آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ربیع الثانی 1441ھ 11؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

دسمبر میں بچوں کو پولیو کیساتھ وٹامن اے کے قطرے بھی پلوانے کا فیصلہ

پشاور (وقائع نگار)دسمبر2019میں شروع ہونے والی نیشنل امیونائزیشن مہم میں چھ ماہ سے پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو کے قطروں کے ساتھ ساتھ وٹامن اے کے قطرے بھی پلوائےجائیں گے ان خیالات کا اظہار ڈپٹی ڈائریکٹر ای پی ائی ڈاکٹر تیمور شاہ نے خیبر پختونخوا کے ڈسٹرکٹ فوکل پرسن کی ایک روزہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ورکشاپ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سنٹر(NEOC)اسلام آباد ،نیوٹریشن انٹرنیشنل اور ای پی آئی پروگرام خیبر پختونخوا کے اشتراک سے پشاور کے مقامی ہوٹل میں ہوئی خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع کے فوکل پرسن برائے وٹامن اے سپلیمنٹیشن نے ٹریننگ میں شرکت کی نیشنل پروگرام منیجر نیوٹریشن انٹرنیشنل شہزاد افضل نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ صحت مند زندگی گزارنے کے لئے خوراک میں تمام غذائی اجزا کا مناسب مقدار میں موجود ہونا بہت ضروری ہے غذائی اجزا میں وٹامنز اور منرلز کی موجودگی کی بھی بہت اہمیت ہے وٹامن اے ہماری خوراک کا اہم جزو ہے جو بچوں کو شب خوری سے بچاتاہے ان کی قوت مدافعت میں اضافہ کرنا ہے اور ذہنی و جسمانی نشوونما میں مدد کرنا ہے انہوں نے واضح کیا کہ نیشنل نیوٹریشن سروے2018کے مطابق پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں غذائی کمی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اس عمر کےچالیس فیصد بچے قوت

مدافعت میں کمی کی وجہ سے اکثر بیمار رہنے اور لمبے دورانیئے تک غذائی کمی کے باعث قد سے چھوٹے رہ جاتے ہیں17.7فیصد بچے اپنے قد کی مناسبت سے کمزور رہ جاتے ہیں پاکستان کے 51.5فیصد بچے وٹامن اے کی کمی کا شکار ہیں وٹامن اے کی کمی کے نتیجے میں قوت مدافعت میں کمی کے باعث بچے مسلسل بیماریوں کے حملوں کا شکار ہو جاتے ہیں پاکستان میں ہر سال ہزاروں بچے کمزور قوت مدافعت کی وجہ سے نمونیا اور دست جیسی قابل علاج بیماریوں سے یا تو ہلاک ہو جاتے ہیں یا پولیو جیسی بیماریوں کا شکار ہو کر عمر بھر کی معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں پاکستان میں ہر سال دو مرتبہ وٹامن اے کے قطرے چھ ماہ سے پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پلوائے جاتے ہیں شہزادہ افضل نے بتایا کہ وٹامن اے سپلیمنٹیشن کی ٹریننگ کا دائرہ کار پاکستان کے تمام صوبوں بشمول گلگت بلتستان تک پھیلایا جائے گانیوٹریشن انٹرنیشنل نے حکومت کنیڈا کے تعاون سے2019میں چھ کروڑ اسی لاکھ کیپسول پاکستان کی حکومت کو عطیہ کئے اندازہ ہے کہ دسمبر2019کے قومی مہم میں تین کروڑ سے زائد بچے وٹامن کے قطرے ڈالیں گے اگر والدین اپنے بچوں کو سال میں دوبار وٹامن اے کے قطرے پلائیں تو ہم ہزاروں بچوں کو بیماریوں کے حملے سے بچا کر ان کی جان بچا سکتے ہیں۔نیوٹریشن انٹرنیشنل کے صوبائی کوارڈی نیٹر امتیاز علی شاہ نے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور حکومت خیبر پختونخوا کی طرف سے اس حوالے سے کی گئی کاوشوں کا ذکر کیااور محکمہ صحت کی طرف سے بھرپور تعاون پر شکریہ ادا کیا نیوٹریشن انٹرنیشنل کے آیوڈین پروگرام خیبر پختونخوا کے منیجر احتشام الحق نے شرکاء کو آیوڈین پروگرام کے حوالے سے آگاہ کیا اور بتایا کہ انکی ٹیمیں نمک کے کار خانو ںکی باقاعدہ دورہ کرتی ہے اور اس میں آیوڈین کے مقدار کو چیک کرتی ہیںاور اس حوالے سے اضلاع کی سطح پر بھی انکی ٹیمیں آیوڈین ملا نمک کے حوالے سے اپنا بھرپور کردار اد ا کر رہی ہیں نیوٹریشن انٹرنیشنل کے وٹامن اے سپلیمنٹیشن ( وے اے ایس ) کے پروگرام کوارڈی نیٹر محمد یاسین نےورکشاپ سے خطاب ہوئے کہا کہ چھ سے گیارہ ماہ کے بچوں کو ایک لاکھ نٹرنیشنل یونٹ وٹامن اے کی خوراک دی جاتی ہے جبکہ بارہ سے انسٹھ ماہ کے بچوں کودو لاکھ انٹرنیشنل یونٹ وٹامن اے کی خوراک دی جاتی ہے وٹامن اے جگر میں ذخیرہ ہو جاتاہے جہاں سے جسم کی ضرورت کے مطابق یہ خون میں شامل ہوتا رہتا ہے وٹامن اے کا یہ ذخیرہ چھ ماہ کے لئے کافی ہوتا ہے بچے کے جسم میں وٹامن اے کی موجودگی اس کی قوت مدافعت میں اضافہ کرتی ہے اور اسے بیماریوں کے حملے سے محفوظ رکھتی ہے بچوں اور تمام عمر کے افراد کو ایسی خوراک استعمال کرنی چاہئے جس میں قدرتی طور پر وٹامن اے پایا جاتا ہے مثلاً سبزپتوں والی سبزیاں شکرقندی،شملہ مرچ، پالک، گاجر، کلیجی، انڈا، دودھ، دہی، مکھن اور پھل جیسے پیپتا ، آم اور خوبانی وغیرہ خسرہ کے حملے کے فوراً بعد بچے میں وٹامن اے کی شدید کمی ہو جاتی ہے اگر اس بچے کو فوراً وٹامن اے کے قطرے نہ دیئے جائیں تو ان میں اندھاپن ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور ان میں سے آدھے بچے اپنی بینائی ضائع ہونے کے ایک سال کے اندر وفات پا جاتے ہیں جبکہ بقیہ بچے اپنی بینائی سے محروم ہونے کے باعث تمام عمر محتاجی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر محمد سلیم نے بتایا کہ اس ٹریننگ کے ذریعے خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع سے ڈسٹرکٹ فوکل پرسن کو اس قابل بنایا گیا ہے کہ وہ اپنے ضلع کے تمام فیلڈ ورکرز کی خود بھی ٹریننگ کر سکیں انہوں نے نیوٹریشن انٹرنیشنل کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ٹریننگ کے دوررس اثرات ہوں گے ڈسٹرکٹ فوکل پرسن اپنے اپنے اضلاع میں جا کر ضلع،تحصیل، یونین کونسل اور مرکز صحت کی سطح تک اس ٹریننگ کو اپنے فیلڈ ورکرز تک لے جائیں گے تاکہ دسمبر میں ہر بچہ وٹامن اے کے قطرے پی سکے انہوں نے کہا کہ ای پی آئی پروگرام اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لا کر خیبر پختونخوا کے بچوں میں وٹامن اے کی کمی کو دور کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کو غذائی قلت کے منفی اثرات سے بچا کر ان کو کارآمد شہری بنایا جا سکے۔ڈپٹی ڈائریکٹر ای پی آئی لاجسٹک ڈاکٹر خلیل الرحمن،اورپروگرام منیجر ڈی ایچ آئی ایس ڈاکٹر بابر علی شوکت محمد زئی نے شرکا کو وٹامن اے پلانے کے دوران احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا۔

پشاور سے مزید