آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کوئی افسر بغیر اجازت زیر تفتیش کیس کی معلومات افشا نہیں کر سکتا، نیب ضابطہ اخلاق

اسلام آباد ( طاہر خلیل ) نیب کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کے تحت کوئی افسر چیئرمین / ڈپٹی چیئرمین نیب کی اجازت کے بغیر کسی زیر تفتیش کیس سے متعلق معلومات افشانہیں کر سکتا،نیب کی تفتیش میں حاصل معلومات کا کوئی حصہ افشاء کرنا سیکورٹی ضابطوں کی خلاف ورزی قرار دیا جائے گا ۔ نیب ضابطہ اخلاق 5 ابواب پر مشتمل ہے ۔ جس میں پالیسی بیان ،ضابطہ اخلاق کے رہنما اصول ، ملازمین سے نیب کے تقاضے ،نیب عملے کا ذاتی اور پیشہ وارانہ طرز عمل ، مفادات کے ٹکرائو کی صورت میں کام کرنے کا طریق کار ، تحفے تحائف ، مراعات ، رشوت کی پیش کش پر ردعمل ، قومی وسائل کے استعمال میں احتیاط کے تقاضے، سیاسی سرگرمیوں سے دور رہنے ،نیب معلومات کو افشا ہونے سے روکنے کا طریقہ اور اگر کسی معاملے پر تبصرہ آر ائی ضروری ہو تو کیسے اس معاملے کو ڈیل کیا جائے گا یہ تمام امور نیب کے ضابطہ اخلاق میں شامل کئے گئے ہیں تاکہ نیب کے افسر اور ملازمین اس پر سختی سے عمل کریں اور نیب کی غیر جانبداری کو کسی صورت متاثرنہ ہونے دیں ، نیب نے اپنے

افسروں اور ملازمین کو ضابطہ اخلاق کی پابندی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ایک حلف نامہ بھی اس ضابطہ اخلاق کا مستقل حصہ بنا دیا ہے ، غیر جانبدار ی کو برقرار رکھنے کیلئے نیب ملازمین کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ انتخابات کے موقعہ پر رائے دہی کا آئینی حق ادا کرتے ہوئے بھی کسی سیاسی جماعت کے ساتھ وابستگی ظاہر نہ ہونے دیں اور نہ ہی سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہوں ۔ غیر جانبدار ی کے تاثر کو برقرار رکھنے کیلئے نیب ملازمین کو کسی قسم کے جلسے جلوس یا ریلی میں شرکت کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے ، نیب معلومات کو خفیہ رکھنے کے سلسلے میں ایک مکمل باب ضابطہ اخلاق کا اہم حصہ بنایا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ کسی کیس کی تفتیش کے دوران عام طور پر بہت سی حساس اور خفیہ معلومات سامنے آتی ہیں ان معلومات اور انفارمیشن کا تعلق سرکاری اداروں ،سیاسی لیڈروں اور حکومتی عہدیداروں سے ہوتا ہے ایسی صورت میں نیب کے حکام پر پابندی عائد کی گئی ہے کہ تفتیش کے دوران حاصل ہر قسم کی معلومات کو صرف نیب مقاصد تک محدود رکھیں گے اور اگر کسی دوسری ایجنسی سے مزید تفتیش کا تعاون درکار ہو تو حاصل معلومات کا صرف مخصوص حصہ ہی متعلقہ ایجنسی کو بھیجا جائے گا۔ ضابطہ اخلاق میں کہا گیا کہ نیب کی تفتیش میں حاصل معلومات کا کوئی حصہ افشاء کرنا سیکورٹی ضابطوں کی خلاف ورزی قرار دیا جائے گا۔ نیب ضابطہ اخلاق میں مزید کہا گیا کہ عوامی مفاد میں صرف چیئرمین /ڈپٹی چیئرمین کی اجازت سے زیر تفتیش کیس میں حاصل معلومات ظاہر کی جاسکیں گی اور ایسی معلومات کو ذاتی یا کمرشل مقاصد یا مفاد میں ہرگز استعمال نہیں کیا جائے گا ،مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈی جی نیب لاہور کے حالیہ متنازع ٹاک شوز انٹرویوز ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں تھے کیونکہ ضابطہ اخلاق کے تحت چیئرمین کی پیشگی اجازت کے بغیر ڈی جی نیب ٹاک شوز انٹر ویوز کے مجاز نہیں تھے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں