آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 22؍محرم الحرام 1441ھ 22؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت نے کشمیر تنازع کے پیش نظر نیشنل سیکورٹی کونسل اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی سفارش پر 9اگست 2019سے پاک بھارت تعلقات محدود کرتے ہوئے اسرائیل جس سے ہمارے کوئی تجارتی تعلقات نہیں، کے برابر کر دیئے ہیں اور اس طرح بھارت سے واہگہ بارڈر سمیت تمام تجارت معطل کردی گئی ہے جبکہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے خشک میوہ جات سے بھرے ٹرکس کو بھی بھارت داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔

قارئین! پاکستان اور بھارت کی باہمی تجارت 2018میں تقریباً 2.3ارب ڈالر تھی جو 2019میں کم ہوکر 2ارب ڈالر ہو چکی ہے جس میں بھارت سے پاکستان ایکسپورٹ 1.6ارب ڈالر اور پاکستان سے بھارت ایکسپورٹ صرف 0.4ارب ڈالر ہے۔ اس طرح پاک بھارت تجارت معطل ہونے سے پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو 4گنا زیادہ نقصان پہنچے گا۔ مذکورہ بالا اعداد و شمار پاکستان اور بھارت کے مابین براہِ راست تجارت کے ہیں جبکہ بھارت سے دبئی کے راستے بھی تجارت ہورہی ہے جو آفیشل اعداد و شمار میں شامل نہیں۔ بھارت سے ہم کاٹن، ڈائز کیمیکل، مشینری، پلاسٹک آرٹیکلز، آئرن اسٹیل، فارما مصنوعات، جپسم، آئل سیڈز، ٹماٹر اور پیاز وغیرہ امپورٹ کرتے ہیں جبکہ بھارت پاکستان سے چونے کا پتھر، نمک، گندھک، فروٹس، فیبرک(لان)، سیمنٹ، کھجوریں، چھوہارے، خشک میوہ جات، لیدر اور کاٹن امپورٹ کرتا ہے۔ پاک بھارت تجارت کی معطلی کی شب وزارتِ تجارت کے ایڈیشنل سیکریٹری طارق ہدیٰ، چیف کلکٹر کسٹم واصف میمن اور کلکٹر اپریزمنٹ ایسٹ ندیم میمن سے میری ملاقات ہوئی جنہوں نے بتایا کہ حکومتی ہدایات کے تحت اب ہم بھارت سے آیا ہوا کوئی بھی کنٹینر ریلیز نہیں کر سکتے جس پر میں نے انہیں بتایا کہ اِن کنٹینرز پر شپنگ کمپنیاں تقریباً 150ڈالر یومیہ ڈیمرج چارج کرتی ہیں۔ اس سلسلے میں فیڈریشن نے وزارتِ تجارت سے اِن کنٹینرز کے ریلیز کیلئے کوششیں کیں جس کے نتیجے میں آج وزارتِ تجارت سے ایسے کنٹینرز جو 9اگست 2019سے پہلے یا بینک کی LCکے تحت امپورٹ کئے گئے ہیں، کو ریلیز کردیا جائے گا۔

بھارت نے پاکستان کو 1996ءسے ’’انتہائی پسندیدہ ملک‘‘ (MFN)کا درجہ دے رکھا تھا جسے مودی سرکار نے پلوامہ واقعہ کے بعد 15فروری 2019ءکو واپس لے لیا اور پاکستانی مصنوعات پر 200فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کر دی جس سے پاکستان سے بھارت ایکسپورٹ متاثر ہوئی۔ WTOکے تحت ’’انتہائی پسندیدہ ملک‘‘ (MFN)کا درجہ دو ممالک کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ انکی اشیاءکی مقامی مارکیٹ میں تفریق نہیں کرینگے لیکن MFNکے اردو ترجمہ ’’انتہائی پسندیدہ ملک‘‘ سے پاکستان اور بھارت میں کچھ غلط تاثر لیا جاتا ہے۔ اگر ہم دنیا کے دیگر علاقائی تجارتی بلاک کا جائزہ لیں تو ثابت ہوتا ہے کہ نارتھ امریکن بلاک (NAFTA)کی آپس میں تجارت 68فیصد، یورپی یونین (EU)ممالک کی باہمی تجارت 53فیصد، آسیان (ASEAN)ممالک کی تجارت 26فیصد جبکہ بدقسمتی سے ہمارے جنوبی ایشیا کے ممالک (SAARC)کی تجارت صرف 5فیصد ہے جس کی بڑی وجہ سارک کے دو بڑے ممبر ممالک پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدہ تعلقات ہیں۔

