز پرکام کرنا پڑتا ہے۔ ان سے تربیت

لینی پڑتی ہے۔ اسی طرح ہوائی جہاز چلانے کے لئے آپ کو کسی اچھے ایوی ایشن انسٹیٹیوٹ سے تربیت اور سرٹیفکیٹ لینا پڑتا ہے۔ اچھا ٹیچر بننے کیلئے آپ کو بی ایڈ اور ایم ایڈ کی ڈگریاں لینی پڑتی ہیں۔ بینکر بننے کیلئے آپ کو اکنامکس، اسٹیٹسٹکس، اکاؤنٹنسی اور بینکنگ کاؤنسل کے کورسز کی اشد ضرورت ہوتی ہے لیکن کسی بنک سے قرضہ لیکر ہڑپ کر جانے کے لئے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بینک میں ڈاکہ ڈالنے کیلئے آپ کو کسی قسم کی تعلیم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ڈاکٹر اور سرجن بننے کے لئے آپ کے پاس ایم بی بی ایس کی ڈگری ہونا لازمی ہے۔ ایف آر سی ایس اور ایم آر سی پی کرنے کے بعد آپ کی شہرت کو چار پانچ چاند لگ جاتے ہیں لیکن اپینڈکس اور ہرنیا جیسے معمولی آپریشن کے دوران مریض کا ایک گردہ چرانے کے لئے آپ کو کسی قسم کی ڈگری کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ یہ جو آپ سنتے رہتے ہیں کہ فلاں اسپتال میں علاج کے دوران آپریشن کے نام میں گردے نکال کر بیچے جاتے ہیں، ایسا کام کرنے کے لئے ڈاکٹروں کے پاس کوئی ڈگری نہیں ہوتی۔
ہم بونگوں کے کہنے کا مطلب ہے کہ کام دو طرح کے ہوتے ہیں کچھ کام کرنے کے لئے آپ کے پاس متعلقہ تعلیم، تربیت اور لگا تار مطالعے کی لگن لازمی ہوتی ہے مثلاً ڈاکٹری، انجینئرنگ چاہے میکینکل ہو یا الیکٹریکل ، بینکنگ، وکالت، جہاز رانی، پائلٹ، اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں پڑھانا، جج بننا حتیٰ کہ ایک کلرک مقرر کرنے کے لئے بھی امیدوارکا میٹرک، انٹر، بی اے وغیرہ ہونا لازمی ہے۔ ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کو خدا کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، انہوں نے Peon اور چپراسی جیسے ہتک آمیز لفظختم کرا دیا تھا اور اس کی جگہ نائب قاصد لفظ متعارف کرایا تھا۔ پاکستان میں ایک دور ہم نے ایسا بھی دیکھا تھا جب کسی محکمے میں پیون یعنی نائب قاصد لگنے کے لئے امیدوار کا پڑھا لکھا ہونا کافی سمجھا جاتا تھا پھر ایسا دور آیا کہ کسی ادارے میں نائب قاصد لگنے کے لئے امیدوار کا مڈل پاس ہونا ضروری سمجھا گیا۔ آگے چل کر نائب قاصد اسامی کے لئے میٹرک اور کچھ عرصہ بعد انٹر پاس ہونا ضروری سمجھا گیا۔ سنا ہے کہ کئی ایک اداروں میں بی اے اور ایم اے پاس نوجوان نائب قاصد لگے ہوئے ہیں۔عین اسی وقت گنجے پٹیل کے سر پر کسی پرندے نے بیٹ گرا دی۔ بیٹ مقدار میں خود کفیل تھی۔ کچھ بونگے بیٹ کے چھینٹوں سے مستفید ہوئے۔ ہم سب نے درخت کی دور تک پھیلی ہوئی شاخوں کی طرف دیکھا۔ کھوڑی گارڈن میں وہ سب سے قدیم پیپل کا پیڑ ہے یعنی درخت ہے۔ پرانے باسیوں کا کہنا ہے کہ وہ درخت کم سے کم ڈیڑھ سو برس پرانا ہے۔ ہم بونگے اکثر پرانے پیپل کے نیچے یعنی پیپل کی چھاؤں میں خستہ مگر مضبوط کھوکھوں پر آکر بیٹھتے ہیں اور کڑک گولی مار چائے پی کر حالات حاضرہ اور حالات ماضی پر بحث کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ہمارے بحث مباحثے کو بکواس سمجھتے ہیں اور حالات ماضی کو حالات حاضرہ کہتے ہیں۔ بڑی بڑی حیرت انگریز تبدیلیاں دیکھی ہیں ہم بونگوں نے لہجوں اور رویوں میں۔ بٹوارے کے بعد کراچی سے بہت کچھ غائب ہو گیا اور غائب ہوتا جا رہا ہے کراچی کے پورے شہر میں نیم، برگد، بادام اور پیپل کے پیڑ دکھائی دیتے تھے، پورے شہر میں اب گنتی کے پیپل باقی رہ گئے ہیں۔کہیں کہیں نیم دکھائی دیتی ہے لیکن برگد اور بادام کے درخت شہر سے غائب ہوگئے ہیں۔ کام دھندے سے واپس آتے ہوئے ہم بونگوں کو مل بیٹھنے کے لئے کھوڑی گارڈن قریب پڑتا ہے اور کھوڑی گارڈن میں قدیم پیپل کے نیچے ہم محفل جماتے ہیں۔عین اس وقت جب کسی پرندہ نے گنجے پٹیل کے سر پر بیٹ ڈال دی تھی، وہ کہہ رہا تھا۔ ایم این اے بننے کے لئے کسی تعلیم کی ضرورت نہیں ہے، ایم پی اے بننے کے لئے تعلیمی لیاقت کی ضرورت نہیں ہے، قانون سازی کے لئے ارکان اسمبلی کا پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں ہے، سینیٹر بھی تعلیم سے مستثنیٰ سمجھے جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ ایک ایسا شخص وزیر تعلیم لگا تھا جو دستخط نہیں کر سکتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک سردار سائیں بھی وزیر بے محکمہ لگے تھے۔ وہ وزیر اس لئے لگے تھے کہ افہام و تفہیم کے فارمولے کے تحت ان کو وزیر لگنا تھا۔ محکمہ ان کو اس لئے نہیں دیا گیا تھا کہ وہ کوئی محکمہ چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ بھولے سے اگر کوئی فائل ان تک آتی تو سردار سائیں گھبرا جاتے۔ یہی اے تے مشورہ دیتے ہوئے ان سے کہا ” سردار سائیں ، آپ صرف seen لکھ دیا کریں، باقی کارروائی میں کر لوں گا“۔اس کے بعد سردار سائیں کے پاس اگر کوئی فائل آتی تو وہ ایک حرف لکھتے، س۔اچانک کسی پرندے نے گنجے پٹیل کے سر پر ایک اور بیٹ گرادی۔ گنجے پٹیل نے سر اٹھا کر شاخ پر بیٹھے ہوئے الّو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ”کوئی معقول وجہ تو ہے، کہ ہمارے آئین میں صدر، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بننے کے لئے تعلیم کی ضروت نہیں ہے“۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں