آپ آف لائن ہیں
منگل4؍صفر المظفّر 1442ھ 22؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وطن عزیز میں پھر دھرنے کی تیاریوں کا شور ہے،شاید ایک اور تبدیلی و انقلاب لانا مقصود ہے؟ عوام پریشان ہیں کہ وہ ابھی توپہلی تبدیلی ہضم نہیں کرپائےپھر نئی کی نوید کیوں؟ سنگین معاشی بحران نےسب کو ہلاکر رکھ دیاہے اب سیاسی عدم استحکام رہی سہی کسر بھی نکال دےگا؟

ہر روز نئے چیلنج بھگتنے والے عوام تو یہ پوچھنے سےقاصر ہیں کہ ملک کی تقدیر بدلنے کے درپے یہ سیاستدان پہلے اپنے اندر تبدیلی و انقلاب کیوں نہیں لاتے؟

قرضے پر قرضہ چڑھ رہا ہے، بھارت دشمنی سے کشمیر اور سرحد لہو لہو ہے، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی بلیک لسٹ کرنے کی فیصلہ کن دھمکی مل چکی ہےپھر بھی یہ سیاستدان ملک کےاندرونی و بیرونی چیلنجز کو سڑکوں پر لانے پر تلے ہیں۔

پانچ پانچ سال مدت اقتدار مکمل کرنےوالی بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی قیادت ’’اندر“ ہونے کے سبب اپوزیشن کی قیادت کا خلا مولانا فضل الرحمٰن نے عملی طور پر بظاہر پر کر دیا ہے اور موقع غنیمت جان کر منتخب حکومت پر سیاسی خودکش حملے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے لیکن وہ اس کی کوئی ٹھوس وجہ بتانے سے گریزاں ہیں ۔

مولانا فضل الرحمٰن ذاتی طور پر لبرل وزیرک سیاستدان، بزلہ سنج اور معتدل مذہبی شخصیت ہونے کےباوجود بذات خود کبھی انتہا پسند نہیں رہے تاہم ہمیشہ بائیں بازو کی سیاست اور مذہب کوبطور ہتھیار استعمال کرنے کو ترجیح بنائے رکھا ہے۔ بنیادپرست نظریات کا حامی ہونے کے ناتے وہ اسٹیبلشمنٹ کے کٹرحامی سمجھے جاتے رہے ہیں۔

بالخصوص حالات جیسے بھی ہوں وقت کے سپہ سالار کے ساتھ ان کےگہرے تعلقات بھی بدرجہ اتم رہے ہیں۔ نواز شریف کے خلاف دھرنے سے چند روز پہلے پارلیمنٹ ہاؤس میں جنرل راحیل شریف کو زوردار جپھی تو راقم کا آنکھوںدیکھا حال ہے۔

تاہم 2018کے انتخابات میں 16برسوں میں پہلی مرتبہ گھر سے بری طرح شکست کےبعد ایوان سے چھٹی، کشمیرکمیٹی کی سربراہی سے فراغت نے مولانا کو دلبرداشتہ کر دیا ہے یہی نہیں فاٹا کا کےپی میں انضمام اور مدارس ریفارمز نے مولانا کےغصے کو انتقام کی آگ میں بدل دیا ہے یہی وجہ ہےکہ وہ اپنی ناراضی کاکھل کر اظہار کرنا چاہتے ہیں۔

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ شکست کے پہلے سال ’’ہرقسم“ کی کوششوں کےبعد مولانا نے اچانک مزاحمت کا فیصلہ کیا اور اپنی طاقت یعنی مدارس کے طلبہ کو آزمانے اور مذہبی کارڈ کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مولانا کی جانب سے مذہب کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے انتہا پسندی کےخاتمے کے بجائے اس کی جڑیں مزید مضبوط ہو جائیں گی، گو ملیشیا بنانے کےعمل پر حکومت نے آئین کے آرٹیکل 256کےتحت انصار الاسلام کو کالعدم قرار دے کر پابندی لگا دی ہے تاہم یہ حرکت عالمی سطح پر ایف اے ٹی ایف کے معاملے کو گمبھیر بنا سکتی ہے۔

دوسری طرف لاکھوں افراد اسلام آباد لانے کی مولانا کی دھمکیوں نےحکومت کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ گو بڑے دعوے کر کے مخمصے میں پھنسی مولانا کی ساتھی دو بڑی جماعتیں بالکل بھی احتجاجی دھرنےکی حامی نہیں، نواز شریف نے مولانا کو لکھے ایک خفیہ خط میں مشورہ دیا ہے کہ دھرنا نہ کریں، صرف احتجاجی جلسہ یا جزوقتی مارچ کیا جائے اور آئندہ دو سے تین ماہ تک لاہور کراچی کوئٹہ پشاور سمیت بڑے شہروں میں احتجاجی جلوس نکالے جائیں جبکہ پیپلز پارٹی پہلے ہی دھرنوں سے حکومت گرانےکی سخت مخالفت کر چکی ہے۔

ایسےلگتاہے کہ مولانا کی چال کو ان کےبڑےاتحادی بھی بھانپ چکے ہیں کہ وہ عوام یا حقیقی جمہوریت کی خاطر کوئی انقلاب لانے جارہے ہیں نہ ہی مزاحمت کی کوئی نئی تاریخ رقم کرنے۔ ہاں مفادات کےتحفظ اور مفاہمت کی نئی طرز متعارف کرانے کے لیے ضرور بیتاب ہیں۔

انہیں یہ بھی خدشہ ہےکہ مولانا کا پلان ناکام ہوا تو سب مارے جائیں گے اور خان مزید طاقتور ہو جائے گا۔ ذرائع کہتےہیں کہ مولانا منجھے کھلاڑی کےطورپر تنہا دو اہم مقاصد کاحصول چاہتے ہیں،

پہلا طاقتوروں کا کھویا ہوا اعتماد واپس حاصل کرنا جو مسٹر خان نے تبدیلی کے کارڈ پران سے چھین لیا تھا دوسرا کپتان کو کسی بھی صورت چاروں شانے چت کرنا لیکن کامیابی کی کوئی صورت ابھی نظر نہیں آتی۔

ایک ٹھوس اطلاع ہےکہ طاقتوروں کے مولانا سے براہ راست رابطوں میں معاملات کسی حد تک طے ہیں تاہم وہ اپنی فیس سیونگ کی خاطر ڈی چوک آنے پرمصر ہیں، ان کے ایک امیر سینیٹر نے 21ہزار بسوں سےزائدکی آمد، میڈیا کوریج، کھانے اور ٹینٹوں کے انتظام کے لیے سات کروڑ کی پہلی قسط جاری بھی کرچکے ہیں یعنی مصمم ارادے سے مولانا اسلام آباد داخل ہونا چاہتے ہیں تاکہ انہیں خالی ہاتھ واپس بھیجنا ناممکن ہو۔

دوسری طرف حکومت اور طاقتور بھی کوئی رسک لینے کو تیارنہیں، مولانا نظر بند ہوں یا گرفتار، کوشش کی جارہی ہےکہ آنے والوں کو ان کے گھروں کے قریب ہی روک لیا جائے۔ کچھ طاقتور حلقے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ نہ دھرنا ہوگا نہ کوئی احتجاجی مارچ بلکہ وزیراعظم کا استعفیٰ بھی نہیں ہوگا اور یہ نظام بھی آئندہ پانچ سال چلتا رہے گا۔

سیاسی میدان میں مولانا کو شرمندگی سے بچانے اور فیس سیونگ کیلئے پُرامن مارچ کی اجازت دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے کیونکہ مولانا پُر امن رہ کر احتجاجی جلسہ کرنے اور ملیشیا کو سڑکوں پر نہ لانے کی گارنٹی دے چکے ہیں۔

میری رائے میں عوام کی موجودہ بدحالی کی کمزور ترین سطح پر جانے کے بعد اب جمہوریت پسندوں کو آرام دہ ڈرائنگ رومز، خوشنما گھروں اور قیمتی گاڑیوں سے نکل کر صرف محروم طبقات بارے سوچنا ہوگا، ملکی و عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے نئے فارمولے پر متفق ہونا ہوگا اور سڑکوں کے بجائے پارلیمنٹ کی طرف لوٹنا ہوگا۔