آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ذیقعد 1440ھ 17؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ میںا یک دفعہ پھر ’’میڈکائو‘‘ کی وبا پھیلنے کا خدشہ

لندن(نیوز ڈیسک) ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ میڈ کائو کی ایک نئی لہر پھیلنے کا خدشہ ہے۔ انھوں نے یہ خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مرض 30سے 50 سال تک جامد رہتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دفعہ اس مرض سے پہلے سے زیادہ افراد متاثر ہوں گے۔ مرر نے یہ خبر دیتے ہوئے لکھا ہے کہ 1990کی دہائی میں پھیلنے والی اس وبا کے دوران آلودہ گوشت کھانے سے کم و بیش 200افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ اس مرض کے پھیلنے سے بعض گروپ دوسروں سے زیادہ خطرے میں ہوں گے۔ اخبار کے مطابق 1986اور 1989کے دوران گائےکا گوشت کھانے والوں نے میڈ کائو کے مرض سے آلودہ دیگر بہت سے کھانے بھی کھائے تھے۔ بی بی سی کی تفتیش کے مطابق اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ نادانستگی میں اس ہلاکت خیز بیماری کوپال رہے تھے۔ ایڈنبرا میں سی جے ڈی سرویلنس یونٹ میں نیورولوجی کے پروفیسر رچرڈ نائٹ نے متنبہ کیا کہ اب بھی کافی غیر یقینی صورت حال موجود ہے۔ ایک چیز غیر یقینی ہے کہ برطانیہ میں کتنے افراد خاموشی سے نادانستگی میں متاثر ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ فی الوقت ہمیں نہیں معلوم لیکن ہر پیشگوئی میں یہی کہا جا رہا ہے کہ مزید معاملات سامنے آنے والے ہیں۔ ڈیویز ولٹ شائر کے 1995میں 19سالہ سٹیفن سٹیفن چرچل میں آلودہ گوشت کھانے کے5 سال بعد اس مرض کی تشخیص کے بعد سے اس مرض

کے علاج اور تشخیص کے حوالے سے کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ آپ اب بھی اس کا ٹیسٹ نہیں کرسکتے اور اب بھی اس کا کوئی علاج نہیں ہے جو کوئی بھی میڈ کائو کی انسانی قسم کریوٹز فیلڈٹ جیکب سےرابطے میں آتا ہے۔ وہ ہلاک ہوجاتا ہے۔ ماہرین نے اسے آبادی کیلئے بہت بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے اس سے نمٹنے کیلئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مرض اس قدر ہولناک ہے کہ متاثرہ جرثومے جسم کے اپنے پروٹین سے بنتے ہیں، جس کی وجہ سے امیون سسٹم یہ سمجھ نہیں پاتا کہ اس سے لڑنا چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں