آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل21؍شوال المکرم 1440ھ 25؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:خالد پرویز…برمنگھم
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارکہ ہے کہ ’’حج اور عمرہ‘‘ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔ اگر و ہ اللہ سے کوئی دعا مانگتے ہیں تو وہ قبول فرماتے ہیں اور خطا معاف کرواتے ہیں تو اللہ ان کی خطا معاف کرتا ہے۔’’ فرما ن رسول ﷺ ہے کہ رمضان میں عمرہ کا ثواب ایک حج کے برابر ہے۔ اور ای روایت میں ہے کہ اس حج کے برابر جو میرے ساتھ کیا ہو‘‘۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ’’حج اور عمرہ ایک ساتھ کرو۔ کینوکہ وہ دنوں تندگستی اور گناہوں کو ایسے دو کریدتے ہیں جیسا کہ بھٹی لوہے اور سونے چاندی کے میل کو دور کردیتی ہے‘‘۔دین کی اس عظیم عبادت کا تقاضا ہے کہ یہ عبادت صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لئے ذوق و شوق اور والہانہ جذبہ سے نیازی مندی اورعاجزی کے ساتھ ادا کی جائے۔ مکہ مکرمہ سے ہو آنے کا نام حج و عمرہ نہیں ہے بلکہ یہ بہت ساری عبادتوں کا مجموعہ ہے۔ جن کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کے مطابق اور اللہ کی قائم کردہ حدود میں رہ کر ادا کرنا ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ کی طرح حج و عمرہ کے بھی اداب و قواعد، ارکان و فرائض، واجبات ، مکرومات اور ممنوعات ہیں۔ اس مقدس فریضہ کی صحیح طور پر ادائیگی کے لئے ان سب کو جاننا اور سیکھنا لازم و ملزوم ہیں۔ لیکن یہ حقیقت انتہائی افسوسناک ہے کہ اس مقدس سفر پر جانے والے عازمین کی ایک بڑی

تعداد حج و عمرہ کے مناسک و ارکان کی صحیح طور پر ادائیگی سے متعلق باخبر نہیں ہوتے۔ اس مقدس سفر پر روزنہ ہوئی تو نیت خالص اللہ کی رضا کے لئے ہو۔ اگر کسی سے زیادتی یا ظلم کیا ہے تو اس سے معافی مانگ لیں۔ اخراجات کے لئے حلال کمائی کی رقم کا استعمال کریں۔ رواگی سے پہلے دو رکعت نفل نماز پڑھ کر رب کریم سے گڑ گڑا اپنے پچھلے گناہوں کے لئے توبہ مانگیں اور آئندہ ان سے بچنے کا عہد کریں۔ عمرہ کی ادائیگی کے لئے احرام باندھنا ہوگا۔ احرام کے معنی حرام کرنے کے ہیں۔ یعنی جب حاجی حج و یا عمرہ کی نیت کرلیتا ہے اور تلبیہ پڑھ لیتا ہے تو اس پر چند حلال اور صباح چیئزیں حرام ہو جاتی ہیں۔ اور مجازاً احرام ان دو چادروں کا نام ہے۔ جن کو احرام کی حالت میں استعمال کیا جاتا ہے ایک تہہ بند کے طور پر اور دوسری داچر کندھ اور سینے پر اوڑھ لی جاتی ہے۔
احرام سے قبل غسل کرنا افضل ہے ناخن ، مونچھیں تراشیں اور ابدن کے ناپسندیدہ بار صاف کریں۔ خواتین روزمرہ والا لباس ہی پہنیں، جس سے جسم اچھی طرح ڈھک جائے ۔ پتلے دوپٹے اور کپڑے استعمال نہ کریں رومال ، دوپٹہ اس طرح اوڑھیں کے سر کے بال نظر نہ آئیں۔ اور اوپر بڑی چادر اوڑھ لیں یہی ان کا احرام ہے۔ احرام گھر پر یا ائرپورٹ پر بھی باندھ سکتے ہیں۔ یا پھر جب جہاز ’’میقات‘‘ کے قریب پہنچتا ہے تو اس کا باقاعدہ اعلان کیا جاتا ہے۔ تو احرام اس وقت بھی باندھا جاسکتا ہے ۔ میقات سے مراد حرم کی وہ حدود جہاں سے حج اور عمرہ کی نیت سے آنے والے لوگ احرام باندھتے ہیں۔ اگر کوئی میقات سے احرام کے بغیر گذر گیا تو اس کو ایک بکرا یا دنبہ صدقہ کرنا پڑے گا۔ احرام باندھنے ، نیتے کرنے اور تلبیہ یعنی لبیک پڑھنے کے بعد آپ پر احرام کی تمام پابندی عائد ہو جاتی ہیں۔ احتیاط کی اب بہت ضرورت ہے۔ خوشبو کا استعمال ، سلے ہوئے کپڑے، بنیان، انڈر ویر پہنا، چہرہ اور سر پر کپڑا ڈالنا منع ہوگیا۔ ایسے جوتے جن سے پائوں کا اوپر والا حصظہ چھپ جائے نہیں پہنچ سکتے۔ بال کٹوانا، ناخون ترشوانا، داڑھی مونچھیں منڈوانا یا کٹوانا منع ہوگیا۔ میاں بیوی احرام کی حالت میں ازواجی تعلقات قائم نہیں کرسکتے۔ یہ سب جائز باتیں اب حالت احرام میں حرام کردی گئی ہیں۔ ان کی خلاف ورزی گناہ ہے۔ جن کے کفارہ کے لئے حرم یعنی صدقہ واجب ہو جاتا ہے۔ مکہ مکرمہ پہنچ کرہوٹل یا رہائش پر تھوڑی دیر آرام کرلیں پھر غسل یا وضو کرکے تلبیہ پڑھتے ہوئے مسجد الحرام میں آجائیں۔ انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ مسجد میں داخل ہوں۔ جب بیت اللہ پر پہلی نظر پڑے تو اپنی نظر وہیں جما دیں اور ٹھہرجائیں۔ یہ وقت قبولیت دعا کا ہے۔ اس وقت جو بھی مانگنا ہے مانگ لیں پھر حجر اسود والے کونے سے بیت اللہ کا طواف شروع کریں۔ طواف کے سات چکروں میں آپ جو بھی دعا مانگنا یا پڑھنا چاہئیں پڑھ سکتے ہیں یا پھر تیسرا کلمہ ہی پڑھتے رہیں۔ اس کی بھی بڑی فضیلت ہے طواف مکمل کرنے کے بعد مقام ابراہیم یا جہاں کہیں بھی جگہ ملے دو رکعت نماز واجب الطواف ادا کریں۔ پھر خوب جی بھر کر زم زم پئیں۔ اس کے بعد سعی کے لئے صفا پرتشریف لے جائیں۔ نیت اور دعا کے بعد مردہ کی طرف چلیں۔ صفا سے مروہ تک آپ کا ایک چکر ہوگیا۔ اس طرح سات چکر پورے کریں سعی کے بعد عمرہ کے ارکان پورے ہو گئے۔ اب عمرہ کا احرام اتارنے سے پہلے سرمنڈوائیں یا بال کٹوائیں۔ کرمنڈوانا افضل ہے۔ اس کےبعد غسل کرکے روزمرہ کا لباس پہن لیں ۔ آپ کا عمرہ پورا ہوگیا۔ رب کعبہ قبول فرمائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں