آپ آف لائن ہیں
اتوار18؍ذی الحج 1441ھ 9؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

موسمیات سے متعلق وزیراعظم کے مشیر ملک امین اسلم نے بتایا ہے کہ خشک سالی اور پانی کی کمی سے دوچار علاقوں میں بڑے پیمانے پر زیتون کے درختوں کی کاشت کے حوالے سے جلد جامع پروگرام کے تحت پانچ کروڑ پودے لگائے جائیں گے جس سے ان علاقوں کے کسانوں کے ذرائع آمدن میں اضاضے کے ساتھ ساتھ زیتون کے تیل کی درآمد کم سے کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ یہ ایک نہایت حوصلہ افزا حکمت عملی ہے کیونکہ اس وقت پاکستان کو اس کی درآمد پر کثیر زرمبادلہ صرف کرنا پڑ رہا ہے جبکہ ملک میں ایسی لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی بیکار پڑی ہے جو زیتون جیسی نقد آور جنس کے لئے نہایت سود مند ہے۔ حکومت پنجاب گزشتہ برسوں سے خطہ پوٹھوہار کی سطح پر زیتون کی محدود کاشت کے پروگرام پر عمل پیرا ہے۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خشک سالی اور پانی کی کمی کا شکار اور بنجر پڑی ہوئی زمین کا وسیع رقبہ زیتون کی کاشت کے لئے انتہائی موزوں ہے۔ مشیر حکومت کے متذکرہ بیان کی روشنی میں عملی اقدامات سے کسان کی حوصلہ افزائی ہوگی اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ زرعی ماہرین کے مطابق زیتون کا درخت پہاڑی ٹیلوں اور ناہموار علاقوں میں کم پانی کے باوجود آنے والی نسلوں تک زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو کاشت کے بعد تین سے پانچ سال کے عرصہ میں پھل دینے لگتا ہے۔ طبی ماہرین بلند فشار خون، ذیابیطس، گھنٹیا، امراض قلب و جگر، سرطان سمیت بہت سے دیگر امراض سے بچائو میں زیتون کو خوردنی تیل کے طور پر استعمال کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں خوردنی تیل کے وسیع پیمانے پر حصول کیلئے زیتون کی کاشت اور اس کے صنعتی عمل کو نہایت آسان اور عام کرنے کیلئے ٹھوس اور موثر پالیسی بنائیں۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998