آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ربیع الثانی 1441ھ 11؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

برطانیہ میں سندھ کے ٹیکسٹائل کلچر کے فروغ کی کاوش

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) موہٹہ پیلس کراچی کی ڈائریکٹر نسرین عسکری نے اپنی نئی کتاب گلوں سے آراستہ صحرا سندھ کا متنوع ٹیکسٹائل کلچر کے ذریعے برطانیہ میں سندھ کے ٹیکسٹائل کلچر کے فروغ کی کوشش کی ہے، اس کتاب سے سندھ کے کلچر اور سندھ کی ٹیکسٹائل سے متعلق روایات سے وابستگی کا اظہار ہوتا ہے۔ نائٹ برچ میں اپنی قیام گاہ پر جیو اور دی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ کتاب کا مقصد پاکستان کے بارے میں ایک نئے بیانئے کو فروغ دینا ہے، پاکستان کے ایک ایسے پہلو کو اجاگر کرنا ہے جو لوگوں کو معلوم نہیں ہے اور جسے اب تک اجاگر نہیں کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ یہ کتاب انھوں نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر مشترکہ طورپر لکھی ہے اور اس کا مقصد پاکستان اور اس کی متنوع ثقافت کے بارے میں تصورات کی اصل شکل دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کام میں جتنے زیادہ لوگ شریک ہوں گے، اتنا ہی اچھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں کراچی کے ایک میوزیم میں کام کرتی ہوں اور ہماری ایک چھوٹی سی میوزیم شاپ بھی ہے۔ اس دکان میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی ہمارے دستکاروں کے ہاتھوں سے بنائی ہوئی اشیا ہوتی ہیں۔ نسرین کیلئے یہ پوری زندگی کاسفر ہے، وہ 1998-1997میں برطانیہ کے نیشنل میوزیم میں کلرز آف انڈس کے نام سے پاکستان ٹیکسٹائلز کی اپنی نوعیت کی

پہلی نمائش کی منتظم تھیں، یہ نمائش نیشنل میوزیم سکاٹ لینڈ، ایڈنبرا میں بھی دکھائی گئی تھی۔ وہ موہٹہ پیلس میوزیم کی شریک بانی ہیں اور گزشتہ 20 سال سے اس سے وابستہ ہیں۔ نسرین پیشے کے اعتبار سے اورل سرجن ہیں لیکن 1970کے اوائل میں انھیں ٹیکسٹائل میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ انھوں نے اپنی کتاب میں اس حوالے سے بات چیت کا حوالہ دیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل کی روایات 5ہزار سال قبل مسیح کی ہیں، جس کا ثبوت موئن جو دڑو اور بلوچستان کے علاقے مہر گڑھ سے برآمد ہونے والے بنے ہوئے کپڑوں کے نوادرات سے ملتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری ثقافت کی ڈاکومنٹنگ ہماری ثقافت کے مختلف پہلوئوں کو محفوظ کرنے پر ہم برطانیہ کے شکر گزار ہیں، بدقسمتی سے ہم ان عوامل پر بہت کم توجہ دیتے ہیں، ہمارے دستکاروں کی مہارت منفرد ہے اور ہمیں انھیں قائم رکھنے کی ہرممکن کوشش کرنی چاہئے، کتاب میں ان کی دستکاری کو نمایاں کیا گیا ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ اس سے دستکاروں اور ان کی تیار کردہ مصنوعات کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ وکٹوریہ اور البرٹ میوزیم لندن میں نمائش کے اہتمام کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ برطانیہ اور برصغیر کے تعلقات بہت قدیم اور گہرے ہیں، کیونکہ انگریز دستکاروں نے یہاں تعلیم و تربیت حاصل کی اور آرٹ کے نمونوں کو محفوظ رکھا، وی اینڈ اے سٹورز میں آج پاکستان اور دیگر علاقوں کی ایسی اشیا موجود ہیں، جو ان ملکوں میں نہیں ہیں، 1997 میں ہم نے سندھی آرٹس اور کلچر پر نمائش کے انعقاد کے بارے میں سوچا اور 3 ماہ بعد نمائش کا اہتمام کیا، یہ نمائش 7ماہ تک جاری رہی اور یہ اتنی کامیاب رہی کہ یہ لندن سے سکاٹ لینڈ اورپھر پاکستان پہنچی، ہم نے سندھ سے جو ملبوسات اور آرٹ کے فن پارے خریدے تھے وہ بہت مقبول ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی کتاب کا محور مشرقی سندھ کا صحرائی علاقہ تھرپارکر ہے، یہ دشوار گزار راستے پر واقع ہے، علاقے کا موسم بہت سخت ہے اور لوگ انتہائی مشکل حالات میں زندگی بسر کرتے ہیں، حال ہی میں وہاں کچھ ترقیاتی کام انجام دیئے گئے ہیں، اس علاقے میں کوئلے کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں، اس سے مقامی لوگوں کو مدد ملی ہے اور ان کیلئے مکان تعمیر کئے گئے ہیں لیکن اس سے ان کی ثقافت اور دستکاری تبدیل ہوجائے گی۔ پیشے کے اعتبار سے بینکار حسن عسکری نے، جو اب لندن میں قائم ایک کمپنی کے چیئرمین ہیں، کہا کہ اس کتاب میں ان کا کردار ضمنی ہے۔ حسن عسکری نے، جو پہلے برٹش میوزیم کے ٹرسٹی تھے اور پاکستان سےآرٹ اور دستکاریاں جمع کرنے والوں کی صف اول میں تھے، وسطی اور مغربی ایشیا اور برصغیر کے درمیان اشیا کے متعلق آئیڈیاز کی گمنام اہمیت پر توجہ مرکوز کی ہے۔ انھوں نے تقسیم سے قبل سندھ کی دستکاریوں کے فروغ میں ہندوئوں کے کردار پر بھی لکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے صرف ریکارڈ کو درست رکھنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تسلیم کیا جانا ضروری ہے کہ اس صوبے کی ثقافت مونوکرومیٹک نہیں ہے، یہ پوری دنیا اور خاص طورپر ہمارے پڑوس سے مطابقت رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ خودساختہ دانائی اور سچائی کا ایسا تصور اجاگر کیا جا رہا ہے، جسکاسچائی سے کوئی تعلق نہیں ہے، حسن عسکری نے کہا کہ1947تک سندھ کی کم وبیش 30فیصد آبادی ہندوئوں پر مشتمل تھی۔ انھوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں کو نہیں معلوم کہ کراچی، حیدرآباد اور شکارپور میں ایک زمانے میں ہندو اکثریت میں تھے۔ اس کتاب میں ہم نے دکھایا ہے کہ ہندوئوں نے سندھ کے آرٹس اور دستکاریوں میں اہم کردار ادا کیا ہے، اس کا اعتراف اسلئے بھی ضروری ہے، کیونکہ ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک نے کیا کچھ پیدا کیا ہے، عسکری کی اس کتاب کی بڑی پذیرائی کی گئی ہے، گارڈین نے اس کتاب پر پورے صفحے کا مضمون شائع کیا ہے اور کئی دوسرے جرائد نے بھی اس پر تبصرے شائع کئے ہیں۔

یورپ سے سے مزید