آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

صادقہ خان

پیارے ساتھیو! قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح وطنِ عزیز نے سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی بہت سے سنگِ میل عبور کیے۔

ایک نوزائیدہ مملکت ،جس کے پاس نہ تو مناسب انفراسٹرکچر تھا اور نہ ہی وسائل ،آج اس کا شمار عالمِ اسلام کی پہلی اور مجموعی طور پر دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت میں کیا جاتا ہے۔

طب، کیمیاء، انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی غرض یہ کہ سائنس کے ہر شعبے میں قابل ذکر ترقی کی، جس کا سہرا پاکستان کے اُن نامور فرزندوں کے سر جاتا ہے، جنھوں نے دنیا کی بہترین یونیورسٹیز سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور ملک میں اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں خدمات سرانجام دے کرملک و قوم کا نام روشن کیا۔

آئیے آج آپ کو ایسے ہی چند نامور پاکستانی سائنسدانوں سے متعارف کرواتے ہیں جو سائنس و ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب برپا کرکے تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں ۔

ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی

19 اکتوبر 1897 کو لکھنؤ ( برٹش انڈیا ) میں پیدا ہونے والے پروفیسر ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی اُن چند افراد میں شمار کیے جاتے ہیں، جنھوں نے تقسیم ہند کے بعد پاکستان ہجرت کی اور یہاں سائنس و ٹیکنالوجی کی ترویج میں قابلِ قدر کردار ادا کیا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فلسفے میں ماسٹرز کرنے کے بعد ڈاکٹر صدیقی نے 1927 میں فرینکفرٹ یونیورسٹی سے کیمیاء میں پی ایچ ڈی کیا، وہ کافی عرصے تک طبیہ کالج دہلی اور انڈین کاؤنسل آف سائنٹیفک ریسرچ سے وابستہ رہے۔1961 میں انھیں پاکستان کاؤنسل آف سائنٹیفک ریسرچ کا چیئرمین منتخب کیا گیا۔

ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی فارما کولوجی (ادوایات کی تیاری) میں ایک انقلاب برپا کرنے کا سبب بنے، یوں جنوبی ایشیاء میں کثرت سے اُگنے والے پودوں کو دواؤں کی تیاری میں استعمال کیا جانے لگا۔آج دنیا بھر میں دماغی انتشار اور دل کے امراض کے شافی علاج کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔

سائنس کی ترویج اور شعبۂ کیمیاء میں ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس، ہلالِ امتیاز، ستارہ امتیاز اور تمغۂ پاکستان سے نوازا، ان کا انتقال 1994 کو کراچی میں ہوا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

عبد القدیر خان نے ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس، جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی اسناد حاصل کرنے کے بعد 31 مئی 1976ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی دعوت پر "انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز" کے پاکستانی ایٹمی پروگرام میں حصہ لیا۔عبد القدیرخان وہ مایہ ناز سائنس دان ہیں، جنہوں نے آٹھ سال کے انتہائی قلیل عرصہ میں انتھک محنت و لگن کی ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کرکے دنیا کے نامور نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کو ورطہ حیرت میں ڈالدیا۔انہوں نے ایک سو پچاس سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی لکھے ہیں۔

ڈاکٹر منیر احمد خان

نارتھ کیرولینا یونیورسٹی سے نیوکلیئر انرجی میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد ڈاکٹر منیر انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایسوسی ایشن سے وابستہ ہوئے اور تقریباً 40 برس تک اس کے سائنٹیفک اسٹاف ممبر اور بورڈ آف گورنرز کے رکن کے طور پر ذمہ داریاں سر انجام دیتے رہے۔

