آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ افغانستان اور طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے اعلان سے خطے میں امن و استحکام کا بہتر ماحول پیدا ہونے کی امیدیں پھر استوار ہوئی ہیں۔ قبل ازیں امریکی فوجی ذرائع اور طالبان دونوں ہی کے اشارے جلد مذاکرات شروع ہونے اور کامیابی کی طرف بڑھنے کے امکانات کی نشاندہی کرتے محسوس ہوتے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے تین ماہ قبل دہشت گردی کے ایک واقعہ میں امریکی فوجیوں سمیت گیارہ افراد کی ہلاکت کے بعد طالبان سے مذاکرات منقطع کر دیے تھے۔ ’’یوم تشکر عشائیے‘‘ میں فوجیوں کے ساتھ شرکت کے لئے خفیہ رکھے گئے اس اچانک دورے میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان میں اس وقت تک رہیں گے جب تک یا تو کوئی سمجھوتہ نہیں ہو جاتا یا ہم مکمل فتح حاصل نہیں کر لیتے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بات دہرائی کہ وہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 8600تک لانا چاہتے ہیں جن کی اس وقت موجودگی 12ہزار سے 13ہزار تک ہے۔ خطاب میں نشاندہی کی گئی کہ طالبان جنگ بندی پر راضی ہیں اور اگر وہ معاہدہ چاہتے ہیں تو یہ اچھا معاہدہ ہوگا۔ صدر ٹرمپ کے خطاب سے سامنے آنے والی صورتحال اس اعتبار سے اسلام آباد کے لئے حوصلہ افزا کہی جا سکتی ہے کہ وہ افغانستان میں مذاکرات کے لئے سہولت کاری کرتا رہا ہے اور ہمسایہ ملک میں جس قدر جلد امن قائم

ہوگا، اتنا ہی جلد پاکستان کو اپنے بعض مسائل سے نبرد آزما ہونے میں آسانی ہوگی۔ یہ بات بہر طور ملحوظ رکھنے کی ہے کہ افغانوں کے داخلی مکالمے یا بعد از انخلا امن و استحکام کے موثر انتظامات کے بغیر امریکہ کے چلے جانے کی صورت میں کئی سنگین مسائل جنم لینے کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا پہلے سے تدارک کرنا اور ان کے اثرات سے بچنے کی تدابیر کرنا ضروری ہوگا۔