آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍رمضان المبارک 1440ھ20مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میزبان:محمد اکرم خان

ایڈیٹر، جنگ فورم، کراچی

رپورٹ:طلعت عمران

عکّاسی:اسرائیل انصاری

 
’’نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام‘‘.... پانچ برس میں 50 لاکھ مکانات
حنیف گوہر
سابق چیئرمین ،ایسوسی ایشن آف بلڈرز
اینڈ ڈیولپرز آف پاکستان (آباد)

پاکستان میں ایک کروڑ20 لاکھ مکانات کی کمی ہے،یہ 223ارب کا منصوبہ ہے، ہمارے فارمولے اور حکومتِ وقت کے پروگرام میں زیادہ فرق نہیں، منصوبہ شروع ہونے سے شعبۂ تعمیرات سے جڑی72صنعتوں کا پہیہ چلنے لگے گا اور ایک کروڑ سے زاید افراد کو روزگار ملے گا،پراجیکٹ پر عملدرآمد کے لیےخصوصی فنڈنگ پروگرام کا آغاز کرنا ہوگا، بینک سرمایہ فراہم کر سکتے ہیں، حکومت کو سبسڈی دینی ہوگی، عدالتِ عظمیٰ نے کراچی میں ہائی رائز کی تعمیر پر پابندی ختم کردی لیکن عمل درآمد نہیں ہورہا

حنیف گوہر

’’نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام‘‘.... پانچ برس میں 50 لاکھ مکانات
محمد اعجاز
سی ای او، عارف حبیب ڈولمین
رِیٹ مینجمنٹ لمیٹڈ

موجودہ حکومت نے سمت کا تعین کر کے اچھا قدم اٹھایا،منصوبے پر عملدرآمد کے دوران سامنے آنے والے چیلنجزپر قابوپایا جا سکتا ہے،رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو ریگولرائز اور ڈیولپرز کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے،سپریم کورٹ نیا پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی کی دستاویزات پر نظر ثانی کرے، تاکہ بینک افسران کو نیب کی کارروائی کا خطرہ نہ رہے،پروگرام کو سی پیک سے جوڑا جائے اور جہاں اسپیشل اکنامک زونز تعمیر کیے جا رہے ہیں، وہیں کمیونٹیز قائم کی جائیں

محمد اعجاز

’’نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام‘‘.... پانچ برس میں 50 لاکھ مکانات
نوید عیسیٰ
صدر، امریکا، پاکستان بزنس
ڈیولپمنٹ فورم

نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام سے امریکا میں مقیم پاکستانی باشندوں میں امید اور توانائی پیدا ہوئی،یہ ایک اچھا منصوبہ ہے اور امریکی حکام اور سرمایہ دار اسے ضرور سپورٹ کریں گے،البتہ اسے امریکا میں موثر انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے،تعمیرات کے شعبے سے تعلق رکھنے والے امریکی ادارے اور سرمایہ دار پاکستان میں کام کرنے کے خواہش مند ہیں، امریکا، پاکستان ڈیولپمنٹ فورم کے توسط سے امریکا میںاس پروگرام کی نمائش منعقد کروں گا

نوید عیسیٰ

حکومت نے ملک میں مکانات کی کمی پوری کرنے کے لیے ’’نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام‘‘ کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت 5برس کے دوران 50لاکھ نئے مکانات تیار کیے جائیں گے۔ اس قدر بڑے منصوبے کے اعلان کے بعد مختلف آراء سامنے آرہی ہیں اور اس کی اہمیت کے اعتبار سے گزشتہ دنوں ’’نیا پاکستان ہائوسنگ پروگرام‘‘ کے موضوع پر عارف حبیب سینٹر، کراچی میں جنگ فورم منعقد کیا گیا، جس میں ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز آف پاکستان (آباد) کے سابق چیئرمین، حنیف گوہر، عارف حبیب ڈولمین رِیٹ مینجمنٹ لمیٹڈ کے سی ای او، محمد اعجاز اور امریکا، پاکستان بزنس ڈیولپمنٹ فورم کے صدر، نوید عیسیٰ نے شرکت کی۔ اس موقعے پر شرکا کے سامنے یہ سوالات رکھے گئے کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ نیا پاکستان ہائوسنگ پروگرام کے تحت 5برس میں 50لاکھ گھروں کی تعمیر ممکن ہے یا نہیں؟ اس اسکیم کی کامیابی کے کتنے امکانات ہیں ؟ کیا یہ منصوبہ قابلِ برداشت ہے اور اسے کس طرح عملی جامہ پہنایا جائے گا ؟ کیا اس منصوبے میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں؟ نیز، اس سے تعمیراتی صنعت اور اس سے جُڑی دیگر 70سے زاید صنعتوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ فورم میں ہونے والی گفتگو ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔

’’نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام‘‘.... پانچ برس میں 50 لاکھ مکانات
عارف حبیب سینٹر میں ’’’’نیا پاکستان ہائوسنگ پروگرام‘‘ کے موضوع پر منعقدہ جنگ فورم کا منظر ایڈیٹر جنگ فورم ، کراچی محمد اکرم خان میزبانی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں

جنگ :نیا پاکستان ہائوسنگ پروگرام کی کامیابی اور اس میں پاکستانی تارکینِ وطن کی سرمایہ کاری کے کتنے امکانات ہیں؟

نوید عیسیٰ :چونکہ میرا قیام امریکا میں ہے، تو میں نے دیکھا ہے کہ وہاں مقیم پاکستانی باشندوں میں موجودہ حکومت کے اعلان کردہ نئے منصوبوں سے ایک امید اور توانائی پیدا ہوئی ہے۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ امریکی حکام اور سرمایہ کار پاکستان آئیں اور اس قسم کی نئی اسکیموں سمیت پاکستان میں موجود وسائل اور ترقی کے مواقع کا جائزہ لیں۔ یہ ایک اچھا منصوبہ ہے اور ہمیں اسے امریکا میں موثر انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

جنگ:کیا اس حوالے سے آپ کی پاکستانی حکام یا نجی شعبے سے کوئی ملاقات ہوئی؟

نوید عیسیٰ :میرے ساتھ امریکا سے جو وفد پاکستان آیا تھا، وہ ہوٹل انڈسٹری میں مہارت رکھتا ہے اور اس نے ہوٹل انڈسٹری کے لیے ملک میں موجود مواقع کا جائزہ لیا۔ دراصل، یہ ہمارا افتتاحی دورہ تھا اور جب اگلی دفعہ ہم پاکستان آئیں گے، تو پھر ہماری پوری توجہ اسی اسکیم پر ہو گی۔

جنگ:کیا حالیہ دورۂ پاکستان میں آپ نے اپنے مقاصد حاصل کیے اور ان سے پاکستان کو کیا فائدہ ہو گا؟

نوید عیسیٰ :میں پاکستان اور امریکا کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہوں اور میری کوشش ہے کہ پاکستان پر امریکا کا اعتماد بحال ہو۔ اس دورے میں میرے ساتھ کئی مشہور امریکی اداروں کے سربراہ اور سرمایہ کار آئے تھے اور اس سے پہلے میں نے ایف پی سی سی آئی کے سامنے اپنے مقاصد رکھے تھے۔ بد قسمتی سے جس روز امریکی وفد کراچی پہنچا، تو اسی روز ملک میں ایک ناخوش گوار واقعہ پیش آیا، جس نے انہیں خوف زدہ کر دیا، جب کہ میں انہیں بڑی مشکلوں سے سمجھا بجھا کر پاکستان لایا تھا۔ تاہم، اس واقعے کے بعد وہ محتاط ہو گئے اور انہوں نے اپنی نقل و حرکت محدود کر دی۔ بہر کیف، تعمیرات کے شعبے سے تعلق رکھنے والے امریکی سرمایہ دار پاکستان میں اپنا دفتر قائم کرنے کے خواہش مند ہیں اور وہ یہاں کام کرنا چاہتے ہیں۔ اگر نیا پاکستان ہائوسنگ پروگرام کی بات کی جائے، تو میں اس ضمن میں امریکا، پاکستان ڈیولپمنٹ فورم کے توسط سے امریکا میں ایک نمایش منعقد کروں گا اور اس کے علاوہ دیگر شعبوں میں موجود مواقع کو بھی نمایاں کروں گا۔

جنگ :کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ان اقدامات کے نتیجے میں امریکی، پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لیں گے؟

نوید عیسیٰ :جی بالکل، کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اب پاکستان اٹھنے کی کوشش کر رہا ہے اور ویسے بھی اب تنزلی کے بعد پاکستان کی ترقی کا دور ہی شروع ہونا ہے۔ اب ملک میں امن و امان کی صورتِ حال کافی بہتر ہے۔

جنگ :امریکی وفد کی جانب سے آپ کو فیڈ بیک ملا؟

نوید عیسیٰ :مذکورہ امریکی وفد پاکستان کے علاوہ دیگر پسماندہ ممالک کے دورے بھی کرتا رہتا ہے اور وہ ہمارے ملک کا موازنہ انہی ممالک کے ساتھ کرتا ہے۔ اس نے کراچی ایئرپورٹ سے لے کر اپنی قیام گاہ تک کے سارے راستے کا جائزہ لیا اور پھر جب ہم مختلف کاروباری اداروں کے دلکش دفاتر میں گئے، تو اس نے وہاں کا ماحول بھی دیکھا، جس کے نتیجے میں ان کے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ ہم اپنے گھروں اور دفاتر کا تو خیال رکھتے ہیں، لیکن اپنے شہر کا نہیں، تو ہمیں اپنے گرد و پیش کو بھی خوبصورت بنانا ہو گا۔بھارت میں پاکستان سے زیادہ غربت ہے، لیکن دنیا میں پاکستان کے مقابلے میں اس کا تاثر بہت بہتر ہے۔ بہر حال، امریکی اس اسکیم کو ضرور سپورٹ کریں گے۔ اس سلسلے میرے علاوہ امریکا میں موجود پاکستانی کمیونٹی کے دیگر افراد بھی کام کر رہے ہیں۔ تاہم، میری خواہش ہے کہ امریکی حکام اس منصوبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لیں۔ اس حوالے سے میری تین امریکی شہروں کے میئرز سے بھی میٹنگ ہوئی ہے اور انہوں نے بھی اس منصوبے کو سراہا ہے۔

جنگ:کیا نیا پاکستان ہائوسنگ اسکیم کے تحت 5برس میں50لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ قابلِ عمل ہے؟

حنیف گوہر: 50لاکھ گھر بہ ظاہر بہت بڑی تعداد نظر آتی ہے، لیکن یہ ہماری طلب کا صرف 40فیصد ہے، کیونکہ ورلڈ بینک اور اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ 20لاکھ گھروں کی کمی ہے۔ اب جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ یہ پروگرام قابلِ عمل ہے یا نہیں، تو دنیا میں کون سا ایسا کام ہے کہ جو نہیں ہو سکتا۔ واضح رہے کہ ہم آباد کے پلیٹ فارم سے لو کاسٹ ہائوسنگ اسکیم کا ایک فارمولا تیار کر کے گزشتہ حکومت کو دے چکے ہیں اور یہ فارمولا ورلڈ بینک کی رپورٹ کی روشنی میں تیار کیاگیا تھا۔ بد قسمتی سے گزشتہ حکومتوں نے گھروں کی تعمیر میں کوئی دلچسپی نہیں لی، لیکن چونکہ یہ پروگرام موجودہ حکومت کے ایجنڈے پر ہے، تو اسے اس سے سپورٹ ملے گی۔ یہ تقریباً 223ارب روپے کا منصوبہ ہے کہ اگر ہم ایک گھر کی لاگت 21لاکھ روپے مقرر کرتے ہیں اور گھروں کی مجموعی تعداد ایک کروڑ 20لاکھ روپے ہے۔ البتہ ہم 15لاکھ روپے میں بھی گھر تعمیر کر کے دے سکتے ہیں اور ایک گھر کا رقبہ 400سے 600مربع فٹ ہو گا۔ اس میں دو بیڈ روم، صحن، کچن اور ایک باتھ روم ہو گا۔ یہ پورا فارمولا ہمارے پاس تیار ہے اور حکومتِ وقت کے پروگرام اور اس میں کوئی زیادہ فرق بھی نہیں ہے۔ موجودہ حکومت نے ضیغم رضوی کو اس پروگرام کی ٹاسک فورس کا چیئرمین بنایا ہے، جو پہلے ایچ بی ایف سی کے سربراہ رہے ہیں اور اس میں آباد کے دو نمایندے بھی شامل ہیں۔ حکومت نے کہا ہے کہ زمین وہ فراہم کرے گی۔ اس ٹاسک فورس میں ہائوسنگ کے صوبائی وزرا اور اسٹیٹ بینک کے نمایندے سمیت تمام متعلقہ اداروں کے افراد شامل ہیں، جو اپنی تجاویز دیں گے۔ اگر اس پروگرام پر عملدرآمد ہوتا ہے، تو تعمیرات کے شعبے سے منسلک مزید72صنعتیں بھی چلیں گی، جس کے نتیجے میں ایک کروڑ ملازمتیں ملیں گی۔ نیز، ہماری معیشت کا پہیہ بھی چلنے لگے گا اور ہماری جی ڈی پی میں بھی اضافہ ہو گا۔

جنگ:کیا ہمارے سرکاری و نجی بینک کم و بیش سوا دو کھرب روپے کا قرضہ دے سکتے ہیں اور کیا نجی ادارے اتنی بھاری سرمایہ کاری کر سکتے ہیں؟

حنیف گوہر :اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے خصوصی فنڈنگ پروگرام کا آغاز کرنا ہو گا اور اس کے لیے فنڈز کا بندوبست بھی کرنا ہو گا۔ البتہ ہمارے بینک اس پروگرام کے لیے سرمایہ فراہم کر سکتے ہیں اور پھر چونکہ یہ ایک سرکاری منصوبہ ہے، تو انہیں اپنی رقم ڈوبنے کا بھی کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔

جنگ:کیا آباد نے شہروں کے لیے کوئی تجاویز دی ہیں؟

حنیف گوہر :ہمارا اس سے کوئی سروکار نہیں کہ حکومت کن شہروں سے اس منصوبے کا آغاز کر رہی ہے۔ حکومت جہاں بھی ہمیں زمین دے گی، ہم کام شروع کر دیں گے اور لاگت تو ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں۔

جنگ :ان دنوں ملک میں افراطِ زر بڑھ رہا ہے اور توانائی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، تو کیا آیندہ دنوں مکانات کی لاگت میں اضافہ نہیں ہوگا؟

حنیف گوہر :جی بالکل۔ افراطِ زر اور علاقے کی بنیاد پر مکانات کی تعمیر پر آنے والی لاگت پر فرق تو پڑے گا۔

جنگ :اگر کم لاگت کے مکانات تعمیر ہو جاتے ہیں، تو کتنی تنخواہ والے افراد انہیں خریدنے کی سکت رکھتے ہوں گے؟

حنیف گوہر :اگر کوئی 20ہزار روپے آمدنی والا فرد 10ہزار روپے ماہانہ گھر کا کرایہ ادا کر رہا ہے، تو وہ اتنی ہی رقم ماہانہ اقساط کی صورت میں ادا کر کے 20برس میں گھر کا مالک بن سکتا ہے۔ تاہم، حکومت کو شرحِ سود میں سبسڈی دینا ہو گی اور اگر حکومت کوئی سبسڈی نہیں دیتی، تو پھر یہ کام مشکل ہو جائے گا۔

جنگ:کیا آباد نے سندھ حکومت کو کبھی کم لاگت کے مکانات کی تجویز دی؟

حنیف گوہر :ہم نے صوبائی حکومت کو لاتعداد مرتبہ تجویز دی، لیکن وہ صرف زبانی جمع خرچ تک ہی محدود رہی اور کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

جنگ:کیا ایف پی سی سی آئی کو بھی اعتماد میں لیا گیا ہے؟

حنیف گوہر :جی بالکل۔ ایف پی سی سی آئی کو ہر اعتبار سے اعتماد میں لیا گیا ہے اور اس ضمن میں وزیر اعـظم اور وزیر خزانہ بھی ایف پی سی سی آئی سے متعدد میٹنگز کر چکے ہیں۔

جنگ:آپ کو تو پورا شہر بسانے کا تجربہ ہے۔ آپ اس پروگرام کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

محمداعجاز :ہم بنیادی طور پر ریسرچ کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔ سب سے پہلے تو کسی بھی تعمیراتی منصوبے کا فریم ورک موجود ہونا چاہیے۔ مطلوبہ وسائل موجود ہونے چاہئیں اور منصوبے پر عملدرآمد کرنے والے افراد مہارت اور قابلیت کے حامل ہونے چاہئیں۔ کسی بھی ملک میں سب سے پہلے انڈسٹری قائم ہوتی ہے۔ پھر پبلک انفرااسٹرکچر قائم ہوتا ہے اور پھر مکانات تعمیر کیے جاتے ہیں۔ موجودہ حکومت نے ایک سمت کا تعین کر کے بہت اچھا کام کیا، کیونکہ اس سے پہلے کسی حکومت نے اسے اپنا ہدف نہیں بنایا تھا۔ ورلڈ بینک اور اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ہمیں سالانہ 7لاکھ نئے مکانات تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی 5برس میں 35لاکھ گھر تو ضرور تعمیر کرنا ہوں گے اور ہمارے نجی سیکٹر میں کام کرنے والے بلڈرز اور ڈیولپرز ہر5برس میں 15سے20لاکھ گھر تعمیر کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ 5برس میں 50لاکھ گھر تعمیر کیے جا سکتے ہیں۔ اگرچہ اس دوران ہمیں وسائل اور ہنر مند افرادی قوت کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن اس قسم کے چیلنجز ہر منصوبے ہی میں سامنے آتے ہیں اور ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ پھر وزیر اعظم کی بہ ذاتِ خود اس منصوبے میں دلچسپی سے بھی امیدیں پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوان انجینئرز کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اگر وسائل کی بات کی جائے، تو ان میں سے نصف کا تعلق زمین سے ہے اور زمین کی کمی نہیں۔ لہٰذا، آدھا مسئلہ تو حل ہو گیا۔ اسی طرح کیش کی بہ جائے بینکوں میں ڈیپازٹ رکھنے سے رقم بھی دست یاب ہو گی اور پھر اسٹیٹ بینک بھی مدد کر رہا ہے۔ ہمارے پاس کئی ایسے ماڈلز موجود ہیں کہ جب بینکوں نے سرکاری تعمیراتی منصوبوں کے لیے سرمایہ فراہم کیا، تو اس کے بدلے انہیں رعایتیں ملیں۔ اسی طرح ہمیں ڈیولپرز کی بھی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی انہیں اس منصوبے سے حاصل ہونے والی آمدنی ٹیکس سے مستثنیٰ ہونی چاہیے۔ اس ضمن میں حکومت نے جو ٹاسک فورس تشکیل دی ہے، اس میں قانونی ماہرین، آرکیٹیکٹس، آباد اور حکومت کے نمایندے اور دیگر متعلقہ اداروں سے وابستہ افراد شامل ہیں اور منصوبہ یہ ہے کہ پہلے ایک ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دیا جائے اور اس سے پہلے تک پاکستان میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر ریگولیٹڈ نہیں تھا، جس کی وجہ سے بینکوں کو فنانسنگ میں مشکل پیش آتی تھی۔ ’’ریرا‘‘ یعنی رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کا ایک بل 2017ء سے سینیٹ میں موجود ہے، جس پر اب ٹاسک فورس نظر ثانی کرے گی۔ پھر حکومت نیا پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی بنا رہی ہے اور اس سلسلے میں بھی ہمارے پاس ماڈلز موجود ہیں۔ ہمارے ہاں عمومی طور پر بھی ڈیولپرز اور کنٹریکٹرز کو بینکوں سے فنانسنگ نہیں ہوتی، کیونکہ یہ سیکٹر غیر دستاویزی ہے۔ ہمیں اپنے تمام چیلنجز کا علم ہے اور اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک نے 2007ء میں ایک رپورٹ تیار کی تھی، جس میں ان تمام چیلنجز کی نشاندہی کر دی تھی۔ میں یہاں یہ تجویز دینا چاہتا ہوں کہ سپریم کورٹ نیا پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی کی دستاویزات پر نظر ثانی کرے، تاکہ اس کا نفاذ آسان ہو جائے اور بینک کے افسران کو بھی نیب کی کارروائی کا خطرہ نہ رہے۔ پھر ہمیں اس سلسلے میں ورلڈ بینک اور دیگر متعلقہ ماہرین سے بھی رہنمائی حاصل کرنی چاہیے، تاکہ ہم وہ غلطیاں نہ دہرائیں، جو دیگر ممالک نے اپنے ماڈلز میں کی تھیں۔ میں یہاں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ گھروں سے کمیونٹی بنتی ہے اور کمیونٹی ہی سے کسی فرد کی شناخت ہوتی ہے۔ پھر ہمیں اس اسکیم کو مختلف طبقات کے درمیان سماجی روابط کا ایک ذریعہ بھی بنانا چاہیے۔ ایک موقعے پر میری سنگاپور ہائوسنگ بورڈ کے ایک نمایندے سے بات چیت ہوئی تھی، تو انہوں نے بھی مجھے یہی مشورہ دیا تھا۔

جنگ :ماضی میں بھی اس قسم کے منصوبے سامنے آتے رہے ہیں، گرچہ وہ اس قدر بڑے منصوبے نہیں تھے، لیکن انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، تو یہ تجربات کتنے مفید ثابت ہوئے؟

محمداعجاز :ہر حکومت کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں اور وہ انہی کے مطابق کام کرتی ہے۔ سو، ہر حکومت نے کسی نہ کسی منصوبے پر عملدرآمد کیا۔ یہ بھی ایک اچھا منصوبہ ہے اور وقت کی ضرورت بھی ہے۔ تاہم، ہمیں اپنی حدود و قیود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔ میں ایک مشورہ یہ بھی دینا چاہتا ہوںکہ اس وقت سی پیک ملک میں سرمایہ کاری کا سب سے بڑا منصوبہ ہے اور ہمیں اس پروگرام کو سی پیک سے جوڑنا چاہیے۔ یعنی سی پیک کے تحت جہاں جہاں اسپیشل اکنامک زونز تعمیر کیے جا رہے ہیں، ان کے آس پاس ہی کمیونٹیز بنائی جائیں۔ اس سلسلے میں ہمیں پاک فوج سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔

جنگ :اس وقت ملک معاشی بحران کا شکار ہے اور حکومت آئی ایم ایف سے بھی رجوع کر رہی ہے، تو اس صورت میں سبسڈی دینا کیسے ممکن ہو گا؟

محمداعجاز :سب کچھ ممکن ہو جائے گا۔ البتہ ہمیں آئی ایم ایف کے سامنے سارا منصوبہ رکھنا ہو گا۔ آئی ایم ایف کسی سے زیادتی نہیں کرتا، بلکہ وہ یہ کہتا ہے کہ آپ کے اخراجات آمدنی سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں۔ پھر اگر ہم ایکسپورٹرز کو سبسڈی دے رہے ہیں، تو پھر ایسے افراد کو سبسڈی کیوں نہیں دے سکتے کہ جن کے اپنا گھر نہیں ہے۔ دراصل، ساری بات ترجیحات کی ہے۔ اگر یہ تمام عوامل ہماری ترجیحات میں شامل ہوں گے، تو سب کچھ ممکن ہو جائے گا۔

جنگ:کیا قطعہ اراضی لے کر مکانات بنانے کے علاوہ کثیر المنزلہ عمارتیں تعمیر کرنے کا آپشن بھی موجود ہے کہ اس سے لاگت کم ہو جائے گی؟

حنیف گوہر :جی ہاں۔ یہ نہایت معقول تجویز ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عدالتِ عظمیٰ نے کراچی میں کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر پر پابندی عاید کر رکھی ہے اور میں چیف جسٹس، جسٹس میاں ثاقب نثار سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ کراچی سے ملک کو 70فیصد ریونیو حاصل ہوتا ہے اور یہیں سب سے زیادہ مخیر افراد رہتے ہیں۔ پھر یہیں سرمایہ کاری کے سب سے زیادہ مواقع موجود ہیں۔ کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر سے پابندی ہٹادی گئی ہے اس کے نتیجے میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔ ہائی رائز تعمیر کرنے سے منصوبے پر آنے والی لاگت کم ہو جائے گی، کیونکہ سب سے زیادہ لاگت زمین کی خریداری پر آتی ہے۔ تاہم، اگر کراچی میں ہائی رائز کی تعمیر پر پابندی برقرار رہتی ہے، تو اس کے نتیجے میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی ہو گی، لہٰذا اس مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

محمد اعجاز :ہمارے ملک کی ایک بدقسمتی یہ رہی ہے کہ ہمارے ہاں ماہرینِ معیشت سے معاشی معاملات میں رہنمائی حاصل نہیں کی جاتی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چیزیں بہتری کی طرف جائیں گی۔ میں یہاں یہ بات بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ کراچی میں جیسے جیسے بلڈرز کے بزنس نے ترقی کی، ویسے ویسے شہر کے انفرااسٹرکچر میں ابتری آئی۔ یعنی انفرااسٹرکچر کی ترقی کو نظر انداز کرتے ہوئے بلڈنگز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا اور پیسہ کمایا گیا۔ میں چیف جسٹس آف پاکستان سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس مسئلے کا حل بھی پیش کریں، قوانین میں ترمیم کر کے ان کے نفاذ کے لیے ادارہ بنائیں اور جو ان پر عملدرآمد نہ کرے، تو اس کے لیے سزا بھی متعین کر دیں، تاکہ معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہے۔

سید ناصر :ہمارے شہر کی چاروں جانب ہی جھونپڑ پٹیاں واقع ہیں اور ایشیا کی سب سے بڑی کچی آبادی بھی یہیں واقع ہے۔ بعض ممالک نے اپنے ہاں چھونپڑ پٹیوں کو ختم کرنے کے لیے پرائیویٹ بلڈرز کو مدعو کیا اور انہیں ایک مخصوص علاقہ الاٹ کر کے وہاں مکانات بنانے کی ہدایت دی۔ کیا آباد نے اس قسم کا کوئی منصوبہ بنایا ہے؟

حنیف گوہر:ہم نے کنٹونمنٹ ایریا میں واقع دہلی کالونی کو ایک پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر لیا تھا، جو 100ایکڑ پر مشتمل کچی آبادی ہے۔ اس سلسلے میں ہماری متعلقہ حکام سے بات چیت بھی ہوئی اور ہم نے ان کے سامنے سارا منصوبہ رکھا کہ ہم یہاں ہائی رائز بنا کر میدان، اسپتال اور اسکول تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ پھر ہم نے سروے بھی کروایا، لیکن مقامی افراد نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ وہ فلیٹس میں نہیں رہنا چاہتے، جس کی وجہ سے ہمارا یہ منصوبہ قابل عمل نہیں ہو سکا۔ ہمارے پاس اس قسم کے دیگر منصوبے بھی موجود ہیں اور ہم ملک کے لیے کچھ بہتر کرنا چاہتے ہیں۔

جنگ :تاج حیدر صاحب کے پاس جیکب لائن کے حوالے سے اسی قسم کا منصوبہ موجود ہے۔ کیا اس کچی آبادی میں کام نہیں کیا جا سکتا؟

حنیف گوہر: ہم کسی بھی کچی آبادی میں پائلٹ پراجیکٹ بنانے کے لیے تیار ہیں اور اس سلسلے میں کئی مرتبہ صوبائی حکومت سے بات کی ہے۔

محمد اعجاز :ٹاسک فورس ان تمام پہلوئوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ ٹاسک فورس کو شہر کا ایک ماسٹر پلان بنانا چاہیے۔ جہاں ہائی رائز کی ضرورت ہے، تو وہاں ہائی رائز تعمیر کی جائیں اور جہاں مکانات بننے چاہئیں، تو وہاں مکانات ہی تعمیر ہوں۔

جنگ:آپ حکومت کو کیا تجاویز دینا چاہتے ہیں؟

نوید عیسیٰ :میں اپنے پلیٹ فارم سے امریکی سرمایہ کاروں اور پاکستان کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ تاہم، اس سلسلے میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے اس فورم کے ذریعے بہت سی باتیں پتہ چلی ہیں اور ہم اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے امریکا میں ہر قسم کی کاوشوں کے لیے بھی تیار ہیں۔

جنگ:کیا مکانات کی تعمیر کے لیے حکومت کی آپ کے گروپ یا دیگر گروپس سے بات چیت ہوئی ہے؟

محمد اعجاز :ہمارے گروپ سمیت دیگر گروپس اس پروگرام میں دلچسپی لے رہے ہیں، لیکن جب تک کوئی فریم ورک واضح نہیں ہو جاتا، کوئی آگے نہیں آئے گا۔ تعمیراتی شعبے کی ترقی کے لیے کچھ بنیادی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو ریگولیٹ کیا جائے، کیونکہ اس کے بغیر کوئی اس سیکٹر پر بھروسہ نہیں کرے گا۔ پھر ہمیں اس سیکٹر کو باقاعدہ دستاویزی شکل دینا ہو گی اور ٹیکسیشن کے مسائل پر بات کرنا ہو گی۔ ریگولیٹری فریم ورک جامع اور مؤثر ہونا چاہیے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی ماہرین کی رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس سیکٹر کو ہمیں باقاعدہ ادارے کی شکل دینی چاہیے۔

حنیف گوہر :یہ بات درست ہے کہ اگر تعمیرات کا گراف اوپر جا رہا ہے، تو انفرااسٹرکچر کا گراف نیچے آ رہا ہے، لیکن انفرااسٹرکچر اور پالیسی بنانا حکومت کا کام ہے۔ حکومت کو کسی بھی پالیسی پر عمل درآمد سے پہلے اس پر غور و فکر کرنا چاہیے، جبکہ کوئی بھی بلڈر پالیسی سامنے آنے کے بعد کام شروع کرتا ہے۔ بلڈرز تو اس علاقے یا سڑک پر تعمیرات کرتے ہیں کہ جسے حکومت نوٹیفائی کرتی ہے، لیکن اگر حکومت نوٹیفائی کرنے کے باوجود بھی انفرااسٹرکچر تعمیر نہیں کرتی، تو یہ کس کا قصور ہے۔ یعنی حکومت کو اپنا کام کرنا چاہیے، جبکہ کسی بھی بزنس مین کا سروکار اپنے منافع سے ہوتا ہے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں