آپ آف لائن ہیں
بدھ14؍ذی الحج1441ھ5؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ایران اور سعودی عرب میں باہمی تنازعات پر مفاہمت کرانے کے لئے وزیراعظم عمران خان سہولت کار کے طور پر منگل کی شام سعودی دارالحکومت ریاض پہنچے جہاں شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقاتوں کے دوران اس بات پر زور دیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اختلافی مسائل خصوصاً یمن کی خانہ جنگی کا معاملہ سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ وزارتِ خارجہ نے اس حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے مگر یہ نہیں بتایا کہ وزیراعظم کو سعودی قیادت نے کیا جواب دیا ہے۔ وزیراعظم اس سے قبل اتوار کو ایران کے دورے میں ایرانی صدر حسن روحانی اور رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای سے بات چیت کر چکے ہیں۔ باور کیا جاتا ہے کہ ایرانی قیادت سے ملاقاتوں میں سامنے آنے والی تجاویز انہوں نے سعودی بادشاہ اور ولی عہد کو پیش کی ہیں۔ ایران اور سعودی عرب میں مصالحت کے لئے ان سے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے درخواست کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ وہ امریکہ اور ایران میں بھی کشیدگی ختم کرائیں۔ وزیراعظم بیک وقت یہ دونوں مشن لے کر ایران گئے اور اب سعودی حکمرانوں سے ایران کے ساتھ معاملات طے کرانے ریاض کے دورے کے بعد واپس پا کستان پہنچ گئے ہیں۔ ایران سعودیہ کشیدگی کا محور اس وقت یمن کی خانہ جنگی ہے۔ پاکستان کے علاوہ بعض دوسرے ممالک بھی اس سلسلے میں کوشش کر چکے ہیں جو ناکام رہیں۔ پاکستان سے دونوں ملکوں کے برادرانہ تعلقات ہیں سعودی قیادت سے ملاقاتوں میں وزیراعظم نے زور دیا ہے کہ علاقائی امن اور استحکام کی خاطر خطے میں اختلافات اور تنازعات سیاسی مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی حل ہو سکتے ہیں۔ عمران خان ایک مشکل مشن پر نکلے ہیں مگر توقع ہے کہ ان کی مخلصانہ کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوں گی۔