ڈاکٹر منیر بدستور اٹامک انرجی کمیشن کے سربراہ رہے اور اپنی تمام تر توجہ پاکستان میں سائنس و ٹیکنالوجی کی ترویج پر مرکوز رکھی، ان ہی کی کوششوں سے نتھیا گلی میں انٹرنیشنل سمر کالج آف فزکس اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز کا قیام ممکن ہوا، اس کے علاوہ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری، خوشاب ون اور کراچی نیوکلیئر پاور ٹریننگ سینٹر جیسے عظیم الشان منصوبے بھی ان ہی کی سرکردگی میں پایۂ تکمیل کو پہنچے، جہاں نیوکلیئر انجینئرز اور سائنسدانوں کی تربیت کا مکمل انتظام کیا گیا۔

ڈاکٹر منیر کی گراں قدر خدمات کے صلے میں حکومتِ پاکستان نے انہیں ہلال امتیاز اور ستارۂ امتیاز جیسے اعلیٰ سول اعزازات سے نوازا۔

ڈاکٹر ایوب خان امیہ

دماغی امراض اور سرطان پر اپنی تحقیق کے دوران ڈاکٹر ایوب خان امیہ نے ٹیومر (رسولی) کے خاتمے کے لیے ایک آلہ ایجاد کیا، جسے ’امیہ ریزروائر‘ کہا جاتا ہے،اس کی بدولت برین ٹیومرکاعلاج بذریعہ کیموتھراپی ممکن ہوا، جوایک انقلابی تکنیک ثا بت ہوئی اور مستقبل میں اس طرز پر لا تعداد طبی آلات بنائے گئے، یعنی یہ آلہ بہت سی ایجادات کے لیے نمونہ

ثابت ہوا۔ڈاکٹر ایوب خان امیہ نے سر پر لگنےوالی حاد ثاتی چوٹوں پر بہت سی تھیوریز بھی پیش کیں، جن میں ٹرامیٹک تھیوری قابل ذکر ہے۔

ڈاکٹر نوید سید

ڈاکٹر نوید نے کینیڈین اور جرمن ٹیموں کے ساتھ انسانی دماغ کے میکینزم ، دماغی خلیات ’نیورانز‘ کی مسلسل جنریشن اور اُن کے سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے براہ راست تعلق پر تحقیق کرتے ہوئے انسانی دماغی خلیات کو سیلیکون چِپ پر اس طرح گرو نمو کیا ہے کہ اس چپ کے نیورانز دماغی خلیات سے اور دماغی خلیات ان نیورانز سے باآسانی رابطہ اور باتیں کر سکتے ہیں، اس بایونک چِپ کے ذریعے انسانی افعال کو کسی حد تک کنٹرول کرنا ممکن ہوا اور اب تک کی تحقیق کے مطابق نشے کی لت اور رعشہ جیسی اعصابی بیماریوں کا علاج اس سے کیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر نوید کی اس ایجاد نے نہ صرف شعبۂ طب بلکہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور روبوٹکس کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کردیا اور ہر طلوع ہوتے سورج کے ساتھ نئی، حیران کن اور انوکھی ایجادات سامنے آرہی ہیں مگر پھر بھی سائنسدان اب تک انسانی دماغ کے اصل میکینزم پر سے مکمل طور پر پردہ اٹھانے سے قاصر ہیں۔

ڈاکٹر پرویز ہود بھائی

پرویز ہود بھائی کا سب سے بڑا کارنامہ ’نیشنل سینٹر آف فزکس‘ کا قیام ہے، جس کا مقصد ملک میں سائنسی سوچ وفکر کو عام کرنا تھا، وہ انٹرنیشنل سائنٹیفک سوسائٹی اور رائل سوسائٹی آف لندن میں فیلڈ تھیوری، پارٹیکل فزکس اور فینو مینالوجی کے حوالے سے غیر معمولی شہرت رکھتے ہیں اور ان کے لیکچرزآن لائن دستیاب ہیں، جب کہ اسٹرنگ تھیوری پر ان کی قابل قدر تحقیق پر انہیں نوبل پرائز کی نامزد بھی کیا گیا تھا۔

بچوں کا جنگ سے مزید