آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 19؍ صفرالمظفّر 1441ھ 19؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

دنیا میں 5کروڑ افراد ڈیمنشیا کے مرض کا شکار ہیں

ہیلی فیکس (زاہد انور مرزا) دنیا میں اس وقت 5کروڑ افراد ڈیمنشیا کا شکار ہیں۔ ہڈرز فیلڈراینڈ کالڈرڈیل ہسپتال کے زیر اہتمام عالمی یوم دماغی صحت کے حوالے سے ایک تقریب منعقد ہوئی جہاں مقامی کمیونٹی اور ڈاکٹرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ دل اور دماغ کے ماہر ڈاکٹر مارک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا میں 5کروڑ افراد ڈیمنشیا کا شکار ہیں جن کی تعداد 2050ء تک ڈیڑھ ارب تک پہنچ جائے گی، انہوں نے کہا کہ 70سال سے زائد عمر کے 12فیصد لوگ ڈیمنشیامیں مبتلا ہوتے ہیں۔ دنیا میں ہر تین سیکنڈ میں ایک بزرگ ڈیمنشیا کا شکار ہو رہا ہے۔ اس کے مریض بہت حد تک دوسروں کے محتاج ہوجاتے ہیں۔ بڑی عمر کو پہنچنے والے افراد میں سے دو تہائی میں ڈیمنشیا میں مبتلا ہونے کے خطرات ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ الزائمرڈیزیز انٹرنیشنل کے مطابق دنیا میں اس وقت لگ بھگ 5کروڑ افراد ڈیمنشیا کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں، ابتدائی طور پر ڈیمنشیا میں یادداشت میں درمیانے درجے کی تبدیلیاں ہوتی ہے مگر یہ تبدیلیاں معمولات اور خودمختاری پر اثر انداز نہیں ہوتی، ماہر دماغی صحت ڈاکٹر رحمٰن خان نے کہا کہ ڈیمنشیا کا سبب بننے والے عوامل میں عمر، فیملی، ہسٹری میں الزائمریا پارکنسن کا ہونا، سر پر چوٹ، ڈپریشن، شوگر، ہائی بلڈ پریشر، ڈائون سنڈروم و دیگر شامل ہیں،

خواتین کی عمر زیادہ ہوتی ہیں، انہوں نے کہا کہ ڈیمنشیا میں مبتلا 60سے 80فیصد افراد الزائمر کا شکار ہوتے ہیں جب کہ پارکنسن میں مبتلا 30فیصد افراد کے ڈیمنشیاسے متاثر ہونے کے خدشات ہوتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ڈیمنشیا کے علاج کیلئے اس کی مختلف اقسام کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ مریض کی مکمل ہسٹری کے ساتھ رسک فیکٹر کو ختم کرکے ڈیمنشیا کو بڑھنے سے روکا جاسکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ 62فیصد معالجین سمجھتے ہیں کہ بڑھتی عمر میں ڈیمنشیا ایک عام سی بات ہے جب کہ ڈیمنشیا کے مرض کو نظر انداز کردیتے ہیں۔

یورپ سے سے مزید