آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار19؍ربیع الاوّل 1441ھ 17؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اگست ۱۹۴۷ میں پاکستان کا قیام ان معنوں میں ایک منفرد واقعہ تھا کہ اس زمانے میں دنیا کے مختلف خطوں میں جو دیگر ممالک آزاد ہوئے وہ پنجۂ غلامی میں جانے سے پہلے بھی ایک ملک کی حیثیت سے اپنا جداگانہ وجود رکھتے تھے ۔ ان ملکوں نے آزادی کی تحریکیں چلائیں اور کامیابی کے بعد اپنے سابقہ تشخص کو دوبارہ حاصل کرلیا۔ ان ممالک کے برعکس پاکستان ۱۹۴۷ سے پہلے کبھی بھی ایک ملک کی حیثیت سے اپنا جداگانہ تشخص نہیں رکھتا تھا۔ پاکستان میں شامل علاقے برصغیر کا حصہ تھے اور برصغیر پر ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی فوج کے ذریعے ایک سو سال کے عرصے میں اپنا قبضہ مکمل کرکے اس کو سلطنت برطانیہ کے سپرد کردیا تھا۔ ۱۸۵۷ ء میں یہ قبضہ مکمل ہوا اور اس کے ساتھ ہی انگریزی استعمار کے خلاف برصغیر کے طول و عرض میں آزادی کے لیے آوازیں اور تحریکیں اٹھنا شروع ہوئیں۔۱۸۵۷ ء سے ۱۹۴۷ء تک کے نوے سال کے عرصے میں مسلم سیاسی شناخت ایک جداگانہ اور نمایاں پروگرام کے طور پر اجاگر ہوئی جس کے واضح سیاسی اور اقتصادی عوامل موجود تھے۔ انگریزی استعمار کی تعمیر و تشکیل کے دوران ابتدا ہی میں یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ اب جب کہ پہلی مرتبہ ہندوستان میںاستعماری مقاصد ہی کے تحت نمائندہ اداروں کا قیام عمل میں آرہا ہے اور ساتھ ہی ایسی انتظامی اور اقتصادی پالیسیاں متعارف کی جارہی ہیں جن کے نتیجے میں شہری علاقوں میں نئی سرکاری زبان یعنی انگریزی میں دسترس رکھنے والوں کی اہمیت اجاگر ہورہی ہے اور دیہی علاقوں میں ایک نئی اقتصادی اشرافیہ وجود میں آرہی ہے۔ ان نئے رجحانات سے خود کو لاتعلق اور غافل نہیں رکھا جاسکے گا۔ ان دونوں سماجی طبقات کے لیے ضروری تھا کہ نئے وجود میں آنے والے نمائندہ اداروں تک پہنچ حاصل کریں تاکہ اپنے طبقات کے مفادات کا تحفظ کرسکیں۔ یہ اسی مرحلے پر ہوا کہ مسلمانوں کے بااثر طبقات کو پہلی مرتبہ ہندوستان کی مجموعی آبادی میں اپنے اقلیت ہونے کا شدت کے ساتھ احساس ہوا۔ اس احساس کا اولین اظہار سرسید احمد خان کی تحریروں میں ہوا جبکہ بعد میں مسلم سیاسی قیادت کا بڑا حصہ اور ۱۹۰۶ ء میں بننے والی مسلم لیگ اس احساس کے ترجمان بنے۔

قائداعظم محمد علی جناح ایک جدید ذہن کے حامل سیاستدان تھے۔ انہوں نے وکالت کی تعلیم کی غرض سے جو عرصہ انگلستان میں گزارا وہ ان کے ذہن کی تشکیل اور ان کے سیاسی تصورات کی تعمیر میں بہت ممد و معاون ثابت ہوا۔ انگلستان میں اپنے قیام کے دوران وہ لبرل سیاسی مفکرین کے خیالات سے متاثر ہوئے ۔انہوں نے برطانوی پارلیمانی نظام کا تفصیلی مطالعہ کیا ۔ساتھ ہی انہوں نے اس نظام کی داخلی حرکیات کو بھی سمجھنے کی کوشش کی۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ برطانیہ میں مذہبی مناقشات کو حل کرنے کی غرض سے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور یہ کہ ریاست نے خود کو مذہبی امور کے حوالے سے مکمل طور پر غیر جانبدار بنا کر اور ساتھ ہی مذہبی آزادیوں کی ضمانت فراہم کرکے معاشرے کوکس طرح دائمی امن سے ہمکنار کردیا ہے۔