آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 24؍ذوالحجہ 1440ھ 26؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر قومی اسمبلی میں آئندہ مالی 20-2019ء کے لئے وفاقی بجٹ پیش کردیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں ہوا، وزیراعظم عمران خان ایوان میں موجود تھے۔


  • بجٹ تقریر کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔

بجٹ کا مجموعی حجم اور ٹیکس اہداف

  • بجٹ 2019-20 کا مجموعی حجم 7ہزار 22 ارب روپے ہے،جو گزشتہ بجٹ سے 30فیصد زائد ہے،وفاقی بجٹ خسارہ 3 ہزار 560 ارب روپے ہوگا،ٹیکس وصولوں کا ہدف 5ہزار550 ارب روپے رکھا گیا ہے، جی ڈی پی میں ٹیکسوں کا تناسب 12 اعشاریہ 6فیصد ہے۔
  • قیمتوں میں استحکام ہمارے لیے بنیادی اہمیت رکھتاہے، ہم کوشش کریں گے کہ قیمتوں میں کم سے کم اضافہ ہو، چھوٹے کسان کی فصل خراب ہونے کی صورت میں انشورنس اسکیم مہیا کی جارہی ہے۔
  • بجلی چوری کرنے والوں کے خلاف منظم مہم شروع کی ہے، چھ ماہ میں 80 ارب روپے وصول کیے گئے، اسٹیٹ بنک کو مانٹیری پالیسی بنانے کی وسیع تر خود مختاری دی جارہی ہے۔
  • سی پیک کا دائرہ وسیع کرتےہوئے اس میں نئے شعبے شامل کیے گئے ہیں، ریلوے کے شعبے کو ترقی دینے کے لیے ایم ایل ون منصوبے کے لیے رقم مختص کی گئی ہے۔
  • غیرتنخواہ دارطبقے کیلیےقابل ٹیکس آمدن کی کم سے کم حد 4لاکھ روپے کرنے کی تجویز

  • نا ن فائلر پر 50 لاکھ سے زائد کی جائیداد کی خریداری پرعائد پابندی ختم
  • تنخواہ دار اورغیر تنخواہ دارافراد کے لیے ٹیکس شرح میں اضافہ

کامیاب جوان پروگرام

  • کامیاب جوان پروگرام کے تحت 100 ارب تک کے سستے قرض دیے جائیں گے۔

انسداد کرپشن مہم

  • منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے نیا نظام متعارف کرا رہے ہیں جبکہ اسٹیٹ بنک کو مانٹیری پالیسی بنانے کی وسیع تر خود مختاری دی جا رہی ہے۔

تنخواہوں میں اضافہ

  • گریڈ ایک سے 16 تک کے تمام سرکاری ملازمین کو بنیادی تنخواہ پر 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جائے گا جب کہ گریڈ 21 اور 22 کے سول ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، کابینہ کے تمام وزراء نے رضاکارانہ طور پر اپنی تنخواہوں میں 10 فیصد کمی کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔

ترقیاتی پروگرام

  • قومی ترقیاتی پروگرام کےلئے 1800 ارب روپے رکھے گئے ہیں، آبی وسائل کے لئے 70 ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں،دیامیر بھاشا ڈیم کی زمین حاصل کرنے کے لیے 20ارب روپے تجویز کیے جارہے ہیں،موٹر وے سکھر ملتان سیکشن کے لیے 19ارب روپے رکھے گئےہیں،توانائی کے لیے 80ارب روپے تجویز کیے جارہے ہیں،اعلی تعلیم کے لیے 47ارب روپے کے ریکارڈ فنڈز رکھے جا رہے ہیں،کراچی کے 9ترقیاتی منصوبوں کے لیے 45اعشاریہ5ارب روپے فراہم کیے جارہے ہیں،بجلی و گیس کے لیے 40ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی،زرعی شعبے میں 4اعشاریہ4فیصد کمی ہوئی ہے۔

اسٹیٹ بینک سے قرض نہ لینے کا اعلان

  • حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم کرکے 437 ارب روپے کردیے ہیں،بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک سے قرض لیاجاتاتھا جو اب نہیں لیاجائےگا۔

مستحق لوگوں کو ہرماہ بلاسود قرضے

  • حکومت نےغربت میں کمی کے لیے ایک نئی وزارت قائم کی ہے،80ہزار مستحق لوگوں کو ہرماہ بلاسود قرضے دیے جائیں گے،انتہائی غریب افراد کا سہ ماہی وظیفہ 5 ہزار سے بڑھاکر 55 سو روپے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دفاعی بجٹ

  • رواں برس اخراجات میں کمی پر خصوصی توجہ دی جائے گی،سول اور عسکری حکام نے بجٹ میں مثالی کمی کی ہے، پاکستان کا دفاع اورقومی خودمختاری ہر چیزسے مقدم ہے،دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے پربرقرار رہے گا۔
  • بہت سے پیسے والے لوگ ٹیکس نہیں دیتے،صرف بیس لاکھ لوگ ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں جن میں 6 لاکھ ملازمین ہیں،31 لاکھ کمرشل صارفین میں سے 14 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں،بہت سے پیسے والے لوگ ٹیکس میں حصہ نہیں ڈالتے۔

  • تجارتی خسارہ 22 ارب ڈالرہے،برآمدات میں اضافے سے مالی خسارے کو کم جائے گا، درآمدات کو 49ارب ڈالر سے کم کرکے45ارب ڈالر تک لے آئے،ہم ماہانہ گردشی قرضہ 38ارب روپےسے کم کرکے26ارب روپےتک لے آئے۔

آئی ایم ایف پروگرام

  • آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کے پروگرام کا معاہدہ ہوگیاہے، ایسٹس ڈکلیئریشن اسکیم پرعمل جاری ہے،احتساب کے نظام اور طرز حکمرانی بہتر بنانے کیلئے اقدامات کیے گئے ہیں۔
  • پچھلے پانچ سال میں ایکسپورٹ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا،کرنٹ اکاونٹ خسارہ بلند ترین سطح پر تھا،جب حکومت ملی تو اسٹیٹ بینک کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے گر کر 10 ارب ڈالر تک رہ گئے،ہم نے فوری خطرات سے نمٹنے اور معاشی استحکام کے اقدامات کیے ۔
  • 97ارب ڈالرکےبیرونی قرضوں کاسامنا ہے،برآمدات میں اضافے کیلئے حکومت نے اقدامات کیے ہیں، بجلی کے گردشی قرضوں میں 12 ارب روپے کی کمی آئی۔
  • سابق حکومت نے زیادہ شرح سود پر قرضے لیے، جب ہم آئے تو مجموعی قرضے 31ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے تھے، ہم نے تجارتی خسارہ 4 ارب ڈالر کم کیا۔
  •  گردشی قرضہ 1200 ارب تک پہنچ گیا تھا، مالیاتی خسارہ 2260 ارب تک پہنچ گیاتھا، مالیاتی نظام میں بے نظمی کی وجہ سے خسارہ بڑھا،جاری کھاتوں کا خسارہ 20 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔


وزیر مملکت برائے ریونیو کی بجٹ تقریر کا مکمل متن


تجارتی خبریں سے مزید