آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کئی ناغے ہو گئے، معذرت۔ وجوہ ضرور ہوں گی مگر اب کیا ان کی تفصیل دی جائے۔
تقریباً دو مہینوں سے ملک میں لاقانونیت کے مظاہر زور دکھا رہے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے ملک میں کوئی حکومت نہیں ہے جو شور و شر پر قابو رکھے۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اس سوال کے بہت سے جواب ہوں گے اور ہیں مگر کسی جواب سے (کم از کم ان جوابوں سے جو میرے ذہن میں آئے) وہ تو کوئی تسلی بخش مستقبلیہ لگتا ہے۔ یہی اندازہ ہوتا ہے کہ آخر یہ جو ہو رہا ہے یہ ہو کیوں رہا ہے؟ پھر کیا کیا جائے؟ سو محاسبہ تو کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا ورنہ اب تک کر دیا جانا تھا۔ آخر یہ ایک (بڑا) ملک ہے جہاں ایک باقاعدہ حکومت قائم ہے۔ اس حکومت کے پاس بڑی معقول تعداد میں ایک پولیس فورس ہے (صوبائی بھی اور وفاقی بھی) اور ماشاءاللہ ایک مضبوط، بڑی اور تربیت یافتہ فوج بھی ہے جس سے جب ضروری ہو جائے، قیام امن کا کام بھی لیا جا سکتا ہے۔ پھر کیا بات ہے کہ ہمارے رات دن کچھ زیادہ ہی گردش کر رہے ہیں۔ مجھ نا چیز کی سمجھ میں کوئی شافی جواب نہیں آتا۔
اور یہ کب تک چلے گا یعنی کب تک چل سکتا ہے پھر بدامنی ایک حد تک ہوتی ہے، معلوم ہوتا ہے موجودہ بدامنی کی حد ابھی نہیں آئی۔ (کیا ہمیں بے عمل رہ کر صرف اس حد کا انتظار کرنا چاہئے؟ اگر ہم اس سوال کا جواب اثبات میں دیتے ہیں تو اپنی قومی نامردی (معذرت) کا کھلا اقرار

کر لیتے ہیں جو ایک زندہ تو کیا مردہ قوم کو بھی زیب نہیں دے گا۔ اس کا مطلب اپنی کامل قومی نا اہلی کا کھلا اعتراف ہو گا، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
تو پھر؟ تو پھر اور کون سا جواب ہے جو صورتحال کا جواب دے سکتا ہو اور اس کا علاج بھی ہو سکتا ہو۔ ایک ماشاءاللہ اتنی پرانی اور اتنی بڑی قوم کے پاس اس صورت حال کا جواب ہونا ضرور چاہئے۔
مگر کیا ہم کو وہ عناصر کہیں واضح طور سے نظر آتے ہیں جو ہم میں امن و سکون اور مستقبل کی طرف سے امید افزا صورتحال دکھائیں کیونکہ اس کے بغیر کوئی اور جواب جواب کی حیثیت کا نہ ہو گا۔
تو پھر کیا ہو۔ کیا ہو گا
تاریخ میں ہم سے پہلے بھی بہت سی قومیں ایسی صورتحال سے گزری ہیں، بعض تباہ ہو گئیں، بعض کامل تباہی سے بچ گئیں اور اپنے آپ کو جلد یا بدیر درست کر لیا اور ایک بار پھر ارتقاءکے راستے پر چل پڑیں۔ خود ہمارے سابق حاکم برطانیہ پر بار بار بڑے سخت وقت آئے۔ اس کی نو آبادیاں اس کے ہاتھ سے نکل گئیں (یہ تو اچھا ہی ہوا، اسے کسی قوم کو غلام کر کے رکھنے کا کیا حق تھا) مگر کیا ہم میں سے کسی معقول تعداد کو کسی مثبت تبدیلی کے آثار نظر آ رہے ہیں؟ جو کچھ چھپتا ہے وہ سیاسی و سماجی بیانوں اور تجزیوں کے ذریعے عام ہوتا ہے۔ اس کی رو سے تو مجھے کسی مثبت تبدیلی کے آثار نظر نہیں آتے۔ تو پھر ہم، ہمارے لیڈر کیا کر رہے ہیں؟ کیا وہ مستقبل پر سوچ ہی نہیں رہے جو اس کا اظہار کریں۔ ہمیں، ایک عام آدمی کو کچھ تو پتہ چلے کہ ہمارا سوچنے اور بولنے والا طبقہ آج کے اور مستقبل کے بارے میں کیا سوچ رہا ہے۔ معذرت، صد معذرت کہ مجھے صاف کچھ پتہ نہیں چلتا۔
خدا کرے میں غلطی پر ہوں، اگر میں درست سوچ رہا ہوں تو یہ صورتحال ایک خوفناک مستقبل میں تبدیل ہونے والی ہے۔ شاید وہ مستقل ہمارا پورا ملک نہ سہار سکے۔ خدا نہ کردہ ،خدا نہ کردہ۔
بنگلہ دیش کی صورتحال تو پورے برصغیر کا ایک نہایت بھیانک نقشہ کھینچ رہی ہے مگر ایسا کیوں ہو رہا ہے اور کب تک ہو گا۔ کیا اس دوران میں ہم مکمل تباہی کے غار میں گرنے کے قابل نہیں ہو جائیں گے۔ ذرا سوچئے ان فکریات سے ہمارے ازلی دشمنی کتنا فائدہ اٹھائیں گے۔ مگر آخر ہم نے ایسا کیا قصور کیا ہے، ایسا کیا قصور کر رہے ہیں۔ میں اپنی حد تک بہت سوچتا ہوں، مجھے اس سوال کا کوئی تشفی بخش جواب نہیں ملتا کہ آخر ہم اتنی تیزی سے تباہی کی طرف کیوں جا رہے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال
موجودہ عجیب و غریب حالات میں ایک خبر ضرور اچھی ملی ہے، وہ ہے مشہور و معروف ماہر تعلیم ڈاکٹر پروفیسر ظفر اقبال کا وفاقی جامعہ اردو میں بہ حیثیت شیخ الجامعہ تقرر۔ میں ڈاکٹر صاحب سے زیادہ واقف نہیں۔ جو مجھ سے شنیدہ ہی شنیدہ ہے مگر اس حد تک ضرور کہ اس سے ایک چھوٹی موٹی روشنی کی کرنیں پھوٹ رہی ہیں۔ خدا کرے اس کا یہ تقرر اس کبھی عظیم کہلانے والی جامعہ کی حیثیت کم از کم اس جگہ لے جائے جہاں وہ چند ہی برس میں پہنچ گئی تھی۔ فی الحال اتنا اختصار ہی کافی سمجھا جائے۔ ڈاکٹر صاحب اور جامعہ دونوں میں ماشاءاللہ لا انتہا گنجائشیں ہیں۔ اگر انہوں نے ذاتیات سے بلند رہ کر صرف جامعہ کے مفاد کو سامنے رکھا تو کوئی وجہ نہیں کہ جامعہ جلد سے جلد ایک عظیم مقام حاصل نہ کر لے۔ جامعہ میں اب بھی ایسے فاضل استاد پڑھا رہے ہیں کہ ملک بھر کی جامعات اسے رشک سے دیکھتی ہیں۔ ہمیںاس تقرر سے مزید خوشی اس لئے ہو گی کہ ڈاکٹر صاحب نے 1979ءمیں اپنی تدریسی زندگی کا آغاز میرے وفاقی اردو سائنس سے کیا تھا۔ معاف کیجئے میں اردو کالج کے ذکر پر آتا ہوں تو کسی قدر جذباتی ہو جاتا ہوں، لیکن آخر جذبات اور کس دن کیلئے بنے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں