آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پچھلے دنوں دنیا نے اقوامِ متحدہ کی طرف سے تجویز کیا ہوا، ذہنی صحت کا دن منایا تھا۔ اقوام متحدہ نے سال کا ایک ایک دن کسی نہ کسی حوالے سے منانے کے لئے مختص کیا ہوا ہے۔ پرابلم یہ ہے کہ منانے کے لئے اور ماتم کرنے کے لئے بیشمار موضوع ہیں۔ بدقسمتی سے سال میں صرف گنتی کے تین سو پینسٹھ دن ہوتے ہیں۔ ہر چار برس کے بعد سال کے تین سو پینسٹھ دن بڑھ کر تین سو چھیاسٹھ دن ہوجاتے ہیں۔ اس سال فروری کے مہینے میں اٹھائیس کے بجائے انتیس دن آتے ہیں۔ اس نوعیت کے سال کو انگریزی میں Leap Yearکہتے ہیں۔ کیوں کہتے ہیں؟ یہ سورج کے گرد زمین کی گردش کا معاملہ ہے۔ میں نہیں جانتا کہ لیپ ایئر کو اردو میں کیا کہتے ہیں، یہ انگریزوں کا معاملہ ہے۔ انگریزوں تک محدود رہنے دیتے ہیں۔ ہم لوٹ آتے ہیں اپنے مدعہ کی طرف۔ پچھلے دنوں اقوامِ متحدہ کی جانب سے مختص کیا ہوا ذہنی صحت کا دن دنیا نے منایا تھا۔ اقوام متحدہ والے سیانے ہیں، دو سو سے زیادہ اقوام کو جوڑ کر رکھا ہوا ہے انہوں نے۔ کسی کو کسی سے لڑنے نہیں دیتے۔ اقوام متحدہ والے پگلوں اور پاگلوں کا دن منانے کی تجویز نہیں دیتے۔ وہ مجذوبوں، دیوانوں اور بیچارے مجنوئوں کا دن منانے کی ترغیب نہیں دیتے۔ مجذوب اور مجنوں ذہنی طور پر مضطرب ہوتے ہیں، لہٰذا اقوام متحدہ نے ان سب کو ذہنی صحت کے کھاتے میں ڈال دیا ہے۔ جس روز ہم ذہنی صحت کا دن منارہے ہوتے ہیں پسِ پردہ ہم پگلوں، دیوانوں اور مجذوبوں کا دن منارہے ہوتے ہیں۔ صحت کا عالمی دن میں انہماک سے مناتا ہوں۔

جس روز آپ صحت مند لوگ، ہم ذہنی طور پر بیمار لوگوں کا دن بڑے بڑے ہوٹلوں میں لیکچر دیتے اور لیکچر سنتے اور لنچ، ہائی ٹی اور ڈنر نوش فرماتے ہوئے مناتے ہیں، اُس روز میں گریباں چاک کرکے، سر میں دھول ڈال کر برہنہ پا جنگلوں اور صحرائوں کی طرف نکل جاتا ہوں۔ آپ مجھ سے مت پوچھیں کہ کیا میں مجذوب ہوں، دیوانا ہوں؟ ہاں، میرے بھائیو، بہنو اور بچو میں ذہنی طور پر ٹھیک نہیں ہوں۔ اس لئے میں اقوامِ متحدہ کا ذہنی صحت کا دن انہماک سے مناتا ہوں۔ اگر گھر کے بھیدی آپ کو بتلائیں کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں، آپ ان کی بات سنی ان سنی کردیجئے۔ پاکستان میں ذہنی طور پر پریشان لوگ زیادہ تر گھر بار والے لوگ ہوتے ہیں۔ ان کی ایک عدد بیوی ہوتی ہے، آٹھ دس بچے ہوتے ہیں، گھر کی چھت سے آسماں صاف دکھائی دیتا ہے۔ جب بوسیدہ چھت سے آسماں دکھائی دیتا ہے، تب دن میں بھی تارے نظر آنے لگتے ہیں۔ آپ ایک آدھ تارا توڑ کر اپنی چڑچڑی بیوی کو دے سکتے ہیں۔ پھر وہ کئی روز تک آپ سے بچوں کے دانے پانی، یونیفارم، کتابوں اور اسکول کی فیس کے لئے تقاضا نہیں کرے گی۔ وعدوں میں بڑی طاقت ہوتی ہے، وعدے آئی بلا کو ٹال سکتے ہیں۔ ہم اپنے معاشرے میں ایسے لوگوں کو ذہنی طور پر بیمار نہیں سمجھتے۔ ان کو پختہ یقین دلوایا گیا ہے کہ مفلسی ان کے نصیب میں لکھی ہوئی ہے۔ بھلا تقدیر کا لکھا کون ٹال سکتا ہے؟ ایسے لوگوں کو پاکستان میں ذہنی طور پر صحت مند مانا جاتا ہے۔

پاکستان میں ایسے بیمار لوگوں کو بھی ذہنی طور پر صحت مند سمجھا جاتا ہے جو دن رات تقدیر کے لکھے میں ترمیم کرتے رہتے ہیں۔ کچھ لوگ تقدیر کے لکھے کو منسوخ کردیتے ہیں اور اپنی تقدیر آپ لکھتے ہیں۔ اچھی خاصی، وسیع و عریض کوٹھیوں میں رہتے ہیں، ان کے بیرون ملک اور اندرون ملک بینکوں میں نامی، بے نامی، اور بدنامی اکائونٹ ہوتے ہیں۔ شادی ہوتے ہی کنبے کا ایک ایک فرد اپنے لئے الگ کوٹھی بنواتا ہے، بچے پیدا ہوتے ہی دولت اُن کے اکائونٹ میں ڈالی جاتی ہے، وہ یونیورسٹی نہیں جاتے، وہ یونیورسٹی کو اپنے ہاں بلا کر ڈگریاں حاصل کر لیتے ہیں۔ کنبے کے ہر فرد کا مشترکہ اور اپنا الگ الگ کاروبار ہوتا ہے۔ کنبہ کا سربراہ یعنی فیملی ہیڈ ایک بیوی پر اکتفا نہیں کرتا اس کی تین چار بیویاں بلکہ بیگمات ہوتی ہیں۔ ایسے لوگوں کی اڑان کا پتا کوئی نہیں لگا سکتا۔ اگر وہ چاہیں تو کنبے کی خواتین اور حضرات کے ساتھ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبر بن سکتے ہیں۔ گھر میں ناشتے کی میز پر ملک کے حالات حاضرہ پر بحث مباحثے کرتے ہیں اور انڈہ فرائی کھانے سے پہلے اپنا کولیسٹرول چیک کرواتے ہیں۔ بوڑھا ہو جانے کے بعد ان کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے کہ صرف ایک رات وہ گھوڑے بیچ کر چین کی نیند سو سکیں، صرف ایک رات کے لئے مگر یہ ہو نہیں سکتا۔ وہ اپنی تحریر کردہ تقدیر میں گھوڑے بیچ کر سونے والی بات لکھنا بھول جاتے ہیں۔ ان کو ذہنی طور پر صحت مند سمجھا اور مانا جاتا ہے۔ ایسے لوگ پچھلے بہتر برس سے نہایت خیر و خوبی سے یہ ملک چلارہے ہیں۔

باقی مجھ جیسے مجذوب آپ کو شاذونادر پاکستان میں دکھائی دیں گے۔ میں حیلے بہانوں سے اپنا پاگل پن چھپاتا ہوں، ڈرتا ہوں، ملازمت سے نکال نہ دیا جائوں۔ ڈرتا ہوں کہ دھرلیا نہ جائوں۔ ڈرتا ہوں کہ تھرڈ ڈگری ٹارچر کرکے مجھ سے وہ باتیں نہ اگلوائی جائیں جن کو زبان تک آنے سے روکتے روکتے میں پاگل ہوگیا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ذہنی صحت کا دن آتا ہے میں گریباں چاک کرکے، سر میں دھول ڈال کر گھنے جنگلوں اور صحرائوں کا رخ کرتا ہوں۔

ادارتی صفحہ سے مزید