آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍رمضان المبارک 1440ھ 23؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود نے کہا ہے کہ صنعتوں کی بندش ختم ہوگی اور شعبہ دوبارہ چلنا شروع ہوگیا ہے۔

اسلام آباد میں جنگ،جیو انوسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب عبدالرزاق دائود نے کہا کہ معیشت کی درستی کے لیے کم از کم 2 بجٹ لگیں گے،پھر ہماری حالات بہتر ہوگی۔


انہوں نے کہا کہ درد اور تکلیف ہو گی،تیار رہیں، صنعتی پالیسی بن رہی ہیں،چین کے بڑے سرمایہ کار جہاں پلانٹ لگائیں گے،اس جگہ کو خصوصی اقتصادی زون قراردے دیں گے۔

مشیر برائے تجارت نے مزید کہا کہ ہماری ایک سمت ہے، ہمیں معلوم ہے کہ ہم نے کیا کرنا ہے،معیشت تب تک ترقی نہیں کرے گی جب تک ایکسپورٹ نہ ہو،5 سال کی ٹیکسٹائل پالیسی لارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تاجر اور ایف بی آر میں تعلقات ٹھیک نہیں تھے،بہت تنقید ہو رہی ہے جو درست بھی ہے اور غلط بھی،ملک میں 10 سال میں صنعت ختم ہوئی،تجارت بھی نہ بڑھ سکی،چین سے ہم نے 14ارب ڈالرز سےزیادہ کی چیزیں منگوائیں،1اعشاریہ4 ارب ڈالرز کی برآمدات کیں۔

عبدالرزاق دائود نے یہ بھی کہا کہ فیصل آباد میں صنعتکاروں نے کہا کہ ہمیں پہلےسے زیادہ آرڈر ملے اورہم بند یونٹ کھول رہے ہیں، اب صنعت کی بندش ختم ہوگئی اور صنعت کا شعبہ دوبارہ چلنا شروع ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں صنعتی پالیسی بن رہی ہے، جس کا مسودہ جاری کریں گے، ہم صنعتی پالیسی میں اہم صنعتوں کو 4 شعبوں میں بانٹ رہے ہیں۔

مشیر برائے تجارت نے مزید کہا کہ 5 سال کی ٹیکسٹائل پالیسی کے بعد لیدر اور چاول کی پالیسی لائیں گے،ہم ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل، آئی اور سیاحت کی طرف دیکھ رہے ہیں،ہم نے ٹیرف اسٹرکچر بہتر بنایا،نئے بجٹ میں مزید بہتر کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم خام مال کی قیمت کم کریں گے،ڈیوٹی کم کریں گے، ہمیں چین تک ڈیوٹی فری رسائی ملی ہے، تمباکو کی صنعت نے ایکسپورٹ کر نا شروع کر دیا ہے، تمباکو کی صنعت سے 50 ملین ڈالرز تک جلد پہنچ جائیں گے۔

عبدالرزاق دائود نے یہ بھی کہا کہ تھوڑا صبر کریں، سب اکٹھا ہونا شروع ہو جائے گا،بزنس آسانی میں وزیراعظم نے ٹاسک دیا ہے 136 سے 100 نمبر پرآئیں۔

مشیر برائے تجارت نے مزید کہا کہ امید ہے کہ آیندہ مہینوں میں ایکسپورٹ بڑھے گی، تجارتی خسارہ کم ہو رہا ہے، زر مبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے،بزنس مین، بیوروکریٹ،سیاستدان کو اپنی ذہنیت بدلنی ہو گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں