آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات14؍ ذیقعد1440ھ18؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ججز کیخلاف ریفرنس، سپریم کورٹ بار کی اپیل پر وکلاء کی ہڑتال

کراچی، حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر، بیورو رپورٹ) اعلیٰ عدلیہ کے ججز کیخلاف ریفرنس بنانے سے متعلق پاکستان بار اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اعلان پر ملک بھر کی طرح کراچی اور حیدرآباد میں بھی وکلا نے ہڑتال اور عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ جبکہ دوسری جانب وکلا ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے ہڑتال کی ناکامی کا دعویٰ کیا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں میں بھی وکلا کی جانب سے ہڑتال کی گئی۔ وکلا رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عدالتی امور کا بائیکاٹ کیا گیا۔ وکلا ایکشن کمیٹی اور رہنما ایم کیو ایم گل فراز خٹک نے پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کی ہڑتال پر کہا کہ ہم آج بھی اپنے سابقہ موقف پر قائم ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں سائلین اور ان کے اہل خانہ عدالت میں پیش ہوتے ہیں۔ ہڑتال کے باعث انھیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جو وکلا عدالتوں میں کیسز چلانا چاہتے ہیں انکو نہ روکا جائے۔ عدالتوں کو تالے لگا کر قانون کو ہاتھ میں نہ لیا جائے۔ غنڈہ گردی کے ذریعے سائلین کو عدالتوں میں آنے سے نہ روکا جائے۔ وکالت ایک مقدس پیشہ ہے تمام سوسائٹی کی نظریں وکلا کی طرف ہوتی ہیں۔ گل فراز خٹک نے کہا کہ اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے اس مقدس پیشے کو بدنام نہ کیا جائے۔ سٹی کورٹ میں آج بھی غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا گیا۔ آج عدالتو میں کام

جاری ہے ہم بھی پیش ہو رہے ہیں۔ اگر معاملات معمول کے مطابق جاری نہ رہے تو آئندہ کے لائحہ عمل سے عوام کو اگاہ کرینگے۔ حیدر آباد میں بھی حکومتی ریفرنسز کیخلاف ہفتہ کو سیشن کورٹ، سول کورٹس، ماڈل کرمنل کورٹس ودیگرعدالتوں کا وکلاء نے مکمل بائیکاٹ کیا اور پیش نہیں ہوئے جسکے باعث ہفتے کو زیرسماعت مقدمات کی سماعت ملتوی کرکے ججز نے تاریخیں دیدیں، اہم اور ضروری نوعیت کے امور چیمبرز میں نمٹائے ۔ وکلا نے صبح ہی سے عدالتی کارروائیاں ملتوی کرادیں اور ڈسٹرکٹ بار کے عہدیداران کی قیادت میں عدالتوں میں جاکر بائیکاٹ کے فیصلے پر عدالتی کارروائیاں رکوادیں۔ عدالتوں کے بائیکاٹ کے باعث سینکڑوں مقدمات کی سماعت نہ ہوسکی۔ دور دراز سے آنے والے سائلین نئی تاریخ ملنے پر گھروں کو روانہ ہوگئے اوردن بھر عدالتوں میں سناٹا چھایا رہا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں