• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی وزرا بھی پیمرا نوٹیفکیشن پر برس پڑے

وفاقی وزراء بھی پیمرا کے ٹاک شوز سے متعلق نوٹیفکیشن پر برس پڑے۔


تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزراء بھی پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے ٹاک شوز سے متعلق نوٹیفکیشن پر برس پڑے۔

پیمرا کے نوٹیفکیشن پر وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری، وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری، پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد عمر نے بھی تنقید کی۔

فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے ردعمل میں انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری کے بیان سے اتفاق کیا اور پیمرا کے نوٹیفکیشن کو احمقانہ، غیر منطقی اور غیر ضروری قرار دے دیا۔

شیریں مزاری نے پیمرا کے نوٹیفکیشن پر ایک دلچسپ بحث چھیڑ دی اور استفسار کیا کہ کیا کسی کو سیاسی امور کا ماہر ہونے کے لیے سیاست میں ڈگری کی ضروری ہے؟

انہوں نے مزید استفسار کیا کہ جیسے میرے پاس انسانی حقوق کی کوئی ڈگری نہیں، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ میں ٹی وی پر جاکر انسانی حقوق کے مسائل پر بات کرنے کی اہل نہیں؟

سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمرنے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’کیا خوب فیصلہ ہے؟‘پیمرا کو آزادی اظہار کو دبانے کے بجائے کوئی بہتر کام کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیمرا کو فیک نیوز پر قابو پانے کےلیے اقدامات کرکے اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔

وفاقی وزراء اور پارٹی کی سینئر قیادت کی طرف سے تنقید کے بعد وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کی وضاحت بھی سامنےآگئی۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی اینکر کو آزادی اظہار سے نہیں روکا گیا، ہر اینکر کا اپنا ایک شو ہے، جس پر وہ جس موضوع پر چاہے بات کرسکتا ہے۔

پیمرا کی ایڈوائزری میں عدالتی احکامات کے مطابق پہلے سے موجود ضابطے کو دہرایا گیا ہے، قیاس آرائی سے بچنے کے لیے اس کا دھیان رکھنے کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین