آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل2؍جمادی الثانی 1441ھ 28؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بدصورت چہرہ منفی سوچ سے بہتر ہوتا ہے اور خوبصورت لب و رُخسار خوبصورت خیال سے زیادہ حسین نہیں ہو سکتے۔ بارود کے دھویں میں جلتی ہوئی لاشوں کو ہی دہشت گردی قرار نہیں دیا جا سکتا، شعور کا قتل بھی دہشت گردی قرار پاتا ہے۔ خوش قسمت پاکستان میں بسنے والے بے نصیب پاکستانیوں پر ماضی میں سیاسی دہشت گردی کے سورج بھی طلوع ہوتے رہے ہیں اور معاشی دہشت گردی کے کئی چاند بھی قانونی موشگافیوں، سرکاری خباثتوں اور کرپشن کی چالبازیوں کے جُھرمٹ میں اُڑتی ہوئی بدلیوں کی اوٹ میں غروب ہوتے رہے ہیں۔ وہ جو چارہ گر کہلانے کے دعویدار تھے وہ سادہ لوح قوم کو شفائی مرہم دینے کے نام پر اُن کے زخموں پر نمک پاشی کرتے رہے۔ اِس وطن پر کبھی شرفائے وطن نے اقتدار کا جھنڈا لہرایا تو کبھی زرداروں نے افلاس کے ماروں کو لحد میں اُتارا۔ معیشت کا جنازہ دھوم سے نکلتا رہا اور بے بسی کے تابوت میں بند میتیں اپنی ہی موت کو شانوں پر اُٹھائے شہر خموشاں کے راستوں پر گامزن رہیں۔ مسلسل چالیس برس تک سیاست کی نگری میں کبھی تیری، کبھی میری باری آتی رہی۔ یہاں تک کہ باریاں بدلتے بدلتے حالات اِس مقام پر پہنچ گئے کہ دھرتی پر ہر بچہ مقروض پیدا ہونے لگا۔ جب احتساب کا وقت آیا تو دنیا کے سب سے زیادہ تندرست اور توانا اِنسان بھی کُہنہ امراض کا شکار ہو گئے۔ وہ جو قوم کا دم بھرتے نہیں تھکتے تھے اُن کا اپنا دم پھولنے لگا، جو ابھی تک جانے سے قاصر ہیں وہ مرضِ ستم ظریفی کا واویلا کر کے اذنِ پرواز کے لئے انگڑائیاں لے رہے ہیں۔ امر واقع یہ ہے کہ جب کسی قوم کی قیادت ہی بددیانت ہو جائے تو پھر تقدیر ایزدی کے فیصلوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ قوم کو اِس بات کا ادراک تو بخوبی ہو گیا ہوگا کہ ان بہروبیوں کا مطمح نظر دولت اور اقتدار کے سوا کچھ نہ تھا۔اسی لیے پاکستان کے باشعور عوام نے گزشتہ برس عام انتخابات میں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی قیادت تبدیل کی اور عمران خان کے وژن کو ووٹ دے کر انہیں ایوانِ اقتدار تک پہنچایا۔ جس کے ثمرات رفتہ رفتہ بہتری کی صورت میں ملنا شروع ہو چکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے پہلے سال کے اختتام تک 32شعبہ جات میں کامیابی حاصل کی۔ جن میں خارجہ پالیسی، فاٹا کا انضمام، کرپشن کے خلاف مؤثر مہم، کفایت شعاری، انصاف کارڈ کا اجرا، انسدادِ غربت، ماحولیات اور سیاحت جیسے شعبہ جات شامل ہیں۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے یہ حقیقت پہلی مرتبہ طشت از بام ہوئی کہ پاکستان تحریک انصاف کی کاوشوں سے پچاس برس بعد اقوام متحدہ کے فلور پر مسئلہ کشمیر کی آواز گونجی۔ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ البتہ بھارت سے تعلقات بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوئے ہیں اور اس کا سبب مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ ہے۔ اِس موقع پر عمران خان نے جرأت سے کام لیتے ہوئے یہ اعلان عام کیا کہ وہ خود کشمیریوں کا مقدمہ دنیا کے سامنے لڑیں گے۔ تحریک انصاف حکومت کی ایک بڑی کامیابی یہ بھی ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں اور داخلی و خارجی محاذوں پر دونوں میں ہم آہنگی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے معیشت کو تباہ کرنے والے عناصر اور ذرائع کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور دیمک کی طرح چاٹنے والے کھیل منی لانڈرنگ کے خلاف کریک ڈائون کیا۔ قریباً ایک لاکھ ایکڑ رقبہ بڑے بڑے قابضین سے واگزار کروا کر واپس ریاست کے سپرد کیا گیا اور اربوں روپے کی سرکاری زمینیں واپس لی گئیں۔ عمران خان نے پاکستان کے کسانوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے احکامات صادر کئے اور کسانوں کو فصل پر مکمل اور بروقت ادائیگیوں کو یقینی بنایا۔ یہ اعزاز بھی ہمیں ہی حاصل ہے کہ ہم نے ایک طرف امن کا پرچم بلند کیا تو دوسری طرف دشمن کے جارحانہ عزائم کا سختی سے جواب بھی دیا۔ 27فروری کا دِن مورخ سنہرے حروف میں لکھنے پر مجبور رہے گا۔ پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کو اس انداز میں مضبوط بنایا کہ دنیا بھر میں تعلقات کو ازسر نو ترتیب دیا۔ سعودی عرب، چین، امارات، قطر اور ملائیشیا کے ساتھ خصوصی تعلقات قائم کئے اور تجارتی کامیابیاں حاصل کیں۔ ایران اور سعودی عرب میں ثالثی کا کردار بھی ہم نے ہی ادا کیا اور افغانستان میں امن کی بحالی کے لئے بھی ہماری کاوشیں فراموش نہ کی جا سکیں گی۔ غیر جانبدار مبصرین یہ کریڈٹ بھی پی ٹی آئی کو ہی دیتے ہیں کہ عمران خان دیار غیر میں پابندِ سلاسل پاکستانیوں کو رہائی دلا کر وطن واپس لائے اور اُن کے خاندانوں کے غموں کو خوشیوں میں بدل دیا۔ بعض لوگ پنجاب کے ہر دلعزیز وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی شخصیت پر اُنگلی اُٹھانے سے باز نہیں آتے مگر میں اِن کو یہ آئینہ دِکھانا چاہتا ہوں کہ آپ وزیراعلیٰ ہائوس کے اخراجات کا تقابلی جائزہ لیں، ماضی میں عوام کا پیسہ ’خادم اعلیٰ‘ کے ایوان پر کس طرح نچھاور کیا جاتا رہا اور اب قوم کا کتنا پیسہ بچایا جا رہا ہے۔ دور دراز سے آئے محنت کشوں کے لئے شہروں میں قیام گاہیں ہم نے ہی بنائی ہیں۔ جہاں قیام و طعام سمیت علاج معالجے کی سہولتیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ غریب عوام کے لیے احسان پروگرام شروع کیا گیا ۔ پہلی مرتبہ کے پی، سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے بعض علاقوں میں 8کروڑ غریب شہریوں کو ہیلتھ کارڈ دیے گئے جس میں ایک خاندان کے لیے 7لاکھ20 ہزار کی رقم حکومت ادا کرے گی۔

اس وقت عمران خان کے مخالفین موجودہ حکومت پر الزامات لگاتے ہیں کہ اس حکومت نے کوئی کام نہیں کیا درحقیقت عمران خان پر الزمات وہ لگا رہے ہیں جن پر کرپشن کے کیسز ہیں اور وہ اپنی کرپشن پر پردہ ڈالنے کے لیے عمران خان کو اس وقت ٹارگٹ کیے ہوئے ہیں لیکن ملک کے غیر جانبدار مبصرین گواہ ہیں کہ تمام تر کمیوں اور کوتاہیوں کے باوجود عمران خان اس ملک کے 30سال پرانے گند کو صاف کر رہے ہیں اور ملک کو صحیح سمت میں لے کر چل رہے ہیں۔ اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ عمران خان اس ملک کو روشن دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان شاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان اقوام عالم کے لئے ایک عظیم اسلامی اور فلاحی ریاست کے طور پر جانا اور پہچانا جائے گا۔ تب معلوم ہو گا کہ راہزن اور راہبر میں کتنا فرق ہوتا ہے۔