پیپلزپارٹی کےدور حکومت میں وزیراعظم کے مشیر برائے ٹیکسٹائل کی حیثیت سے پاک بھارت تجارت بڑھانے اور بھارت کو ’’انتہائی پسندیدہ ملک‘‘ کا درجہ دینے کے سلسلے میں میری اس وقت کے وزیر تجارت مخدوم امین فہیم کیساتھ دہلی میں بھارتی ہم منصب خاتون وزیر ٹیکسٹائل اور وزیر تجارت سے کئی اہم میٹنگز ہوئیں جس کے بعد بھارت نے WTOمیں یورپی یونین سے پاکستان کو ڈیوٹی فری جی ایس پی پلس درجہ دینے پر اپنے اعتراضات واپس لے لئے اور اس طرح پاکستان کو یورپی یونین سے 10سال کیلئے جی ایس پی پلس کا درجہ دیا گیا جس کے تحت پاکستان یورپی یونین کے 27ممالک کو اپنی اشیا ڈیوٹی فری ایکسپورٹ کر سکتا ہے۔ اسی دوران پاک بھارت تجارت کے مابین کسٹم ڈیوٹی کے علاوہ دیگر نان ٹیرف بیریرز(NTB)جن میں کوالٹی کنٹرول سرٹیفکیشن، شپمنٹ انسپکشن، روڈ اور ریلوے کا محدود انفراسٹرکچر، سرحدی پابندیاں اور امپورٹ لائسنس کا اجرااور تجدید شامل ہیں، میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کیلئے متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے سربراہان کیساتھ میری دہلی میں میٹنگز ہوئیں۔ ان رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے میری زیادہ تر تجاویز مان لی گئی تھیں جس کے بعد بھارتی وزیر تجارت آنند شرما اسلام آباد اور کراچی آئے مگر وفاقی حکومت نے بھارت کو ’’انتہائی پسندیدہ ملک‘‘ کا درجہ دینے کے فیصلے کو موخر کردیا جس پر بھارتی وزیر تجارت نے مجھ سے کافی ناراضی کا اظہار بھی کیا لیکن آج یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بھارت پاکستان کیساتھ کبھی بھی اپنے سفارتی اور تجارتی تعلقات بڑھانے کیلئے سنجیدہ نہیں رہا۔ بھارت، پاکستان کے زمینی راستے افغانستان سے تجارت کا خواہشمند ہے لیکن پاکستان بھارت کو یہ اجازت دینے پر آمادہ نہیں۔

پاکستانی صنعتکاروں اور تاجروں سے درخواست ہے کہ وہ پاکستان سے بھارت ایکسپورٹ کی جانیوالی برآمدی اشیاء کی ایکسپورٹ کیلئے نئی منڈیاں تلاش کریں۔ اسی طرح بھارت سے امپورٹ کی جانے والی اشیا کو دوسرے ممالک سے امپورٹ کیا جائے تاکہ ایکسپورٹ آرڈرز کی بروقت شپمنٹ کی جاسکے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (FPCCI)نے تنازع کشمیر پر فیڈریشن ہائوس میں پورے پاکستان کے چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کے حالیہ اجلاس جس میں میرے علاوہ فیڈریشن کے صدر انجینئر دارو خان اچکزئی، نائب صدور، بزنس کمیونٹی کے لیڈر ایس ایم منیر اور خالد تو اب نے بھی شرکت کی، میں ایک قرارداد میں پاکستان کی بزنس کمیونٹی نے حکومت اور افواج پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے پاک بھارت تجارت معطل کرنے کا خیر مقدم کیا ہے۔ پاکستان کی بزنس کمیونٹی آزمائش کی اس گھڑی میں حکومت اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے تیار ہے کیونکہ ملکی سلامتی ہر چیز پر مقدم ہے۔

ادارتی صفحہ سے مزید