آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ذیقعد 1441ھ 10؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کاروباری طبقہ اور کرپشن کا منفی پروپیگنڈہ

گزشتہ کچھ برسوں سے عوام میں ایک بیانیے نے جنم لیا ہے کہ ’’کوئی بھی ایسا شخص جو بڑی گاڑی چلا رہا ہے، کسی بڑے گھر میں رہ رہا ہے، بڑا بزنس مین ہے اور کامیاب زندگی گزار رہا ہے، اُس نے یہ سب کچھ ملک لوٹ کر کرپشن کے ذریعے حاصل کیا ہے‘‘۔ اِس سوچ کے پیچھے دراصل وہ منفی پروپیگنڈہ ہے جو گزشتہ کچھ برسوں سے کرپشن کے حوالے سے پھیلایا گیا ہے اور اِس منفی پروپیگنڈہ سے دلبرداشتہ ہو کر پاکستان کے بڑے سرمایہ کار، ملک میں سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہوئے بیرون ملک منتقل ہوکر وہاں سرمایہ کاری کے بارے میں سوچ رہے ہیں تاکہ انہیں تنقیدی نظروں کا سامنا کرنا نہ پڑے۔

ایوب دور حکومت میں یہ بیانیہ عام تھا کہ ملکی دولت کچھ خاندانوں کے ہاتھوں میں ہے اور ہم ان فیملیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے تھے کہ انہوں نے پاکستان کی دولت لوٹ رکھی ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس تھی اور 60کی دہائی میں پاکستان میں نئی انڈسٹریاں، ملیں اور کارخانے لگ رہے تھے۔ اصفہانی، آدمجی، سہگل، جعفر برادرز، رنگون والا جیسی فیملیوں نے پاکستان کو انڈسٹرلائزیشن کے راستے پر ڈال دیا تھا۔ ہم بجائے ان کاروباری خاندانوں کے مشکور ہونے کے، ان فیملیوں کو سراہنے کے بجائے تنقید کا نشانہ بناتے رہتے تھے اور یہ نظم پڑھی جانے لگی کہ ’’چھین لو مل لٹیروں سے‘‘ اور پھر ذوالفقار بھٹو نے یہ سب کچھ کر دکھایا۔ نیشنلائزیشن کے نام پر ان فیملیوں کے کاروباری اداروں کو قومیا لیا گیا اور پھر یہیں سے پاکستان کا زوال شروع ہوا۔ بعد ازاں تھوڑے ہی عرصے میں قومیائی گئی یہ فیکٹریاں جو ایک وقت میں منافع میں چل رہی تھیں، ان کا شمار بیمار صنعتوں میں ہونے لگا۔ یہ 22فیملیاں اپنے تمام اثاثے فروخت کرکے بیرون ملک منتقل ہوگئیں۔ پاکستانی سرمایہ کاروں کا دوسری مرتبہ اعتماد اس وقت مجروح ہوا جب 28مئی 1998کو ایٹمی دھماکے کے بعد وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پاکستانیوں کے بینک میں رکھے ڈالر اکائونٹس کو منجمد کردیا جس سے سرمایہ کاروں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ اُن کی رقم انہی کے ملک میں محفوظ نہیں جس کے بعد لوگوں نے اپنے پیسے بیرون ملک منتقل کرنا شروع کردیا جس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

کامیاب ہونا کوئی جرم نہیں کیونکہ کامیابی کے پیچھے جدوجہد اور قربانیاں پوشیدہ ہوتی ہیں، یہ وہی شخص جانتا ہے جو قربانیوں کی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر تک پہنچتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ملک میں اپنا سرمایہ لگا کر نئی ملازمتوں کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ میں سب کے ساتھ یکساں احتساب کے حق میں ہوں، اگر کسی سرمایہ کار نے غلط راستہ اپنایا ہے تو اس کا کڑا احتساب ہونا چاہئے مگر صرف اس بنیاد پر اس کی کامیابی پر شک کرنا اور کرپٹ کہنا مناسب نہیں۔ آج دنیا کے کئی ترقی یافتہ اور خلیجی ممالک ایک چھوٹی سرمایہ کاری کے بدلے امیگریشن کی پیشکش کررہے ہیں۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں کوئی بھی سرمایہ کار 2لاکھ 50ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری کرکے اپنی فیملی سمیت وہاں مستقل رہائش اختیار کر سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں پاکستانی دلبرداشتہ ہوکر ایک بار پھر بیرون ملک شفٹ ہونے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور کسی دوسرے ملک میں شفٹ ہونے کیلئے کاروباری طبقے کیلئے یہ کوئی بڑی رقم نہیں۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کبھی کسی سرمایہ کار کو بُری نظر سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ اس کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ پیش آیا جاتا ہے کیونکہ اس نے ملک میں سرمایہ کاری کرکے روزگار کے مواقع اور لوگوں کو ملازمتیں فراہم کیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم کو ان کے معاشی مشیر حقائق چھپاکر معیشت کے بارے میں غلط مشورے دے رہے ہیں اور سرمایہ کاروں کو کرپٹ بناکر پیش کررہے ہیں جو اپنا ٹیکس ایمانداری سے ادا نہیں کرتے۔ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ٹیکس ریونیو کامیاب معیشت کا ایک By Productہے، اگر ہماری معیشت پھلے پھولے گی تو ٹیکس ریونیو میں بھی اضافہ ہوگا لیکن حکومت معیشت کی بحالی کیلئے کوئی مثبت اقدام نہیں کررہی اور پوری توجہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس وصولی پر مرکوز رکھتے ہوئے کرپشن کا بیانیہ جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ سرمایہ کاروں کو موجودہ صورتحال کا مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے کہ وہ ٹیکس چوری کرتے ہیں جس سے عوام میں ان کے بارے میں یہ منفی تاثر پیدا ہورہا ہے کہ سرمایہ کاروں نے یہ سب کچھ کرپشن سے حاصل کیا ہے۔

پاکستان کی بدقسمتی رہی ہے کہ ماضی میں ملک ’’برین ڈرین‘‘ اور ’’کیپٹل ڈرین‘‘ کا شکار رہا جس سے ایک طرف جہاں ملک کا سرمایہ باہر منتقل ہوا، وہاں دوسری طرف پاکستان کے باصلاحیت نوجوان ملک چھوڑ کر چلے گئے جس کا نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑا۔ افسوس کہ آج ہم اپنی انڈسٹریاں اور معیشت اپنے ہی ہاتھوں تباہ کرکے چین اور دوسرے ممالک کی منتیں کرتے پھررہے ہیں کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔ وقت آگیا ہے کہ حکومت فوری طور پر ایسے اقدامات اٹھائے جن سے ’’بزنس فرینڈلی‘‘ ماحول پیدا ہو تاکہ ملک میں سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہوسکے۔