ہندوستان واپسی پر قائداعظم نے جب عملی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو ابتدا ہی میں ایک بہت بڑا سوال ان کے سامنے آکھڑا ہوا۔ ہندوستان میں مسلمان ایک اقلیت کی حیثیت رکھتے تھے جب کہ کوئی نو دس صدیوں تک مسلمان بادشاہ ہندوستان پر حکمرانی کرتے رہے تھے۔ اس پورے عرصے میں ہندوستان کے مسلمانوں میں دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کا رجحان بھی موجود رہا تھا جب کہ اپنے مذہبی معاملات میں وہ اپنے علیحدہ طرز فکرو عمل کے بھی حامل رہے تھے۔ یہ دونوں رجحانات ہمیشہ ہی ایسے معاشروں میں پائے جاتے رہے ہیں جہاں ثقافتی تنوع موجود ہوتا ہے۔ ہندوستان بھی اس ثقافتی تنوع کا حامل تھا اور یہ کوئی غیر معمولی اور ہندوستان سے مخصوص بات نہیں تھی۔لیکن انگریز کی آمد کے بعد نمائندہ اداروں کے قیام کے نتیجے میں اب جب کہ قانون سازی اور انتظامی امور کی انجام دہی ان اداروں کے سپرد ہونے والی تھی تو پہلی مرتبہ ہندوستان کا ثقافتی تنوع سیاسی تقسیم کی بنیاد بننا شروع ہوا۔

قائداعظم کا خیال تھا کہ نمائندہ اداروں میں اگر جمہوری اصولوں کو ہندوستان کے معروضی حالات سے لاتعلق ہو کر نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتیجے میں ہندوئوں کی ثقافتی اکثریت ان کی سیاسی اکثریت کا راستہ ہموار کرے گی جب کہ مسلمان ثقافتی اقلیت ہونے کے ناطے سیاسی اقلیت بھی قرار پائیں گے۔ اس تضاد کے حل کے لیے انہوں نے جو حکمت عملی وضع کی اس کے دو نمایاں قانونی و سیاسی پہلو تھے ۔حکمت عملی کا ایک پہلو تو یہ تھا کہ قائداعظم کو معلوم تھا کہ جمہوری سیاسی نظاموں میں اس امر کی بھی گنجائش موجود ہوتی ہے کہ آبادی کے کسی حصے کی کمتر تعداد کو نسبتاً زیادہ نمائندگی دے کر اس کا اعتماد بھی حاصل کیا جاسکتا ہے اور اس کو قوم سازی کے عمل میں شریک بھی رکھا جاسکتا ہے۔ سیاسی زبان میں اس کو ایجابی اقدام (affirmative action) کہا جاتا ہے، یعنی ایسا اقدام جس کے ذریعے کسی حلقے کو اس کے منطقی حق سے زیادہ دے کر اس کے اعتماد کو جیتا جائے(اس کی ایک بہت اچھی مثال ہمارے موجودہ آئینی نظام سے دی جاسکتی ہے جس میں خواتین کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں عام انتخابات میں کھڑے ہونے کے حق کے باوجود اضافی طور پر سولہ فیصد نشستیں اس لیے دی گئی ہیں کیونکہ پاکستان کے پسماندہ اور مردانہ غلبے کے حامل معاشرے میں خواتین کے لیے عام انتخابات میںاس آزادی کے ساتھ مہم چلانا ممکن نہیں ہے جس آزادی کے ساتھ مرد حضرات اپنی مہم چلا سکتے ہیں)قائداعظم نے سیاسی میدان میں قدم رکھنے کے فوراً بعد ہی سے مسلمانوں کے لیے کسی بھی سیاسی دروبست میں ایک ایسی نمائندگی کی تجویز پیش کی جو ان کو انکی اقلیتی حیثیت کی بنا پرنظر انداز کردیے جانے سے محفوظ رکھ سکے۔ چنانچہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تقریباً چوبیس فیصد آبادی کے لیے وہ مرکزی قانون ساز اسمبلی میں تینتیس فیصد نمائندگی کی وکالت کرتے رہے۔

یہ۱۹۱۶ء کا لکھنو پیکٹ ہو یا ۱۹۲۷ء میں پیش کی جانے والی ’دہلی مسلم تجاویز‘ ، قائداعظم کے چودہ نکات ہوں یا لندن کی گول میز کانفرنس کے اجلاسوں میں پیش کردہ دلائل ، یا پھر بعد کے برسوں میں سامنے آنے والے سیاسی فارمولے ، کم و بیش ان تمام مراحل میں قائداعظم کی جانب سے مسلمانوں کے لیے ایک ایسی نمائندگی کے تناسب کی وکالت کی گئی جو ان کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرسکتی۔ انہوں نے پہلے مسلمانوں کو ایک اقلیت کے طور پر پیش نظر رکھتے ہوئے اس کے سیاسی حقوق کی وکالت کی ۔ اور بعد میں انہوں نے مسلمانوں کے ایک جداگانہ قوم ہونے کا موقف اختیار کیا تاکہ بین الاقوامی قوانین کی رو سے جو حقوق قوموں کو حاصل ہوتے ہیں، ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے بھی ان کی وکالت کی جاسکے۔ لیکن خواہ انہوں نے مسلمانوں کو ایک اقلیت سمجھا ہو یا ایک اگلے مرحلے پر ان کو قوم قرار دیا ہو، قائداعظم کا نکتہ نظر مذہبی منافرت پر مبنی اورفرقہ ورانہ(communal) کبھی بھی نہیں رہا۔ ان کے پورے سیاسی کیریئر کو اٹھا کر دیکھ لیں انہوں نے کبھی بھی ہندوئوں کے لیے تحقیر یا تذلیل کا کوئی ایک لفظ بھی استعمال نہیں کیا ۔ تحقیر اور تذلیل تو دور کی بات انہوں نے بارہا اپنی گفتگوئوں میں اور اپنے بیانات میں ان کے لیے احترام کے الفاظ استعمال کیے یہاں تک کہ ۷ مارچ ۱۹۴۷ کو انہوں نے میمن چیمبر میں اظہار خیال کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ:

’’ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں عظیم ہندو کمیونٹی اور اس سب کا جس کی کہ وہ علمبردار ہے،احترام کرتا ہوں۔ ان کا اپنا عقیدہ ہے ۔اپنا فلسفہ ہے ۔ اپنا عظیم کلچر ہے۔لیکن دونوں مختلف ہیں ۔ میں ہندوستان کے لیے لڑ رہا ہوں کیونکہ یہ مسئلے کا واحد حل ہے۔ اور دوسرا (حل، یعنی) متحدہ ہندوستان کا آئیڈیل اور پارلیمانی طرز حکومت پر استوارحکمرانی ایک لاحاصل خواب اور ناممکن بات ہے ‘‘۔دیکھا جاسکتا ہے کہ تقسیم ہندسے زرا قبل بھی جبکہ تقسیم نوشتۂ دیوار بن چکی تھی، قائداعظم کا موقف ہندوئوں سے منافرت پر نہیں بلکہ صرف اس اصول پر استوار ہوا تھا کہ اگر ماضی میں ان کے پیش کردہ تمام فارمولوں کے برعکس ایک ایسے پارلیمانی نظام پر اصرار جاری رکھا جارہا ہے جس میں اقلیت کے لیے تحفظات فراہم نہیں کیے جارہے تو یہ نظام ہندوستان میں ناقابل عمل ثابت ہوگا ۔

قائداعظم کی سیاسی جدوجہد اور ان کی حکمت عملی کا دوسرا اہم پہلو یہ تھا کہ بیسویں صدی کے تیسرے عشرے کے آغاز ہی سے انہوں نے یہ تجزیہ کرلیا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے اقلیت میں ہونے کا تدارک ایک تو ان کی بہتر نمائندگی کی صورت میں ہوسکتا ہے جبکہ دوسرا اہم راستہ یہ اختیار کیا جاسکتا ہے کہ مسلم اکثریت کے صوبوں کی تعداد بڑھوائی جائے ۔یہ پہلو ان کے ذہن میں اس لیے بھی اجاگر ہوا کیونکہ ۱۹۱۹ء میں متعارف ہونے والے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ جس کو مانٹیگو چیمس فورڈ ریفامز بھی کہا جاتا ہے ، کو ہندوستان کی سیاسی قیادت نے صرف جزوی طور پر تسلیم کیا تھا چنانچہ ان اصلاحات کا مرکز سے متعلق حصہ رد کردیا گیا جبکہ صوبوں سے متعلق حصے پر عملدرآمد شروع ہوگیا۔ معروف تاریخ دان ڈیوڈ پیج( David Page) نے بجا طور پر لکھا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں جبکہ مرکز کا نظام ہنوز وائسرائے کی کونسل کے ذریعے سے چلایا جارہا تھا، اور صوبوں میں انتخابات کا عمل شروع ہوچکا تھا ، اور یہ انتخابات بھی ہر تین سال بعد منعقد ہورہے تھے، ہندوستان کی سیاست عملاً صوبوںمیں منتقل ہوگئی۔تب مرکز سے متعلق آئین سازی کے کام کو کسی منزل تک پہنچانے کے لیے مذاکرات اور بحث و مباحثے میں حصہ لینے کا حق بھی انہی سیاسی جماعتوں اور قائدین کو حاصل ہوسکتا تھا جن کی صوبوں میں کوئی بنیاد پائی جاتی ہو ۔ چنانچہ قائداعظم اور مسلم لیگ کی پوری کوشش تھی کہ مسلم اکثریتی صوبوں کی تعداد بڑھوائی جائے تاکہ مسلم سیاسی آواز توانا اور مستحکم بن سکے اور مرکز میں خاطر خواہ حقوق حاصل کیے جاسکیں ۔ ۱۹۱۹ میں ہندوستان کے نیم وفاقی ڈھانچے میں مسلم اکثریتی صوبے صرف دو یعنی بنگال اور پنجاب تھے۔قائداعظم نے یہ حکمت عملی اختیار کی کہ سندھ کو بمبئی سے علیحدہ کرنے کا موقف اختیار کیا جائے ، ۱۹۱۹ کی اصلاحات کو سرحد تک پہنچانے کا مطالبہ کیا جائے جس کا مطلب یہ ہوتا کہ شمال مغربی سرحدی خطہ بھی علیحدہ صوبہ بن جاتا ۔ نیز انہوں نے بلوچستان کو بھی صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا ۔ گویا ان تین نئے صوبوں کے قیام کے نتیجے میں مسلم اکثریتی صوبوں کی تعداد پانچ ہوجاتی جو وفاقی بساط پر مسلمانوں کیا آواز کو کہیں زیادہ موثر بنانے کا وسیلہ بن سکتی تھیں۔ یہی نہیں بلکہ قائداعظم نے ہر ہر مرحلے پر صوبوں کی زیادہ سے زیادہ خود مختاری پر اصرار کیا۔

قائداعظم کی سیاسی حکمت عملی کے یہ دو پہلو جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ان کی جدوجہد کے سب سے نمایاں پہلو تھے ۔اور ان پر وہ ہمیشہ یک سو رہے۔اور یہ بھی تاریخی حقیقیت ہے کہ انہی دو پہلوئوں سے کانگریس اور اس کی قیادت کے اغماض اور انکار نے بالآخر ہندوستان کی تقسیم کی راہ استوار کی۔ کانگریس کسی طور مسلمانوں کو ایک بہتر سیاسی و آئینی نمائندگی دینے پر آمادہ نہیں تھی ۔ ساتھ ہی کانگریس کے نظریہ سازوں اور عمائدین کو یہ بات کسی طور قبول نہیں تھی کہ وہ صوبائی خود مختاری کے اس دائرہ کار کو تسلیم کرتے جس کا مطالبہ قائداعظم اور مسلم لیگ کر رہے تھے۔ تقسیم ہند سے زرا قبل کانگریس کی صفوں میں اس موضوع پربڑا اختلاف رہا کہ کیاہندوستان کے اتحاد کی قیمت مسلم صوبوں کو ان کی مطلوبہ خودمختاری دے کر ادا کر دینی چاہیے۔ کانگریس کا ایک بڑا حلقہ جس کی قیادت ولبھ بھائی پٹیل کر رہے تھے اور جس کو کانگریس کے ہمنوا صنعتی و تجارتی طبقے کی پشت پناہی بھی حاصل تھی ، کا خیال تھا کہ مستقبل میں ہندوستان میں صنعتی و تجارتی سرمائے کے فروغ کے لیے ایک مضبوط مرکز کی ضرورت پیش آئے گی۔ یہ مضبوط مرکز اس حلقے کے نقطہ نظر سے ہندوستان کی وحدت کے لیے بھی ناگزیر تھا۔اس حلقے کی یہی سوچ تھی جس پر بعد ازاں جواہر لعل نہرو کو بھی قائل کیا گیا اور پھر پٹیل اور نہرو نے مل کر گاندھی کو آمادہ کیا کہ مسلم اکثریتی صوبوں کو الگ کرنے کی قیمت ادا کردی جائے اور باقی ماندہ ہندوستان کومستقبل میں ایک مضبوط مرکز کے تحت چلایا جائے ۔ واضح رہے کہ ہندوستان کا آئین ملک کو ایک وفاق کے بجائے ’یونین ‘ قرار دیتا ہے۔ تقسیم ہند سے قبل مسلم لیگ اور قائداعظم کی سیاسی جدوجہد کا یہ پس منظر اس امر کو واضح کرنے کے لیے کافی ہونا چاہیے کہ اس جدوجہد سے مستقبل کے لیے کس قسم کی سوچ اور سیاسی افکار کی نمو ہوتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ قیام پاکستان کے بعد اگر ماضی کی فکر سے استنباط کی کوئی اہمیت ہے اور ہم اپنے ماضی سے کچھ سبق حاصل کرنا چاہتے ہیں تو وہ دو بنیادی سبق ہیں۔ قیام پاکستان کے مرحلے پر قائداعظم نے اپنی ۱۱ /اگست ۱۹۴۷ کی تقریر میں ( جس کو بدقسمتی سے بعض لوگوں نے اپنی چِڑھ بنا لیا ہے، اور ان کا بس نہیں چلتا کہ اس تقریر کو کسی طرح اوراقِ تاریخ سے حذف کردیں) بہت واضح الفاظ میں ریاست کی غیر جانبداری کے جس اصول کو انتہائی موثر انداز میں پیش کیا تھا اس کا مقصد یہی تھا کہ مذہبی تنوعات اور اختلافات سے قطع نظر ایک ایسی پاکستانی قوم کی تشکیل کی جائے جس میں سب شہریوں کو برابری کا یکساں احساس حاصل ہو۔ یہ خیال کسی بھی جدید قومی ریاست کے ریاستی اور سیاسی درو بست میں جاری و ساری ہوتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف ملکوں میں رائے عامہ اسی نکتے پر متحد ہورہی ہے کہ شہریوں کی برابری کا اصول ایک ایسا ارفع اصول ہے جس کو یقینی بنائے بغیر نہ تو کوئی ملک اپنے استحکام کی ضمانت حاصل کرسکتا ہے اور نہ ہی ترقی کی منزلیں طے کرنے کے قابل ہوسکتا ہے ۔

قیام پاکستان کے بعد اس اصول پر عملدرآمد کیا جاتا تو ہم بہت سے ان بحرانوں سے بچ سکتے تھے جن سے ہمیں گزشتہ بہتر برسوں میں سامنا کرنا پڑا۔ معاشرے میں مذہبی رواداری اور ریاست و آئین کی سطح پر شہریوں کی برابری اگر عملی صورت اختیار کرتی تو آج پاکستانی معاشرے کا شیرازہ اس طرح بکھرا نظر نہ آتا جس طرح یہ نظر آتا ہے۔ہم نے اپنی گزشتہ سات عشروں پر پھیلی ہوئی تاریخ میں مذہب کے مقدس نام پر ظلم و ستم کے جو بازار گرم ہوتے دیکھے ہیں ، جس طرح ایک ایک پرتشدد واقعہ میں کئی کئی سو افراد لقمہ اجل بنے ہیں ،یہاں تک کہ بچوں کے اسکولوں پر حملے کیے گئے ہیں اور بچیوں کے تعلیمی ادارے مسمار کرنے سے بھی احتراز نہیں کیا گیا، یہ سب صرف اسی لیے ممکن ہوا کہ قیام پاکستان سے قبل اور عین آزادی کے موقع پر شہریوں کی برابری کے جن اصولوں کا ذکر کیا جاتا رہا ان کو ہم نے نہ تو اپنی حیاتِ اجتماعی کا حصہ بنایا اور نہ ہی ریاست نے اس چیز کو اپنے کارِ منصبی میں شامل کرنا مناسب سمجھا۔ تحریک آزادی کا دوسرا بہت اہم نظری و سیاسی اصول جس کے گرد مسلم لیگ اور قائداعظم کی سیاست تقریباً تین عشروں تک گھومتی رہی، صوبائی خود مختاری کا اصول تھا۔ قیام پاکستان سے قبل جبکہ ابھی ایک علیحدہ مملکت کا تصور اجاگر نہیں ہوا تھا اور بات متحدہ ہندوستان کے تناظر میں کی جارہی تھی، اس وقت مسلم اکثریتی صوبوں کی تعداد اور خود مختاری کا تناسب ایک اہم موقف تھا۔ لیکن پھر جب علیحدہ مملکت کی تشکیل موضوع بنی تب صوبوں کو ایک مرتبہ پھر غیر معمولی اہمیت حاصل ہوئی کیونکہ یہ مسلم اکثریتی صوبوں ہی کا فیصلہ تھا کہ وہ متحدہ ہندوستان میں رہنے کے بجائے اپنا ایک الگ وفاق تشکیل دیں گے۔ یہی نہیں بلکہ جو نئی مملکت عالم وجود میں آئی وہ اپنے جوہر میں ایک کثیر الثقافتی اور کثیر اللسانی مملکت تھی جس کے باشندوں کی اکثریت مذہب کے رشتے میں جڑے ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے جداگانہ تہذیبی و ثقافتی اثاثے کو بھی بے حد عزیز رکھتی تھی۔یہی نہیں بلکہ پاکستان میں شامل ہونے والے خطوں نے ماضی میں سیاسی جدوجہد کی بھی اپنی مخصوص تاریخیں رقم کر رکھی تھیں۔ ہمارا یہ سارا تہذہبی و ثقافتی اور تاریخی اثاثہ ہمارے ملک کو ایک عظیم الشان مملکت بنا سکتا تھا لیکن بدقسمتی سے ہماری بیشتر حکومتوں نے شدید مرکزیت پسندانہ نظاموں کے ذریعے مملکت کا نظام چلانے پر اصرار کیا۔ اس کا نتیجہ قومی وحدت کی تعمیر نہ ہوسکنے اور علیحدگی پسند رجحانات کے فروغ کی شکل میں سامنے آیا۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ پاکستان اپنی آزادی کے محض چوبیس سال بعد ایک ایسے صوبے سے محروم ہوا جو آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ تھا۔ یہی نہیں مختلف اوقات میں ملک کے دوسرے صوبے بھی وقتاً فوقتاً عتاب کا شکار ہوتے رہے ہیں ۔ یہ امر واقعہ ہے کہ اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود ۱۹۷۳ء کے آئین نے کسی نہ کسی حد تک صوبوں کے درمیان اتحاد کی ایک بنیاد فراہم کی ہے جس کو مضبوط بنانے کی ایک کوشش ۲۰۱۰ء میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے کی گئی۔لیکن یہ بات بھی ہمیں پیش نظر رکھنی چاہیے کہ آئین میں درج شقیں کتنی ہی متاثر کن کیوں نہ ہوں، اصل چیز ان شقوں پر عملدرآمد ہے۔ اس زاویے سے دیکھیں تو ملک میں پائی جانے والی صورتحال کسی بھی لحاظ سے قابل رشک قرار نہیں دی جاسکتی۔ اور اب جبکہ ہم اپنی آزادی کی سالگرہ منا رہے ہیں تو بہت اچھا ہو کہ ہم کچھ وقت نکالیں اور اپنے ماضی کو تازہ ذہن کے ساتھ دیکھنے کی کوشش کریں۔ اپنے ماضی کا ایک غیر جذباتی اور معروضی جائزہ یوم آزادی کا ایک اچھا مصرف ہوسکتا ہے۔ ماضی کی اپنی کامیابیوں پر خوش ہونا بالکل جائز اور مناسب ہے لیکن ساتھ ہی اپنی ناکامیوں کا ادراک اور ان کا تجزیہ بھی بہت ضروری ہے۔ کم از کم از مضمون میں اس طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہم اپنے گزشتہ سات عشروں کے بہت سے عذابوں سے بچ سکتے تھے اگر ہم پاکستان کو ایک ایسی جدید ریاست بنانے کے راستے پر بڑھ جاتے جو شہریوں کی برابری کے اصول پر استوار ہوتی اور ریاست نے بلا وجہ مذہبی مناقشات میں ٹانگ اڑانے کی کوشش نہ کی ہوتی۔ یہی نہیں بلکہ پاکستان ایک متحد اور مستحکم مملکت بن سکتا تھا اگر ہم نے اپنے صوبوں پر شک کرنے کے بجائے ان پر اعتماد کیا ہوتا اور ان میں باہمی اعتماد کی فضا کو فروغ دینے کے لیے سیاسی اور اقتصادی اقدامات کیے ہوتے۔ مستقبل کے حوالے سے بھی یہی دو نکات توجہ کے مستحق ہیں ۔کیا ہی اچھا ہو کہ آج ہم جشن آزادی کے موقع پر چند لمحے اس موضوع پر سوچنے کے لیے بھی نکال سکیں۔

(مضمون نگار انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل رسرچ کے ڈائریکٹر ہیں)

اسپیشل ایڈیشن سے مزید