آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار19؍ربیع الاوّل 1441ھ 17؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ویسٹرن سڈنی یونیورسٹی، ہارورڈ یونیورسٹی، کنگز کالج، آکسفورڈ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف مانچسٹر کے محققین پر مشتمل ایک بین الاقوامی ٹیم اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ انٹرنیٹ کا بہت زیادہ استعمال نہ صرف انسان کی ادراکی صلاحیتوں پر خطرناک اور طویل مدتی اثرات مرتب کرنے کا باعث بن رہا ہے بلکہ ممکنہ طور پر اس کے نتیجے میں انسان کے دماغ میں تبدیلیاں بھی رونما ہورہی ہیں جیسے توجہ مرکوز کرنے، یادداشت اور سماجی و باہمی تعلقات پیداکرنے کی صلاحیتوں میں کمی آنا۔

یہ اپنی نوعیت کی اولین تحقیق ہے جو نفسیات کے مایہ ناز بین الاقوامی جرنل ’ورلڈ سائیکائٹری‘ میں شائع ہوئی ہے۔ ایک عرصے سے یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال انسان کی دماغی اور نفسیاتی صحت پر منفی اثرات مرتب کرنے کا باعث ہے۔ اس تحقیق میں، اسی نظریے کی حقیقت کو جانچنےکے لیے محققین نے نفسیات، دماغی امراض اور نیورواِمیجنگ کے شعبوں میں ہونے والی حالیہ تحقیق کو مدِنظر رکھا ہے۔

این آئی سی ایم ہیلتھ ریسرچ انسٹیٹیوٹ، ویسٹرن سڈنی یونیورسٹی کے سینئر ریسرچ فیلو اور یونیورسٹی آف مانچسٹر کے اعزازی ریسرچ فیلو ڈاکٹر جوزف فرتھ، اس تحقیق کے پروجیکٹ لیڈر ہیں۔ ڈاکٹر فرتھ نے متذکرہ بالا شعبہ جات میں ہونے والی حالیہ تحقیق کے شواہد کو اِکٹھا کرکے اس نظریے کو سائنسی بنیادوں پر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ انٹرنیٹ کس طرح دماغی ساخت، اس کے کام کرنے اور ادراک کی صلاحیتوں کے پروان چڑھنے پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ڈاکٹر فرتھ کہتے ہیں، ’’اس تحقیق کے بنیادی نتائج یہی بتاتے ہیں کہ انٹرنیٹ کا بہت زیادہ استعمال دماغ کے کئی کاموں کو متاثر کرسکتا ہے، مثلاً انٹرنیٹ کے بے تحاشہ اور نہ ختم ہونے والے نوٹیفیکیشن اور پروموشنز (پرامپٹز) ہماری توجہ کو دو حصوں میں تقسیم کیے رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہماری ایک کام پر توجہ مرکوز کرنے کی استعداد بتدریج کم ہوتی جاتی ہے۔

’’مزید برآں، آن لائن دنیا ہمیں منفرد انداز میں بڑے پیمانے پر ایسے حقائق اور معلومات مہیا کرتی ہے، جو ہروقت ہماری دسترس میں اور صرف ایک انگلی سے اسکرین کو چھونے کی دوری پر ہوتی ہیں۔ چونکہ، عملی طور پر دنیا بھر کے حقائق اور معلومات محض انگلیوں کی جنبش پر ہیں، اس صورتحال میں یہ خطرہ پیدا ہوچکا ہے کہ ہم جس طرح دماغ میں معاشرے کے حقائق اور معلومات کو اِکٹھا کرتے ہیں اور اسے جتنی اہمیت دیتے ہیں تو اس میں تبدیلی آجائے‘‘، وہ مزید کہتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ آن لائن ٹیکنالوجیز کے استعمال میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے، جوکہ کئی والدین اور اساتذہ کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی 2018ءمیں جاری کردہ گائیڈ لائنز میں 2سے 5سال تک کی عمر کے بچوں میں اسکرین ٹائم کو زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ تک محدود رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ البتہ، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کے دماغ پر اثرات کی زیادہ تر تحقیق بالغ افراد پر کی گئی ہے اور بچوں پر اس کے اثرات جاننے کے حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر فرتھ کہتے ہیں، ’’ہرچند کہ بچوں پر انٹرنیٹ کے حد سے زیادہ استعمال کے حوالے سے مزید تحقیق درکار ہے لیکن اس کے واضح منفی اثرات یہ ہیں کہ بچوں کو اس حد تک بہت زیادہ انٹرنیٹ استعمال نہیں کرنے دینا چاہیے کہ جس کے بعد بچوں کے پاس سماجی و باہمی روابط قائم کرنے اور ورزش کرنےکے لیےہی وقت نہ بچے‘‘۔

حد سے زیادہ انٹرنیٹ کے استعمال اور اسمارٹ فونز یا کمپیوٹرز تک رسائی محدود کرنے کے لیے کئی ایپس اور سوفٹ ویئر پروگرامز دستیاب ہیں، جن کا استعمال کرتے ہوئے والدین اور نگران، ذاتی ڈیوائسز پر گزارے گئے وقت اور مواد پر نظر رکھنے کے لیے ’خاندان دوست‘ (فیملی فرینڈلی) قوانین لاگو کرسکتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ بھی اہم ہے کہ والدین اپنے بچوں سے اس موضوع پر گفت و شنید کریں کہ آن لائن دنیا ان کی زندگیوں پر کس طرح اثرانداز ہورہی ہے (مثبت یا پھر منفی)۔ اس طرح یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ والدین بروقت ضروری مداخلت (طبی یا جذباتی)کو یقینی بناتے ہوئے اپنے بچوں کو آن لائن تشدد، اسکرین کی لت لگنے کا رجحان پروان چڑھنے اور آن لائن استحصال سے محفوظ رکھ سکیں گے۔

اس حوالے سے تحقیق کے سینئر مصنف اور این آئی سی ایم ہیلتھ ریسرچ انسٹیٹیوٹ، ویسٹرن سڈنی یونیورسٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر پروفیسر جیروم سارِس کہتے ہیں،’’انٹرنیٹ کے ذریعے اشتعال انگیز (جسمانی، جذباتی اور جنسی) مواد کی بھرمار اور اس کے نتیجے میں ایک کام کو انجام دینے کے لیے مطلوب توجہ مرکوز کرنے کی سُکڑتی استعداد کئی لحاظ سے باعث تشویش ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے معاشروں میں انسٹاگرام یا سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ بڑھتا استعمال، دماغ کی ساخت اور اس کے کام کرنے کی صلاحیت کو بدلنے کے ساتھ ساتھ ممکنہ طور پر ہماری سماجی ساخت کو بھی بدل کر رکھ دے گا‘‘۔

اس صورتحال کو کس طرح بدلا جاسکتا ہے، اس حوالے سے پروفیسر جیروم کہتے ہیں، ’’انٹرنیٹ کے استعمال کے ممکنہ طور پر شدید منفی اثرات سے بچنے کے لیے غوروفکر اور توجہ مرکوز کرنے کی مشقیں کرنی چاہئیں۔ مزید برآں، اس سلسلے میں ’انٹرنیٹ ہائجین تکنیکس‘ اختیار کرنا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتی ہیں، جیسے آن لائن ملٹی ٹاسکنگ سے پرہیز کرنا، سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ہر تھوڑی دیر بعد یا دن میں کئی بار غیر ارادی اور بے مقصد طور پر’چیک اِن‘ کرنے میں کمی لانا اور مخصوص وقت پر خود کو روزانہ آن لائن سرگرمیوں میں مشغول کرنے کی عادت سے چھٹکارا پانا وغیرہ۔ اس کے بجائے ذاتی طور پر باہمی گفت و شنید کو زیادہ موقع دیا جانا چاہیے‘‘۔

پروفیسر ڈاکٹر فرتھ بات سمیٹتے ہوئے کہتے ہیں، ’’اب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ انٹرنیٹ نے سماجی گفت و شنید کے مواقع اور سماجی تعلقات قائم کرنے کے مقاصد کو انتہائی حد تک ختم کردیا ہے۔ اس لیے، اب یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہوگیا ہے کہ آن لائن دنیا ہمارے سماجی رویوں کو کس طرح بدل رہی ہے اور اس کے کون سے پہلو ہمارے رویوں کو بدل سکتے ہیں اور کون سے نہیں‘‘۔

تعلیم سے مزید