آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماحول دوست تعمیرات کرنے پر پوائنٹس کی بنیاد پر ملنے والی ریٹنگ کے ذریعے Leadership in Energy and Environmental Design(LEED) سرٹیفکیٹ حاصل کیا جاتا ہے، جس کے بعد کوئی یہ اعتراض نہیں کرسکتا کہ عمارت کی تعمیرمیں ماحول دوست اقدامات نہیں اُٹھائے گئے۔ غیر منافع بخش امریکی تنظیم، یو ایس گرین بلڈنگ کونسل (یو ایس جی بی سی ) کی طرف سے تیار کردہ اس سندمیں ماحول دوست عمارات(Green Buildings)، گھروں اور اطراف کے مکانات کے ڈیزائن، تعمیر، آپریشن اور بحالی کی درجہ بندی کا نظام اور اصول مرتب کیے گئے ہیں، تاکہ مالکان اورکام کرنے ولوں کوماحولیاتی طور پر ذمہ داربننے اور وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے میں مدد ملے۔

تاریخ

LEED کا آغاز 1993ء میںاس کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے بانی چیئرمین، نیچرل ریسورسز ڈیفنس کونسل (NRDC) کے سینئر سائنسدان رابرٹ واٹسن کی کوششوں سے ہوا۔ انھوں نےغیر منافع بخش تنظیموں، سرکاری ایجنسیوں،آرکیٹیکٹس ، انجینئرز، ڈویلپرز، بلڈرز، مصنوعات کے مینوفیکچررز اور دیگر صنعت کے رہنماؤں کو ایک ساتھ بٹھاکر 2007ء تک وسیع پیمانے پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ LEEDکی پیش رفت کو1999ء سے2003ء تک یو ایس جی بی سی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئر مین اسٹیون ونٹرکی حمایت حاصل رہی۔ ماحول دوست مکانات کی تعمیرات کی قانون سازی میں انہیں مخلص عملے کا تعاون میسر رہا۔1994ء سے 2015ء تک LEED نے تعمیراتی پہلوؤں کو عمارتوں کی بحالی اور آپریشن کے لیے استعمال کرنے کے لیے جامع نظام مرتب کیا ۔ LEED نے چھ رضاکاروں سے اپنے کام کا آغاز کیا اور آج یہ کمیٹی 119,924عملے، رضاکاروں اور پیشہ ور افراد پر مشتمل ہے۔ اس کے مرتب کیے گئے معیارات پر اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 83,452 رجسٹرڈ اور تصدیق شدہ LEED منصوبوں پر کام ہورہا ہے،جن کا رقبہ 13.8ارب مربع فٹ (1.28ارب مربع میٹر)ہے۔ یہ سند صرف ان بلڈرز کو تفویض کی جاتی ہے، جویوایس گرین بلڈنگ کونسل کے ممبران ہیں۔ یو ایس جی بی سی کی گرین بزنس سرٹیفکیشن ان کارپوریٹ اداروں، افراد اور گروپ کو جاری کی جاتی ہیں۔ لیڈ ریٹنگ سسٹم میںلیڈ سے منظور شدہ پیشہ ور ماہر، لیڈ گرین ایسوسی ایٹس اور لیڈ پروفیشنلز کے لیے اعلیٰ سندپر مبنی لیڈ فیلوز کی توثیق بھی شامل ہے۔31نومبر2016ء کو ماحول دوست عمارتوں کی تعمیر کے لیے LEED v4 گرین بلڈنگ کوڈ لازمی قرار دیا گیا۔ ماحول دوست عمارتوں کے ڈیزائن میں کمرشل اور گھریلوعمارتوں کی نئی تعمیرات اور اہم آرائشِ نو آجاتے ہیں۔

ماحول دوست عمارات کے توثیقی مراحل

عالمی آلودگی و حرارت اور خشک سالی و قحط آب نے بڑھتی آبادی کے ساتھ زمینی وسائل اور ماحول کو آلودہ کردیا ہے۔کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی مقدار، سمندری طوفانوں میں اضافہ، بارش کا عدم توازن،درختوں کےکٹاؤ کے باعث مٹتے جنگلات اور آلودگی کے باعث پھیلنے والی عجیب نوعیت کی بیماریوں کے باعث ماہرین ماحولیات و تعمیرات نے سنجیدگی سے ماحول دوست اقدامات تجویز کیے ہیں۔ ماحول دوست عمارات کوچھ کریڈٹ کیٹیگریز میں بانٹا گیا ہے۔

1- مستحکم و دیرپا تعمیراتی مقامات (Sustainable Sites)

2-پانی کی فعالیت و موجودگی(Water Efficiency)

3-توانائی و ماحول(Energy and Atmosphere)

4-مواد،آلات،ساز و سامان اور وسائل (Materials and Resources)

5-اندرونی ماحولیاتی معیار(Indoor Environmental Quality)

6-ڈیزائن میں انفرادیت و اختراع سازی (Innovation in Design)

عمارتوں کے معیار کو دیکھتے ہوئے چار مراحل میں پوائنٹس مقرر کیے گئے ہیں۔40سے49پوائنٹس حاصل کرنے والی عمارت کو سرٹیفائیڈ سرٹیفکیشن لیول عطا کیا جاتا ہے جبکہ50سے59 سلور،60 سے 79گولڈاور 80سے اُوپر پوائنٹس والی عمارت کو پلاٹینم شیلڈ اور ٹرافی دی جاتی ہے۔ اسے اقوامِ متحدہ کے تحفظ ماحولیات کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

پاکستان گرین بلڈنگ کونسل

پاکستان میں ماحول دوست عمارت کے معیار پر پورا اُترنے والی تعمیرات کو توثیقی سرٹیفکیٹ پاکستان گرین بلڈنگ کونسل کی طرف سے جاری کیا جاتا ہے۔ پی جی بی سی براہ راست ورلڈ گرین بلڈنگ کونسل کا حصہ ہے اور اس میں 98ممالک گرین بلڈنگ کونسل میں شامل ہیں۔ یہ عالمی سطح پر اس ذمہ داری اور کوششوں کا حصہ ہے کہ نئے ہزاریے میں دنیا کو سرسبز و شاداب بنایا جائے۔

سند یافتہ ماحول دوست عمارتیں

فلپ میرل انوائرمینٹل سینٹر، امریکا کی قابلِ ذکر لیڈ بلڈنگز میں شمار ہوتی ہے، جس میں استحکام و توانائی کے ان مروجہ قوانین کا خاص لحاظ رکھا گیا ہے،جو ماحول دوست عمارات کالازمی جزو کہلاتے ہیں۔ اس عمارت نے 2012ء میںپلاٹینم ٹرافی حاصل کرکے ماحول دوست عمارتوں کی فہرست میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ نارتھ ٹیکساس یونیورسٹی کیمپس میں بنایا جانے والااپوگی اسٹیڈیم دنیا کا پہلا کھیل کا میدان ہے، جس نے پلاٹینم کا اعزاز پایا۔ امریکا کی معروف ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ نے 2010ء میں تزئینِ نو کے بعد ماحول دوست عمارت کا مقام حاصل کیا۔ مشرقی لندن میں واقع ’دی کرسٹل‘ نے پلاٹینم اعزاز پاکر خود کو ماحول دوست منوایا۔ منی ٹوباہائیڈرو پیلس کا شمار شمالی امریکا کے سب سے زیادہ فعال و متحرک توانائی سے بھر پور ٹاورز میں ہوتا ہے ،جس نے2012ء میں لیڈ پلاٹینم ایوارڈ اپنے نام کیا۔ساتھ ہی ٹیک کمپنی ایپل کا ایپل پارک بھی اس اعزاز کا مستحق ٹھہرا۔ پاکستان میںماحول دوست عمارات کی بات کی جائے تو نوری آباد میں گرین فیکٹری نے پلاٹینم اعزاز حاصل کیا۔ اس کے علاوہ ملک کی کئی دیگر عمارتیں LEEDکی گولڈ اور سلور سرٹیفائیڈ ہیں،لہٰذاہم فخر کرسکتے ہیں کہ ماحول دوست عمارتیں بنانے میں ہمارا بھی نام موجود ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں