آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ذیقعد 1440ھ 17؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے پیر کو مالی سال2018-19ء کے متعلق جو تفصیلی اقتصادی سروے رپورٹ جاری کی ہے اس کے بغور مطالعے سے ملکی معیشت کے بہت سے کمزور پہلو سامنے آئے ہیں اور انہیں سیاسی اتفاق رائے، دانشمندانہ حکمت عملی اور دلیرانہ فیصلوں سے ہنگامی بنیادوں پر دور کرنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ اجاگر ہوئی ہے۔ وزیر خزانہ نے کھلے دل سے اعتراف کیا ہے کہ حکومت 2018ء کی اقتصادی شرح نمو سمیت تمام تر معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے بیانیے کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس وقت کرنٹ اکائونٹ اور بجٹ خسارہ ملکی معیشت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ ان دونوں خساروں پر قابو نہ پایا گیا تو خدانخواستہ ملک دیوالیہ ہو سکتا ہے۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ پہلے معاشی سال کے مکمل ہونے پر تجارتی اور جاری اخراجات کا خسارہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا جو سنگین معاشی ابتری کا غماز ہے۔ اس وقت بیرونی اور اندرونی محاذ پر ملکی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ مشیر خزانہ کے بیانیے اور اقتصادی سروے کا خلاصہ یہ ہے کہ ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کی شرح بڑھی ہے، فی کس آمدنی پچھلے سال کے مقابلے میں 1641ڈالر سالانہ سے کم ہو کر 1497ڈالر پر آ گئی ہے گویا غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ برآمدات، بیرونی سرمایہ کاری اور فصلوں کی شرح نمو میں کمی آئی ہے۔ روپیہ

ڈالر کے مقابلے میں زبردست دبائو میں ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر قرضے واپس کرنے کی گنجائش کے مطابق نہیں۔ گزشتہ دس برس میں ڈالر کمانے کی استطاعت صفر رہی سرمایہ کاری اور بچتوں کا ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔ ملک کا یہ سب سے بڑا مسئلہ بھی سامنے آیا ہے کہ امیر ٹیکس نہیں دینا چاہتے جبکہ آبادی میں 24فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے جس سے ملکی وسائل پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔ مشیر خزانہ نے معاشی اعداد و شمار دیئے بغیر کہا کہ سروے میں کئی چیزیں اچھی بھی ہیں اور کئی کمزوریاں بھی ہیں ۔کمزریوں کی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں بنیادی مسائل پر توجہ نہیں دی گئی اور مختلف شعبوں میں جو اصلاحات کرنا تھیں وہ نہیں کی گئیں خاص طور پر حکومتی اخراجات روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی اس لئے معیشت کو درست کرنے کے لئے حکومت کو کئی مشکل فیصلے کرنا ہوں گے موجودہ حکومت جو سخت فیصلے کرنا چاہتی ہے ان کی جھلک نئے بجٹ میں نظر آ ہی جائے گی لیکن جو معروضی حقائق اور مسائل ہیں وہ اس وقت سب کے سامنے ہیں جب ڈالر کی قیمت قدرے کم ہونے کے بعد پھر 151روپے سے بڑھ گئی ہے، اسٹاک مارکیٹ ایک بار پھر شدید مندی کا شکار ہے۔ پیر کو 100 انڈیکس میں یک لخت 938 پوائنٹس کی کمی آئی 314 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں گر گئیں اور مارکیٹ 34708 کی سطح پر آ گئی جس سے سرمایہ کار محتاط ہو گئے اور سرمایہ کاری روک دی اقتصادی سروے کے مطابق اس وقت ہر پاکستانی ایک لاکھ 64 ہزار 922 روپے کا مقروض ہے تا ہم اچھی بات یہ ہے کہ گزشتہ دس ماہ میں ترسیلات زر 17ارب ڈالر تک پہنچ گئیں حکومت کا ہدف ہے کہ غربت کو 2015-16کے مقابلے میں 24.3 فیصد سے کم کر کے 2023 میں 19 فیصد تک لایا جائے گا۔ مشیر خزانہ نے درست کہا کہ ملک کو ادھر ادھر سے ڈالر لے کر خوشحال نہیں بنایا جا سکتا اس کے لئے سرمایہ کاروں کو راغب کرنا ہو گا سرکاری اخراجات میں کمی اور قومی بچتوں میں اضافہ لانا ہو گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ٹیکس اصلاحات کے ذریعے ٹیکس نیٹ بڑھانا ہو گا کرپشن ختم کرنا ہو گی اور وسائل کے جائز استعمال کو یقینی بنانا ہو گا مگر اس کیلئے کاروبار اور سرمایہ کاری کے لئے ماحول کو ساز گار بنانا اور امن و امان کو یقینی بنانا ہو گا۔ حکومت اس سمت میں اقدامات کر رہی ہے جن کے بار آور ہونے کا انحصار ملک کی سیاسی صورت حال پر بھی ہے جو اس وقت زیادہ اچھی نہیں اور خدشہ ہے کہ اگلے چند ماہ میں سیاسی محاذ آرائی میں مزید اضافہ ہو گا ملکی معیشت کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی اور امن و سلامتی میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے۔ سیاسی قیادت کو چاہئے کہ معیشت کو سیاست کی نذر ہونے سے بچائیں اور ملک کے اقتصادی معاملات میں اتفاق رائے کو یقینی بنائیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں