آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ14؍رجب المرجب 1440 ھ22؍ مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر اعظم عمران خان کو پچھلے ایک ہفتے میں دو مشکل ترین مراحل میں بھرپور کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ایک ان کا کامیاب دورہ چین اور دوسرا سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کے بعد بعض دینی حلقوں کی طرف سے ہونے والے احتجاج اور دھرنا کی پریشان کن صورتحال سے بہتر حکمت عملی کے ساتھ نپٹنا۔ احتجاج کے ایشو پر اصولی طور پر تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر ملک میں اسی طرح کے رویے کے رجحان کو بدلنے پر سوچنا چاہئے تھا لیکن پاکستان میں چونکہ مثبت کے بجائے منفی سیاسی رویے حاوی ہوتے ہیں اس لئے پی ٹی آئی مخالف جماعتوں نے فریقین میں مفاہمت کے بجائے انتظار کرنا شروع کردیا کہ حکومت شاید دھرنا اور احتجاج کے بعد پیدا شدہ پریشان کن صورتحال کو قابو میں نہ کرسکے، مگر یہ سب کچھ نہ ہوسکا اور بالآخر وزیر اعظم عمران خان کی چین روانگی سے قبل ہونے والی تقریر بھی ہوگئی کہ ریاست کو مجبور نہ کیا جائے، یعنی ایکشن وغیرہ پر مجبور نہ کیا جائے۔ دوسری طرف وزیر اعظم چین چلے گئے تو پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے روایتی مخالفانہ تقاریر کرکے بھڑاس نکالی، تاہم پچھلے 96گھنٹے اور خاص کر 72گھنٹے قوم نے بڑی پریشانی اور اذیت میں گزارے جس کا اثر ملکی معیشت اور معاشی سرگرمیوں پر بھی منفی اثر پڑا اور محتاط اندازے کے مطابق کئی ارب روپے کا لین دین متاثر ہوا اور پٹرول

سمیت مختلف اشیاء کی نقل و حمل میں رکاوٹ کے مسائل علیحدہ پیدا ہوئے۔ اب پی ٹی آئی حکومت اور احتجاجی گروپوں میں مفاہمت ہر لحاظ سے ایک مثبت اقدام ہے جس سے و زیر عظم کے دورہ چین کے متوقع منفی اثرات پیدا ہونے کے خدشات بھی دور ہوگئے۔ سعودی عرب کے بعد چین سے پاکستان کو ملنے والی سپورٹ سے بین الاقوامی سطح پر ہمارے امیج پر بہت مثبت اثر پڑا ہے۔ اب عالمی مالیاتی اداروں سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہوگی اور پاکستان کو سخت شرائط پر مجبور نہ کیا جاسکے گا۔ یہ ساری ڈیویلپمنٹ ہر لحاظ سے پاکستان کے اچھے مستقبل کے لئے خوش آئند ہے۔ اب قومی سطح پر تمام سیاسی قوتوں اور مقتدر حلقوں کو مل بیٹھ کر ملک میں قومی سلامتی کے ایجنڈے پر غور کرنا چاہئے اور ملک میں احتجاج سیاست کی روش کو بدلنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ ملک میں جس قدر قومی سطح پر اس حوالے سے اقدامات کئے جائیں گے اس سے پاکستان کی معاشی سرگرمیوں پر اس کے صحتمند اثرات مرتب ہوں گے اور پھر ملک سے غربت اور پسماندگی کے خاتمہ میں مدد بھی مل سکے گی۔ اس سلسلہ میں قومی سلامتی کے تحفظ اور ملک میں افہمام و تفہیم پر مبنی معاشرے کے قیام کے لئے ا یک نئے چارٹر پر دستخط کرنے کی ضرورت ہے جس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا امیج بھی بہتر ہوسکے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں