آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 13؍رمضان المبارک 1440ھ19؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
لندن( نیوز ڈیسک) ایک ریسرچ سے ظاہر ہوا ہے کہ بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے مختلف مشوروں سے خواتین اتنی زیادہ تنگ آچکی ہیں کہ اب 50فیصد خواتین اپنے بیضے منجمد کرانے پر غور کرسکتی ہیں۔ دی ٹیلی گراف نے یہ خبر دیتے ہوئے لکھاہے کہ رائل کالج آف آبسٹریشنز اورگائناکولوجسٹس کی جانب سے کرائے گئے ایک سروے سے ظاہرہوا کہ ایک گھرانے کا خواب دیکھنے والی خواتین میں بڑے پیمانے پر خوف پایاجاتاہے۔ سروے رپورٹ کے مطابق 18سے24سال عمر کی کم وبیش44فیصد خواتین نے کہا کہ وہ اپنے بیضے منجمد کرانے پر غور کریں گی۔ 18سے 65سال عمر کی ایک ہزار سے زیادہ خواتین پوچھے گئے سوال کے جواب میں 11فیصد نے بتایا کہ یاتو وہ اپنے بیضے منجمد کراچکی ہیں یا اس پر غور کررہی ہیں۔ رائل کالج آف آبسٹریشنز اورگائناکولوجسٹس کی جانب سے کرائے گئے سروے کے مطابق کم وبیش نصف یعنی 50فیصد خواتین خود اپنے بیضوں کے حوالے سے پریشان ہیں اور 18سے24سال عمر کی کم وبیش25فیصد خواتین نے اپنے بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے تشویش کااظہار کیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں