آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سلمیٰ حسین

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ مغل حکمرانوں نے فن آشیزی (کھانا پکانے کے فن) کو آگے بڑھایا اور ہندوستان کے سادہ کھانوں کو ایک فن کی شکل دی۔

مغلئی کھانوں نے بابر سے لے کر بہادر شاہ ظفر تک ایک طویل ارتقائی سفر طے کیا۔ ان کھانوں میں جہاں ایرانی ، افغانی ،ترکی ذائقے شامل تھے وہیں برصغیر میں ہونے کی وجہ سے ان میں کشمیری، پنجابی اور دکنی ذائقہ و رنگ بھی شامل ہوتا گیا۔ظہیرالدین محمد بابر اورہمایوں کے دور میں مغل کھانوں میں ہلدی ، لال مرچ ،زیرہ ، دھنیا ،لونگ ،ادرک لہسن وغیرہ بالکل استعمال نہیں ہوتے تھے، بلکہ بادام ، اخروٹ ، کشمش ، خشک آلوچے ، خوبانی، پستہ، زعفران وغیرہ استعمال کیے جاتے تھے،جو بطور خاص افغانستان سے منگوائے جاتے تھے۔ بھیڑ کا آگ پر سکا ہوا گوشت، نان اور تازہ پھل ان کو مرغوب تھے۔بابر کو ہندوستان بالکل پسند نہ تھا ،کیوں کے یہاں نہ تو برف جیسا ٹھنڈا پانی دستیاب تھا اور نہ ہی افغانستان جیسے نان۔

ہمایوں جب شاہ ایران کےپاس پناہ گزیں ہوا تو اس نے اپنا ایک ہندوستانی باورچی شاہ ایران کو بطورخاص پیش کیا، جس کے بعد شاہ کو بھی ہندوستانی کھانوں کا چسکا پڑ گیا، اس کوخاص طور پر کھچڑی بہت پسند تھی۔دوسری طرف ہمایوں کو ایرانی کھانے بے حد پسند آئے۔شیرشاہ کی وفات کے بعد جب ہمایوں واپس ہندوستان آیا تو اپنے ساتھ ایرانی فنکار، مجسمہ ساز، مصور ، موسیقارکے ساتھ ایک باورچی بھی ساتھ لایا، یوں مغل کھانوں میں ایرانی کھانے مثلاََ تندوری بھیڑ ،مسالہ مرغ، اور ایرانی پلاؤشامل ہوگئے۔اکبر کے دور حکومت میں شاہی باورچی خانے کا ذکر بہت باریک بینی اور جزیات کے ساتھ ملتا ہے،اس نے چوں کہ ہندو رانی سے شادی کی تھی اس لیےہفتہ میں تین دن صرف سبزیوںپر گزارا کرتا تھا۔

اکبر بادشاہ کی بیشتر غذا گندم، چاول اور دالوں پر مشتمل ہوتی تھی ،حلیم، دوپیازہ، زرد برنج، اور شیر برنج اسی دور کے پکوان ہیں جو آج بھی ہم بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔مغلوں کا پسندیدہ مشروب کٹی ہوئی برف کے ساتھ مختلف اقسام کے پھلوں کا رس تھا۔

مغل حکمراں طبعاً گوشت خور تھے ،جس کی اہم وجہ اس جگہ کی آب و ہوا تھی، جہاں سے ان کا تعلق تھا۔ گوشت کا تعلق طاقت اور بہادری سے تھا اور ایک بادشاہ میں ان صفات کا ہونا ضروری سمجھا جاتا تھا۔مغل گوشت کی چھوٹی چھوٹی بوٹیاں بنوا کر ان میںگرم مسالے ،پیاز ،ادرک اور دیگر مسالہ جات سے مختلف اقسام کے سالن تیار کرواتے تھے، جو ذائقے اور مہک میں اپنی مثال آپ تھے۔

چاول کے آٹے کو عرق گلاب اور مصری کے ساتھ اُبال کر ٹھنڈا ہونے کے بعد طشتریوں میں پیش کیا جاتا تھا۔ شاید یہ ہمارے زمانے کی کھیر کا آغاز تھا۔چاول کے آٹے کو بادام اور مرغ کی بوٹیوں کے ساتھ کُوٹ کر عرق گلاب اور عنبر کی آمیزش کے ساتھ ملا کر شیرینی بنائی جاتی تھی، یہ شاہی دسترخوان کی پسندیدہ شیرینی تھی۔

ہر طرح کے اچار، مربے، چٹنیاں، تازہ ادرک کے لچھے، رسیلے لیموں، سبز دھنیے اور پودینے مختلف تھیلیوں میں مہر بند کیے جاتے تھے۔ دہی بھری طشتریاں بھی خاصہ کا حصہ ہوا کرتی تھیں۔اچار مربے شاہی حکیم کی نگرانی میں تیار کیے جاتے تھے۔ پھلوں سے بنائے جانے والے شربت اور مربے اشتہا انگیز، زود ہاضم اور کئی بیماریوں کا علاج تھے۔

شاہی ضیافتوں کے علاوہ بادشاہ حرم میں خاصہ تناول فرماتے اور کسی بھی غیر شخص کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ بادشاہ کو کھانا کھاتا دیکھ لے۔باورچی خانے کا داروغہ ، جسے میر بھکوال کہا جاتا تھا، تمام تر انتظامات اور لوازمات کا ذمہ دار ہوتا تھا، وہ ہی کھانے کو چکھنے کے بعد اسےبادشاہ کو پہنچانے یا نہ پہنچانے کا حکم صادر کرتا تھا۔ دورانِ طعام وہ بادشاہ کی خدمت میں حاضر رہتا تھا۔

پان مغل تہذیب کا اہم حصہ تھا۔ پان کے پتوں کو عرق گلاب اور کافور سے ملا جاتا تھا۔ سپاری (ڈلی) عرق صندل میں اُبالی جاتی تھی۔ چونا، زعفران اور عرق گلاب کی آمیزش سے تیار کیا جاتا تھا۔گیارہ پانوں کا ایک بیڑا تیار کرکےچاندی کے خاص دان میں پیش کیا جاتا تھا۔پان کھانے کے بے شمار فوائد بیان کیے گئے ہیں۔ اس کے چبانے سے زبان ملائم، منہ خوشبودار اور پیٹ غیر ضروری گیس سے محفوظ رہتا ہے۔ سپاری قبض آور ہے اور چونامنہ سے کڑوی اور میٹھی رطوبت کو دور کرتا ہے۔مغل عہد کے آخری دور میں آلو اور مرچ کا اضافہ ہوا اور نت نئے پکوان دسترخوان کی زینت بنے۔

بہادر شاہ کا دسترخوان بے حد وسیع تھا جو ترکی، افغانی، ایرانی اور ہندوستانی کھانوں سے مزین رہتا تھا۔ان کھانوں کے ساتھ ہندوستانی کھانے بھی شاہی دسترخوان کی زینت بننے لگے تھے۔قورمہ، قلیہ، پلاؤ، نان، کباب کے ساتھ پوری کچوری، کھانڈوی دال، ہندوستانی مٹھائیاں اور حلوے تجربہ کار باورچیوں کے ہنرمند ہاتھوں کی داد دینے لگے۔

کھانوں کی تفصیل اس بات کی شاہد ہے کہ مغل حکمرانوں نے کس طرح فن آشیزی کو اس کی نفاست اور غذائیت کو نگاہ میں رکھتے ہوئے آگے بڑھاجو صدیوں بعد آج بھی زندہ ہیں۔یہ حکمراں نہ صرف تاج محل اور لال قلعے کی وجہ سے جانے جاتے ہیں بلکہ ان کے عہد کے کھانوں نے بھی انھیں امر کر دیا ہے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں