آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل14؍شوال المکرم 1440ھ 18؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شجاعت احمد

وہ بہ یک وقت مضمون نگار، ایڈیٹر، ماہرِ موسیقی، خاکہ نگار، مترجم اور تاریخ نگار تھے، ’’ساقی‘‘ میں اُن کی جان اور دِلّی میں اُن کی روح بستی تھی

اردو کے صاحب طرز ادیب ،مترجم شاہد احمدد ہلوی نے 22 مئی 1906 ء کو زندگی کی پہلی اور 27 مئی 1999ء کو آخری سانس لی ۔ماہنامہ ساقی ’’شاہد احمددہلوی ‘‘کی پہچان تصور کیا جاتا ہے ۔وہ ماہر موسیقی بھی تھے۔ پاکستان میوزک اکیڈمی کے نا م سے ایک ادارہ بھی قائم کیا ۔آج ان کا جنم دن ہے ،چند دن بعد یعنی 27 مئی کو برسی ہے ۔ا ن کے بارے میںمختصراًنذر قارئین ہے۔

’’دادا نے اردو نثر کو وہ انداز دیا تھا جس سے ناول اور افسانے کی زبان کو فروغ پانے کے امکانات بہت واضح ہو گئے تھے۔ پوتے نے اس ادبی ورثے اور روایت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اردو افسانے کو ترقّی کے نئے راستے پر گام زن کر دیا‘‘۔

ڈاکٹر اسلم فرّخی مرحوم نے یہ سطور نام ور ادیب اور ناول نگار ڈپٹی نذیر احمد کے پوتے، معروف ادیب مولوی بشیر الدین احمدکے فرزند ، شاہد احمد دہلوی (پیدائش: 22 مئی 1906ء،دہلی، وفات: 27 مئی 1967ء ،کراچی) کے لیے لکھی تھیں جو ایک اعلیٰ ادبی شخصیت اور ادیب گر تھے۔ان سطور سے ان کے بارے میں اجمالی تاثر قائم کیا جا سکتاہے۔

شاہد احمد دہلوی اردو کے صاحبِ طرز ادیب، ادبی مجلہ’’ ساقی‘‘ کے مدیر، مترجم اور ماہرِ موسیقی تھے۔ اعلی پائے کے علمی خاندان سے تعلق کی وجہ سے ان کی علمی و ادبی تربیت بہت سلیقے سے ہوئی۔ انہوں نے افسانے بھی لکھے اور خاکہ اور ترجمہ نگاری بھی کی۔ دہلی کی بامحاورہ زبان اور اس کا چٹخارہ ان کے اسلوب کا خاصہ ہے۔ انہوں نے دہلی کے حوالے سے دو کتابیں ’’دہلی کی بپتا‘‘ اور ’’اجڑا دیار‘‘ تحریر کیں، جنہیںپڑھ کر ہمارے دلوں میں رِقّت طاری ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کافی اچھے خاکے بھی لکھے۔ ان کے خاکوں کا پہلا مجموعہ ’’گنجینہ گوہر‘‘ ان کی زندگی ہی میں 1962 ء میں شایع ہوا اور ’’بزمِ خوش نفساں‘‘ اور ’’طاقِ نسیاں‘‘ انتقال کے بعد منظرِ عام پر آئے۔ اس کے علاوہ ’’دِلّی جو ایک شہر تھا‘‘ اور ’’چند ادبی شخصیتیں‘‘ ان کی اہم کتابیں ہیں۔ تراجم کے ضمن میںبھی انہوں نے اچھا خاصہ کام کیا۔

ادب اور اس کی ترویج و اشاعت انہیں ورثے میں ملی تھی۔ انہوںنے معروف رسالہ ’’ساقی‘‘ 1930ء میں دہلی سے جاری کیا جسے انہوںنے ’’دِلّی کی زبان اور ثقافت کا نقیب‘‘ قرار دیا تھا اور مختصر عرصے ہی میں اس نے علمی اور ادبی حلقے میں اپنی پہچان بنا لی۔ دہلی سے یہ رسالہ 1947 تک جاری ہوتا رہا۔ اس دوران اس کے کئی اہم نمبرشایع ہوئے جن میں دِلّی نمبر، افسانہ نمبر، ظرافت نمبر اور جاپان نمبر وغیرہ بھی شامل تھے۔ ’’ساقی‘‘ میں اردو کے مشہور و معروف ادیبوں اور شاعروں نے لکھا جن میں محمد حسن عسکری، قرۃ العین حیدر کے نام بھی شامل ہیں۔

1947ء میں وہ ہجرت کرکے پاکستان آئے اور بڑی مشقّت کے بعد کراچی سے 1948ء میں دوبارہ ’’ساقی‘‘ نکالا۔ اس کے پاکستان سے شایع ہونے کے دوران انہوںنے افسانہ نمبر،مشرقی پاکستان نمبر، خواتین افسانہ نمبر، ناول نمبر وغیرہ بھی نکالے۔ 1959ء میں پاکستان رائٹرز گلڈ بنی تو شاہد احمد دہلوی کی کوششیں بھی اس میں شامل تھیں۔

