آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر24؍جمادی الاوّل 1441ھ 20؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

گزشتہ روز برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم نے وزیراعظم بورس جانسن کی سفارش پر برطانوی پارلیمنٹ معطل کرنے کی منظوری دے دی جس کے بعد برطانوی پارلیمنٹ پہلی بار معطل ہو گئی۔ پارلیمنٹ کو معطل کرنا کوئی انوکھی بات نہیں ہے لیکن جس مقصد کے لئے یہ کیا جا رہا ہے وہ انوکھا ضرور ہے۔ اگر آپ برطانیہ کی خبریں فالو کرتے ہیں تو آپ کو پتا ہوگا کہ کئی سال سے وہاں بریگزٹ کا ہنگامہ چل رہا ہے۔ برطانیہ میں ریفرنڈم ہوا تھا جس میں عوام نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ برطانیہ یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کرے۔ لیکن اب معاملہ یہاں پھنس گیا ہے کہ یہ علیحدگی کس طرح حاصل کی جائے گی۔ یورپی یونین کا حصہ ہونے کا مطلب یہ تھا کہ برطانیہ پورے یورپ میں کسی بھی قسم کی ڈیوٹی کے بغیر تجارت کر سکتا تھا۔ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد تجارت بہت مشکل ہو جائے گی، اس لئے یورپی یونین چھوڑنے سے پہلے کسی نہ کسی معاہدے کی ضرورت تھی لیکن یہ معاہدہ برطانوی پارلیمنٹ سے پاس کرانے میں ناکامی کی وجہ سے سابق برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ اگر برطانیہ کسی معاہدے یا ڈیل کے بغیر یورپی یونین کو چھوڑتا ہے تو اس کی معیشت کو بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی جو برطانوی پارلیمنٹ کو بالکل منظور نہیں۔

بورس جانسن اور ان کی فکر کے حامل افراد یہ سمجھتے ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے، ڈیل ہو یا نہ ہو، برطانیہ کو یورپی یونین اب چھوڑنا ہی پڑے گی۔ پارلیمنٹ معطل کرنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ 31اکتوبر کو برطانیہ خود بخود یورپی یونین سے نکل جائے گا۔ اس طرح پارلیمنٹ کو نظر انداز کرکے بورس جانسن نے جمہوری نظام کی اسپرٹ کے خلاف ایک خطرناک قدم اٹھایا ہے جس سے برطانیہ میں جمہوریت کمزور ہوگی۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ کچھ کر سکے گی یا نہیں، یہ آنے والے دن ہی بتائیں گے۔

دوسری طرف امریکہ میں دیکھا جائے تو صدر ٹرمپ نے اب تک جو کیا ہے اور جو کچھ کر رہے ہیں، یہ بھی امریکی جمہوریت کے لیے کافی خطرناک ہے۔ مسلسل جمہوریت کا مطلب صرف ووٹ دے کر لیڈر ایلیکٹ کرنا نہیں ہوتا بلکہ جمہوریت کا اصل مطلب برابری، انسانی حقوق، آزادی خیال، انفرادی آزادی، انصاف، شفافیت اور حکمرانوں کی اکاؤنٹیبلٹی ہے۔ ٹرمپ نے نہ صرف میڈیا پر حملہ کرکے اس کو فیک نیوز کہنا شروع کیا بلکہ لوگوں کے انفرادی حقوق کو بھی متاثر کیا۔ صدر ٹرمپ نے لسانی بنیادوں پر نفرت کا بیج بویا اور یہ ہمیں دنیا بھر میں نظر آرہا ہے۔ اس کو فار رائٹ نیشنلزم(Far Right Nationalism) بھی کہا جاتا ہے، مختلف جگہوں پر اس کی زیادہ انتہا پسند شکل کو وائٹ سپرمیسی (White Supremacy) بھی کہا جاتا ہے۔ نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملہ ہو یا امریکی شاپنگ سنٹر اور اسکولوں میں لوگوں کا قتل عام، ان سب میں وائٹ سپرمیسی اور جمہوریت کی کمزوری کا عنصر نمایاں ہے۔ بھارت نے جو کشمیر میں کیا ہے، وہ اس کی اپنی جمہوریت کے قواعد کی خلاف ورزی ہے، مودی اور مودی کی حکومت بھی فار رائٹ نیشنلزم کی عکاسی کرتی ہے۔ اسی طرح ہانگ کانگ کے اندر احتجاج کرنے والوں کے خلاف جو ہو رہا ہے اس سے بھی جمہوریت کو خطرہ نظر آ رہا ہے۔ ساؤتھ امریکہ چلے جائیں تو برازیل میں بھی ایک ٹرمپ جیسا لیڈر اقتدار میں آگیا ہے۔

فار رائٹ نیشنلزم خطرناک اس لئے ہوتا ہے کیونکہ اس میں انتہاپسندی کی حد تک حب الوطنی کو استعمال کرکے لوگوں کو نہ صرف کنٹرول کیا جاتا ہے بلکہ ان کے انفرادی حقوق کو ختم بھی کر دیا جاتا ہے اور اقتدار پر قبضہ مضبوط کیا جاتا ہے۔ برازیل میں دنیا کے سب سے بڑے جنگلات ایمازون کو اس وقت آگ لگا کر ختم کیا جا رہا ہے تاکہ وہاں پر زرعی و تعمیراتی مقاصد کے لیے زمین کا حصول ممکن ہو اور کچھ پیسے بنائے جا سکیں۔ وقتی فائدے کے لئے ماحول اور برازیل کی جمہوریت کو، حتیٰ کہ برازیل کی آنے والی نسلوں کو بھی خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔ جن خطرات کی ہم نے بات کی ہے یہ تو اقتدار میں آنے والوں کے جانتے بوجھتے کیے جانے والے کاموں کی وجہ جمہوریت کو لاحق ہو رہے ہیںلیکن جمہوریت کو ایک قسم کاخطرہ وہ ہے جو ابھی ہمارے ہاں دیکھا جا رہا ہے۔ ویسے تو اکثر پاکستان میں یہ جملہ استعمال کیا جاتا ہے کہ جمہوریت خطرے میں ہے حالانکہ کبھی کبھی خطرہ دراصل سیاستدانوں کو لاحق ہوتا ہے، جمہوریت کو نہیں۔ لیکن جس خطرے کی میں بات کر رہا ہوں وہ حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے جمہوریت کو درپیش ہے۔ جہاں پر مہنگائی اور معاشی بدحالی لوگوں کا جینا مشکل کر دے وہاں لوگ یہ سوچنا شروع ہو جاتے ہیں کہ ایسی جمہوریت کا کیا فائدہ؟ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا بھر میں اس وقت جمہوریت خطرات میں گھری نظر آ رہی ہے لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ زیادہ افسوس کس بات پر کرنا چاہئے، اُس پر جہاں ایک پلاننگ کے تحت جمہوریت کو کمزور بنایا جارہا ہے یہ پھر اپنی نااہلی پر۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

ادارتی صفحہ سے مزید