آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار15؍محرم الحرام 1441ھ 15؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی کا ایک کوچہ جو ’’اچھی قبر‘‘ کے نام سے معروف ہے

اقبال اے رحمن مانڈویا

یہ کراچی شہر کا پرانا علاقہ ہے، جو میٹھادر کہلاتا ہے، میٹھادر میں ہی ایک جگہ بمبئی بازار ہے، جس کا ایک ٹکڑا" اچھی قبر " کے طورپر معروف ہے بالکل ایسے جیسے دلی میں ایک ٹکڑے کا نام "چتلی قبر " ہے،سامنے حضرت نور شاہ غازی کے مزار ہے،حضرت نور شاہ کے شجرہ نصب سے کوئی بھی واقف نہیں، کراچی اور خاص طور پر اس علاقے میں ایسے بہت سارے مزارات ہیں جنکی کوئی تحقیق نہیں، لہذہ مزارات نور شاہ، قرار شاہ، بھورا بادشاہ، مراد شاہ، چھٹن شاہ جیسے صفاتی ناموں سے مشہور ہیں ۔جس سڑک پر یہ مزار واقع ہے اس کا نام آتما رام پری تم داس روڈ تھا بعد میں سر آدم جی داؤد روڈ کردیا گیا۔

مزار سے ملحق سڑک ایک مصروف ترین تنگ شاہراہ ہے جس کا نام اولڈ ڈسپنسری روڈ ہے۔اس سڑک پر ہوزری، گارمینٹس اور سامان استراحت کا کا کاروبار ہوتا ہے، مگر کہلاتی یہ ہوزری مارکیٹ ہی ہے، درمیان میں ایک چوراہا آتا ہے،جس کے دائیں جانب جوڑیا بازار، بائیں جانب کاغذی بازار ہے، چوک کراس کریں تو کراچی کا پہلا اور قدیم ترین صرافہ بازار ہے، یہ ایک کشادہ سڑک پر جاکر ختم ہوتا ہے،

جہاں بالکل سامنے ککری گراؤنڈ ہے، جہاں محترمہ بینظیر بھٹو کی شادی ہوئی تھی۔مزار کے عقبی علاقے میں کبھی چپل کی بے شمار دکانیں تھیں اور یہ علاقہ 70 کی دہائی تک چپل بازار ہی کہلاتا تھا۔

یہ قدیم علاقہ ایک چٹان پر قائم تھا، اس لئے یہاں راستے پتھروں کے تھے اور جابجا سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں ۔وقت گزرنے کے ساتھ سیڑھیاں ختم ہوئیں اور کہیں چٹان کٹ گئی تو کہیں سلوب نما سڑکیں بن گئیں، علاقے کا پارینہ تاثر خواب و خیال ہوا ۔جب یہاں سیڑھیاں اور پلیٹ فارم نما راستے ہوتے تھے مولانا ایدھی کے دواخانہ کے سامنے اندر کی طرف ایک گنجان علاقے کے ایک چبوترے پر خاتون بیٹھی رہتی تھیں،سرخ و سفید رنگت اور متناسب جسم کی حامل یہ خاتون بظاہر انگریز تھیں کیونکہ ان کے بال ہمیشہ سے اس طرح کٹے ہوئے ہوتے تھےجو انگریز خواتین کا شعار تھا عرف عام میں یہ بے بی بال کہلاتے ہیں ۔

یوں تو وہ باؤلی تھیں، مگر طبیعت میں شورش نہ تھی بس اپنی مخصوص جگہ حسرت و یاس کی تصویر بنی بیٹھی رہتی تھیں،تقسیم سے قبل اس علاقے میں ہندو آباد تھے جو اسطرح کے لوگوں کی مدد کرکے خوش ہوتے ہیں،

خوش قسمتی سے تقسیم کے بعد اس علاقے کو مسکن بنانے والے جوناگڑھ اور کاٹھیاواڑ سے آئے مہاجرین تھے جو اجڑے لوگوں کی خدمت کو خوشبختی سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس طرح یہ خاتون کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے میں مشکلات کا شکار نہ ہوئیں ۔

جوناگڑھ کے لوگوں، کچھی اور سندھی برادری کے نزدیک گورے کے لئے اچھے کا لفظ مروج تھا، یوں یہ گوری خاتون " اچھی " کے نام سے مشہور ہوگئیں، جب ان کا انتقال ہوا تو جہاں وہ بیٹھی رہتی تھیں وہیں ان کی قبر بنادی گئی جو اچھی عورت کی قبر کی مناسبت سے وقت گزرنے کے ساتھ’’ اچھی قبر " کہلائی اور یہ علاقہ اس نسبت سے اچھی قبر کے طور پر پہچانا گیا ۔ ہم نے اچھی کو تو نہیں دیکھا ،مگر اچھی قبر کو ضرور دیکھا تھا ۔

سنہ 1975 کے بعد افراط زر اور بڑھتی ہوئی آبادی کے سبب یہ علاقہ کاروباری طور پر گنجان ہونے لگا۔ڈویلپمینٹ کے ساتھ وہ قبر بھی کٹنگ میں گویا گردش ایام کے ساتھ تاریخ کے اوراق کا حصہ بن کر گم ہوگئی مگر علاقے کا نام اچھی قبر ہی رہا ۔

حضرت نور شاہ غازی کے مزار کے گنبد کا رنگ ایک عرصے تک سبز ہوا کرتا تھا۔بعد کے دنوں سفید رنگ سے آراستہ ہوا تو نئی نسل نے اس مزار کو اچھی قبر سے تعبیر کرلیا ۔

یہاں تحقیق نہیں چلتی سنی سنائی یا جو جی میں آئے چلتی ہے سو عرس کے دنوں میں جو بینر اور پمفلیٹ لگائے جاتے ان پر لکھا ہوتا ہے

" عرس سراپا قدس حضرت نور شاہ غازی المعروف اچھی قبر "

نہ خزاں میں ہے کوئی تیرگی نہ بہار میں کوئی روشنی

یہ نظر نظر کے چراغ ہیں کہیں بجھ گئے کہیں جل گئے

کولاچی کراچی سے مزید