وہ اُجڑی ہوئی دِلّی کے دل دادہ تھے۔ انہوںنے دِلّی کے حسن، رعنائی، بانکپن اور وضع داری کو اپنی تحریروں میں جذب کر لیا۔ ان کی پْروقار شخصیت میں بھی یہی حسن، رعنائی، بانکپن اور وضع داری نمایاں تھی۔ اب ایسی وضع داری کہاں۔

جنوری 1930ء میں انہوں نے دہلی سے اردو کا جو باوقار جریدہ ’’ساقی‘‘ کے نام سے جاری کیا تھا اس کی اشاعت ان کے انتقال تک جاری رہی۔1936ء میں وہ ادب کی ترقّی پسند تحریک میں شامل ہوئے اور اس کی دہلی شاخ کے سیکریٹری بن گئے۔

اچھے ادیب ہونے کے ساتھ وہ اچھے مترجم بھی تھے ۔ انہوں نے انگریزی کی متعدد کتب اردو زبان میں منتقل کیں۔انہیں موسیقی میں بھی کمال حاصل تھا۔ انہوں نے دہلی گھرانے کے مشہور استاد، استاد چاند خان سے موسیقی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہو گئے تھے، جہاں وہ ایس احمد کے نام سے موسیقی کے پروگرام پیش کرتے رہے۔ انہوں نے موسیقی کے موضوع پر بھی لاتعداد مضامین قلم بند کیے جن کا مجموعہ’’ مضامینِ موسیقی‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکا ہے ۔حکومت پاکستان نے شاہد احمد دہلوی کو ان کی ادبی خدمات کے صلے میں 14 اگست، 1963ء کو صدارتی اعزاز برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا۔

وہ بہ یک وقت مضمون نگار، ایڈیٹر، ماہرِ موسیقی، خاکہ نگار، مترجم اور تاریخ نگار تھے۔ ماہنامہ ’’ساقی‘‘ کے ایڈ یٹر ، پبلشر، مالک اور اس میں مضامین، خاکے، اداریے اور حالات حاضرہ پر تبصرے اور نجانے کیا کچھ شامل کیا کرتے تھے۔ ’’ساقی‘‘ میں ان کی جان اور دِلّی میں ان کی روح بستی تھی۔ دِلّی کی تہذیب، تمدّن، ثقافت، رہن سہن اور دیگر معاملات پر شاہد احمد نے جس تفصیل، دل کشی اور ہنرمندی سے لکھا ہے وہ ہمارے لیے کسی تاریخی خزانے سے کم نہیں۔

فراق گورکھپوری نے ان کی زندگی ہی میں کہا تھا: ’’اس دور میں نذیر احمد تو کیا شاہد احمد بھی پیدا ہونا مشکل ہے‘‘۔ اس جملے سے دو باتیں عیاں ہیں، ایک تو یہ کہ ڈپٹی نذیر احمد کی قائم کردہ روایات کو شاہد احمد پورا کر رہے تھے ۔ دوسرے ان کی صلاحیتوں کے ادیب روز روز پیدا نہیں ہوتے۔

دہلی اور دہلویت کا جس قدر گہرائی سے شاہد احمد نے مطالعہ کیا اور انہیں وضاحت اور دل چسپی سے قلم بند کیا وہ انہی کا خاصاہے۔ شاہد احمد دہلوی،ماہنامہ ساقی اور دہلی، ایسی تکون ہے جس میں سے کسی ایک کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔شاہد احمد کے عہد سے بہت پہلے میر تقی میر نے دہلی کو ’’اجڑا دیار‘‘ کہہ کر ہمیشہ کے لیے مہر لگا دی تھی۔ شاہد صاحب اُن کا یہ شعر بار بار پڑھتے، گنگناتے اور بہت سوز کے ساتھ گایا کرتے تھے۔ اپنی کتاب ’’اجڑا دیار‘‘ میں وہ اسی شعر سے آغاز کرتے ہیں:

دِلّی جو اک شہر تھا عالم میں انتخاب

ہم رہنے والے ہیں اُسی اُجڑے دیار کے

شاہد احمد دہلوی بڑے محنتی اور مصروف انسان تھے۔ کہیں ترجمہ کر رہے ہیں، مضمون اور فیچر نگاری ہو رہی ہے، ساقی کے لیے آئے ہوئے خطوط کا جواب لکھ رہے ہیں اور خاص طور پر ساقی کا اداریہ اردو ادب کی سمتیں درست کرتا اور اس دور کی ادبی تحریکوں کا عکّاس نظر آتا ہے۔ ’’ساقی بک ڈپو‘‘ نے بھی اردو ادب کی بہت خدمت کی اور ڈیڑھ دو سو کتابیں شایع کیں۔

خود شاہد احمد کثیر التحریر مصنف تھے۔ دِلّی کی ٹکسالی زبان کے امین، ایک ادبی جریدے کے مدیر ایک عمدہ خاکہ نگار، عالمی ادب پر گہری نظر رکھنے اور عالمی ادب کے جواہرات کے تراجم کرنے والے۔دوسری جانب موسیقی، بالخصوص کلاسیکی موسیقی،پر بھی عبور رکھتے تھے۔ ان کی شخصیت دہلی کی محفلوں کی جان تھی۔وہ ہر روز اپنے دولت خانے پر ادبی اور موسیقی کی محفل برپا رکھتے۔

آل انڈیا اور بعد ازاں ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہنے والے سید مظفر حسین لکھتے ہیں: ’’ڈپٹی نذیر احمد کے پوتے صاحبِ جائیداد تھے، ادیب بھی تھے۔ صبح جب آپ ان سے ملنے جائیں توعصمت چغتائی، کرشن چندر، سعادت حسن منٹو اور بلونت سنگھ بیٹھے ہیں۔اس ادبی محفل میں مختلف موضوعات پر دل چسپ گفتگو اور ادبی لطیفے ہو رہے ہیں۔ دوپہر کو جائیں تو طبلے پر تھاپ پڑ رہی ہے۔ سارنگی کے تاروں سے دل کش راگ فضا میں گونج رہے ہیں۔ امراؤ بندو خان، عثمان علی خان اور چاند خان بیٹھے ہیں۔ شاہد، سارنگ گا رہے ہیں، حاضرین داد دے رہے ہیں۔رات کو جائیں تو معلوم ہوگا کہ آل انڈیا ریڈیو سے حضرت امیر خسرو پر تقریر نشر کرنے گئے ہیں اور رات گئے جائیں تو دیکھیں گے کہ موصوف ’’ساقی ‘‘جوڑنے اور پرچے کی نوک پلک درست کرکے چھپائی کے لیے آخری شکل دے رہے ہیں۔‘‘

کراچی آنے کے بعد ان کی ادبی خدمات کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا تھا۔ ریڈیو پر وہ ریڈیائی فیچرز اور موسیقی کے شعبے کے انچارج تھے۔ انہوں نے اس شعبے کو بڑی کام یابی سے چلایا اور کلاسیکی موسیقی کے فروغ کے لیے ’’پاکستان میوزک اکیڈمی‘‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ۔ کراچی میں انہوں نے ساقی کے خاص نمبر بڑی محنت اور اہتمام سے شایع کئے۔

ان تمام مصروفیات کے باوجود انہوں نے لکھنے کا سلسلہ بند نہ کیا۔اُن کی مشہور کتابوں میں ’’اجڑا دیار‘‘، ’’گنجینہ گوہر‘‘، ’’بزمِ خوش نفساں‘‘ اور لاتعداد مضامین، تراجم، اداریے، فیچر اور دیگر مواد اردو ادب میں کلاسیک کی حیثیت رکھتا ہے۔ڈاکٹر احسن فاروقی کے بہ قول:’ ’ان کی صلاحیتوں کے ادیب ہر روزنہیں پیدا ہوتے بلکہ جس دور میں پیدا ہوجائیں اسے ان پر ناز کرنا چاہیے‘‘۔ شاہد احمد دہلوی جس زمانے میں پیدا ہوئے اس زمانے کے لوگوں کو تو ان پر ناز ہوگا ہی، جب تک دنیا باقی ہے ادب سے تعلق رکھنے والے اس بات پر ناز کرتے رہیں گے کہ ان کے قبیلے میں شاہد احمد دہلوی جیسا ادیب پیدا ہوا۔

ماہنامہ ’’ساقی‘‘ شاہد احمد دہلوی کی پہچان تصور کیا جاتاہے۔اس میں تحریرکردہ اداریے بہ عنوان’ ’نگاہِ اوّلین ‘‘ ان کے رشحاتِ قلم کا انمول نمو نہ ہیں۔ان اداریوں میں انہوںنے اپنے دور کے علمی و ادبی ماحول کی عکّاسی کی ہے۔ ادبی سرگرمیوں کی تفصیل خوب صورت انداز سے بیان کی ہے۔اْس دور کی باہمی نا انصافیوں اور ادیبوں کے مابین ہونے والی چَپقَلشوں کاذکر بھی ملتا ہے۔ادب کی مختلف اصناف کے بارے میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ ساقی کے علاوہ جو ادبی جرائد شائع ہورہے تھے اُن کے حوالے سے مختلف پہلوؤں کا ذکر ان اداریوں میں ملتا ہے۔اُن کی نظر بہت گہری ، سوچ مثبت، انداز فکاہیہ تھا۔ انہوں نے جو بھی لکھا شائستہ انداز میں اور سلیقے سے لکھا، تنقید بھی کی تو شگفتگی سے اور مْوَدَّبانہ انداز میں۔

’’یہ آل انڈیا ریڈیو ہے‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے سلسلہ وار مضامین میں ایک مضمون ’’اُجڑے دیار کی آخری بہار‘‘ ہے۔یہ مضمون دِلّی کی معاشرتی زندگی ، بولیوں، ٹھولیوں اور دل چسپ واقعات کا ایسا مُرقّع ہے جس میں شاہد احمد دہلوی اپنے فن کے عروج پر نظر آتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں