آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 20؍ ذوالحجہ 1440ھ 22؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد (مہتاب حیدر) فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی پاکستان پر عائد20؍شرائط پر عمل درآمد کے حوالے سے خفیہ تیکنیکی بریفنگ لیتے ہوئے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے ارکان نے حکومت سے سیاسی حمایت کے حصول کیلئے حکومت سے سفارتی مہم شروع کرنے کو کہا ہے اور ایف اے ٹی ایف کے رکن تین ممالک کی سیاسی حمایت حاصل کرنا ہوگی، تاکہ بلیک لسٹ ہونے کی ناگہانی پھندے سے بچا جاسکے، پاکستان کو جہاں تیکنیکی بنیادوں پر پابند ہونے کی ضرورت ہے وہیں اس مرحلے پر سفارتی مہم کی شروعات بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ایف اے ٹی ایف کے کسی ممکنہ منفی فیصلے کے خدشے سے بچا جاسکے، بریفنگ میں شریک ایک افسر نے بتایا کہ ارکان قائمہ کمیٹی تیاری سے مطمئن نہیں ہیں، لیکن انہوں نے حکومت کو بڑے پیمانے پر سفارتی و سیاسی مہم شروع کرنے کا مشورہ دیا ہے، تاہم قائمہ کمیٹی کے سربراہ فیض اللہ کے مطابق وہ بریفنگ سے مطمئن ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے کا معاملہ جلد حل کرلیا جائے گا، وفاقی سیکریٹری خزانہ یونس ڈاگھا نے قومی اسمبلی کی مجلس قائمہ برائے خزانہ کو بریفنگ دی، ذرائع کے مطابق ارکان مجلس قائمہ وزارت خزانہ کی یریفنگ سے مطمئن ہیں، بریفنگ کے بعد میڈیا سے بات چیت میں چیئرمین مجلس قائمہ فیض اللہ نے بتایا کہ اینٹی

منی لانڈرنگ قانون میں ترمیم کے لئے قانون سازی درپیش ہے، اس حوالے سے دستور سازی پر جلد غور ہوگا، ایف اے ٹی ایف اور کالعدم تنظیموں کے بارے میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر فیض اللہ نے کہا کہ وہ ایک ملک کی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، انہیں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہئے، حکومت نے ہدایات جاری کردی ہیں کہ ایف اے ےٹی ایف کو بہانہ بنا کر کسی کو ہراساں نہ کیا جائے۔

اہم خبریں سے مزید