آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ8؍ ربیع الثانی 1441ھ 6؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی نے اچھا کیا کہ عوام کو درپیش مشکلات کا پاس کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجاً بند کی گئی شاہراہیں کھول دیں۔ سیاسی پارٹیاں حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، عوام کی فلاح و بہبود اور ان کے مسائل حل کرنا ان کا مقصد ہوتا ہے۔ ان پارٹیوں کے درمیان جو اختلافات نظر آتے ہیں وہ اُس سوچ کے فرق کو اجاگر کرتے ہیں جو مختلف پارٹیاں عوام اور ملک کے مفاد و ترقی کی حکمت عملی کے حوالے سے رکھتی ہیں۔ ان سب کا بنیادی مقصد چونکہ ملک کو استحکام و خوشحالی کی منزل کی طرف گامزن کرنا اور عام آدمی کو سہولتیں فراہم کرنا ہوتا ہے اس لئے ایک دوسرے کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی و گرفت کرنے کیساتھ مشکل حالات میں اختلافات پس پشت ڈالتے ہوئے مشترکہ لائحہ عمل بنانے میں بھی تاخیر نہیں کرتیں۔ اختلاف رائے پارلیمان کے ایوانوں میں بھی ہوتا ہے اور مختلف اوقات میں جلسوں، جلوسوں اور مظاہروں کی صورت میں بھی۔ جن ملکوں میں جمہوری روایات مستحکم تر ہیں وہاں خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ نہ تو عوامی اجتماعات یا ریلیاں قومی و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ بنیں، نہ ہی ان کے باعث عام لوگوں کے معمولات زندگی تعطل یا مشکلات سے دوچار ہوں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی سرکردگی میں نو جماعتوں کی حمایت

سے جو آزادی مارچ کیا گیا، اسے اس کے نظم و ضبط کے حوالے سے سب ہی نے سراہا ہے۔ تاہم یکم نومبر کو اسلام آباد کے جلسہ عام میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سمیت رہبر کمیٹی میں نمائندگی رکھنے والی پارٹیوں کے رہنمائوں کے خطاب کے بعد جمعیت علمائے اسلام (ف) نے جب اسلام آباد کے ایچ نائن سیکٹر میں غیر معینہ مدت کے لئے دھرنا دینے کا اعلان ریڈ زون کی طرف بڑھنے کے عزائم کے اظہار کے ساتھ کیا تو اگرچہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے ان کے مطالبات کی حمایت کا اعلان کیا گیا مگر دونوں پارٹیاں اپنے پہلے سے ظاہر کردہ اس موقف پر قائم رہیں کہ وہ دھرنے کی حامی نہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے بعد ازاں اسلام آباد میں دیے گئے دھرنے کو ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پلان ’’بی‘‘ کے تحت اہم سڑکیں اور شاہراہیں بلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے چھٹے دن اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اجلاس میں بند کی گئی شاہراہیں فوری طور پر کھولنے، ملک بھر میں ضلعی سطح پر اپوزیشن کے جلسے منعقد کرنے اور جلد ہی آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جے یو آئی (ف) کی طرف سے اسلام آباد میں دھرنا ختم کرنے اور پلان ’’بی‘‘ شروع کرنے کے اعلان کے بعد اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا یہ پہلا اجلاس تھا۔ کمیٹی کے کنوینر اکرم خان درانی نے اپنے زیر صدارت منعقدہ اجلاس کے فیصلوں کا اعلان رہبر کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عوام کی مشکلات دور کرنے اور انہیں سہولتیں دینے کے جس جذبے سے شاہراہوں کی بندش ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اسے سراہا جانا چاہئے۔ یہ جذبے آگے چلے تو عوامی مشکلات کم کرنے اور ان کی فلاح و بہبود کے مقاصد میں پیش رفت کے لئے نظریاتی و سیاسی اختلافات برقرار رکھتے ہوئے بھی بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ میں قانون سازی کا کام آگے بڑھانے میں تمام حلقوں کو تعاون کرنا چاہئے۔ باہمی رابطوں اور مشاورت کے ذریعے احتجاجی مظاہروں سمیت سیاسی سرگرمیوں کیلئے اخلاقی ضابطوں پر اتفاق رائے کیا جا سکتا ہے۔ ملک اس وقت جن داخلی و خارجی چیلنجوں سے دوچار ہے ان میں حکومت اور اپوزیشن دونوں پر فرض عائد ہوتا ہے کہ اپنی اپنی آئینی ذمہ داریوں اور عوامی فلاح و بہبود کے تقاضوں کو مدنظر رکھیں۔ عوام کی مشکلات دور کرنے کیلئے اپنے اپنے دائروں میں بھی اور مل جل کر بھی زیادہ تندہی سے کام کریں۔