آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 13؍جمادی الاوّل 1440ھ 20؍جنوری2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم کی سوئی ناردرن اور سدرن کے ایم ڈیز برطرف کرنے کی ہدایت

وزیراعظم عمران خان نے سوئی سدرن( ایس ایس جی سی ) اور سوئی ناردرن کےمنیجنگ ڈائریکٹر( ایم ڈیز) کو برطرف کرنے کی ہدایت کردی ۔

وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر پٹرولیم غلام سرور خان،وزیر پاور عمر ایوب خان،وزیر پلاننگ کمیشن خسرو بختیار و دیگر حکام نے شرکت کی ۔

وزیراعظم نے سوئی سدرن کے ایم ڈی امین راجپوت اور سوئی ناردرن کے ایم ڈی امجد لطیف کو برطرف کرنے کی ہدایت کی ،وہ سردی میں بھی بجلی کی گھنٹوں کی لوڈشیدنگ پر برہم ہوگئے ؟ انہوں توانائی کمیٹی سے استفسار کیا کہ ایسا کیوں ہورہا ہے ؟

اجلاس میں انہیں گیس کی طلب و رسد اور شکایات کے ازالے کےلئے جاری اقدامات پر بریفننگ دی گئی ،وزیراعظم عمران خان نےمتعلقہ حکام کو گیس کی قلت ایک ہفتے کے اندر ختم کرنے کا بھی حکم دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گیس کی طلب و استعمال کے مسائل کے حل کرنے کے لیے محکموں کے درمیان کوآرڈی نیشن کو مزید بہتر بنایا جائے ، بجلی چوری کے خلاف مہم مزید تیز کی جائے۔

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ یہ بات ناقابلِ قبول ہے کہ کسی کی چوری یا بدانتظامی کا خمیازہ عوام بھگتیں ۔

وزیرِ اعظم کو گزشتہ دنوں پیش آئے گیس بحران کی انکوائری رپورٹ بھی پیش کردی گئی، رپورٹ میں ذمہ داری کا تعین بھی کیا گیا ہے ۔

ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں وزیر اعظم نے سردی میں بھی بجلی کی گھنٹوں لوڈشیڈنگ کے حوالے سے پوچھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی کہ ایل این جی بروقت نہ پہنچنے سے کئی پاور پلانٹس بند ہوئے جس کے باعث پاور پلانٹس فرنس آئل پر چلانے پڑے۔

پاور ڈویژن نے کابینہ کمیٹی کو گیس کی ضروریات سے آگاہ کیاگیا اور بریفنگ میں بتایا کہ دسمبر 2018 میں پاور سیکٹر کو صرف 180 سے 200 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی گئی۔

ذرائع کے مطابق بریفنگ میں بتایا گیا کہ گیس کی مطلوبہ مقدار نہ ملنے سے 2600 میگاواٹ کے بجائے صرف 1200 میگاواٹ بجلی پیدا ہوسکی اور 1600 میگاواٹ بجلی مہنگے فرنس آئل سے پیدا کی گئی۔

اجلاس میں 10 سے 12 ارب روپےکا اضافی بوجھ بجلی صارفین سے جنوری کے بلوں میں وصولی کی تجویز بھی دی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ پاور ڈویژن اور پیٹرولیم ڈویژن نے موجودہ بجلی وگیس بحران کی ذمہ داری لینے سے گریز کیا جب کہ وزیراعظم نے دونوں ڈویژنز سے گیس وبجلی بحران کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں