آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر24؍جمادی الاوّل 1441ھ 20؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

گزشتہ دنوں میری قیادت میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (FPCCI) کے 5رکنی وفد نے چین کی کونسل برائے فروغ عالمی سرمایہ کاری CCIIPکی دعوت پر چین کے شہر ژیامین میں 7سے 10ستمبر تک ’’چائنا انٹرنیشنل فیئر اینڈ انویسٹمنٹ فورم‘‘ میں شرکت کی۔ ژیامین کی براہ راست فلائٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں بیجنگ کے راستے ژیامین جانا پڑا جو ایک طویل فاصلہ تھا۔ چین کا شہر ژیامین عالمی نمائشوں اور سیمینارز کیلئے دنیا میں اہمیت رکھتا ہے۔ چین سمیت دنیا بھر میں بیرونی سرمایہ کاری میں کمی کے پیشِ نظر چین نے حال ہی میں بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے سرمایہ کاری کے نئے آزاد قوانین کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ اور چین کی تجارتی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے منفی اثرات کے جائزے کیلئے فورم میں عالمی لیڈروں کوتجاویز دینے کیلئے مدعو کیا گیا تھا۔ میرے لئے باعث فخر ہے کہ میں نے فورم کے پینل ڈسکشن میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ فورم میں مصر کے سابق وزیر اعظم پروفیسر ڈاکٹر ایسام عبدالعزیز شراف، جرمنی کے سابق وزیر دفاع روڈولف البرٹ سکارپنگ، امریکہ کے سابق سیکرٹری تجارت کارلوس گٹیرز، سربیا کے نائب وزیر اعظم راسم لجک بھی شریک تھے۔ میں نے پینل ڈسکشن میں بتایا کہ دنیا کی معیشت کو عالمی معاشی بے یقینی کے باعث شدید چیلنجز کا سامنا ہے جس میں برطانیہ کا یورپی یونین سے انخلا، تیل کی گرتی ہوئی قیمتیں، کرنسیوں کی قیمت میں عدم استحکام، امریکہ اور چین کے مابین تجارتی جنگ شامل ہیں اور ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے دنیا کی بڑی معیشتوں کو تجارتی اختلافات دور کرکے بے یقینی کی صورتحال کو ختم کرنا ہوگا۔ ایک رپورٹ کے مطابق موجودہ حالات میں دنیا میں 1994ء کے بعد بیرونی سرمایہ کاری میں ریکارڈ 33 فیصد کمی آئی ہے۔

فورم کے دوران چائنا پاکستان انویسٹمنٹ کوآپریشن سیمینار کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں میرے علاوہ چین میں پاکستان کے قونصل جنرل ڈاکٹر دیار خان، CCIIP کی صدر مازی ژونگ، چینی وزارت تجارت کی ڈائریکٹر جنرل لیو ژومے اور پاکستانی وفد میں شامل زبیر طفیل، انور قریشی، ملک سہیل حسین اور محمود احمد نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر پاک چائنا جوائنٹ بزنس اینڈ انویسٹمنٹ کمیٹی کے قیام کیلئے ایک مفاہمتی یادداشت پر FPCCIکی طرف سے میں نے جبکہ چین کی طرف سے CCIIPکے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ لیو ژوژانگ نے دستخط کئے۔ چین اور پاکستان کی اس اعلیٰ سطحی بزنس اینڈ انویسٹمنٹ کمیٹی میں پاکستان اور چین کے نامور بزنس مین اور ان کی کمپنیاں ممبرز ہیں جبکہ کمیٹی کے بانی صدور کیلئے پاکستان کی جانب سے مجھے اور چین کی جانب سے انڈسٹریل کمرشل بینک آف چائنا کے چیئرمین کو نامزد کیا گیا ہے۔ پاکستانی اور عالمی میڈیا نے اس تقریب کو نہایت اہمیت دی۔ میں نے اپنے افتتاحی خطاب میں پاکستان اور چین کی باہمی تجارت، سی پیک منصوبے اور حکومت کے ترجیحاتی سیکٹرزکے بارےمیں بتایا کہ پاکستان اور چین کے مابین آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کی تجارت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان اور چین کی مجموعی تجارت تقریباً20 ارب ڈالر ہے جس میں چین سے پاکستان ایکسپورٹ 18 ارب ڈالر اور پاکستان سے چین ایکسپورٹ صرف 2 ارب ڈالر ہے۔ اس طرح 16ارب ڈالر کا ایکسپورٹ سرپلس چین کے حق میں ہے، ہمیں پاکستان سے چین کو ایکسپورٹ بڑھاکر اسے متوازن کرنا ہوگا۔ پاکستان اور چین حال ہی میں FTA کا دوسرے مرحلے میں داخل ہوئے ہیں جس میں چین نے پاکستان کو 363اشیاء ڈیوٹی فری ایکسپورٹ کی اجازت دی ہے۔ سی پیک کے بارے میں، میں نے بتایا کہ یہ ہمارا قومی منصوبہ ہے جس پر حکومت، تمام سیاسی جماعتیں، فوج، بزنس کمیونٹی اور تمام اسٹیک ہولڈرز متفق ہیں اور یقین ہے کہ سی پیک خطے میں خوشحالی کا ضامن ہوگا۔سی پیک کے 65 ارب ڈالر سرمایہ کاری کے منصوبوں میں 34ارب ڈالر کے نجی شعبے کے توانائی کے مختلف منصوبے ہیں جن سے 10,000 میگاواٹ اضافی بجلی پیدا کی جارہی ہے جس سے ملک میں لوڈشیڈنگ میںکافی حد تک قابو پالیا گیا ہے۔ باقی 11ارب ڈالر کے چین اور پاکستان کے پبلک سیکٹر انفرااسٹرکچر اور گوادر پورٹ کے منصوبے ہیں جس میں 9اسپیشل اکنامک زونز بھی شامل ہیں۔ FPCCI کی چینی ہم منصب سے چین کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ان زونز میں منتقلی کے سلسلے میں بات چیت جاری ہے۔ میں نے سیمینار میں چینی کمپنیوں کے نمائندوں کو تجویز دی کہ وہ چین میں اجرتوں میں اضافے کے مدنظر پاکستان کے اسپیشل اکنامک زونز (SEZs) میں صنعتوں سے مقابلاتی اشیاء امریکہ سمیت اپنے دیگر خریداروں کو ایکسپورٹ کریں۔ میں نے حکومت کے نئے ترجیحاتی سیکٹرز بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت اور سستے مکانات کی تعمیر کے مواقع کے بارے میں بھی شرکاء کو بتایا۔ سیمینار سے پاکستان کے قونصل جنرل ڈاکٹر دیار خان جو گائونزو سے خصوصی طور پر شرکت کیلئے آئے تھے، نے پاک چین تعلقات پر خطاب کیا جبکہ ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر زبیر طفیل، ملک سہیل حسین، ICBC بینک پاکستان کے سربراہ، پاکستان کے راشکائی اسپیشل اکنامک زونز کی ڈائریکٹر وانگ لیو اور چینی وزارت تجارت کی ڈائریکٹر جنرل لیو ژومے نے پاک چین تجارت و سرمایہ کاری کے مواقع پر تقاریر کیں۔

یمن کے اعزازی قونصل جنرل کی حیثیت سے پاکستان کے چین میں متعین قونصل جنرل دیار خان سے میرا پرانا تعلق ہے، جب وہ یمن کے دارالحکومت صنعا میں پاکستانی سفارتخانے میں تعینات تھے اور سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے دورۂ یمن پر میری اُن سے ملاقات ہوئی تھی۔ میں چینی حکومت کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے عالمی فورم میں پاکستانی وفد کو ہر جگہ فوقیت دی جس کی وجہ سے ہم پاکستان کو موثر انداز میں عالمی لیڈرز اور سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کرسکے۔

ادارتی صفحہ سے مزید