آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ24؍ جمادی الثانی 1441ھ 19؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آج آپ کی خدمت میں دو اہم کتب پر تبصرہ پیش کررہا ہوں۔ ایک کا تعلق نہایت سنجیدہ موضوع اور دوسری کا تعلق طنز ومزاح سے ہے۔ پہلے سوچ رہا تھا کہ کچھ سیاست کے بارے میں لکھوں مگر سیاست کا جو حال ہو گیا ہے اس پر لکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ بعض بیانات پڑھ کر شرم آنے لگی ہے۔

(1)پہلی کتاب ہمارے پیارے دوست جناب سجاد چیمہ (ولد جسٹس محمد افضل چیمہ) کے قریبی عزیز جناب ذوالفقار احمد چیمہ کی تحریر کردہ(Straight Talk) ’’یعنی کھری کھری باتیں‘‘ ہے۔ ذوالفقار چیمہ صاحب کو کون نہیں جانتا یہ غلط کاموں اور رشوت ستانی کی وجہ سے مشہور نہیں ہیں بلکہ اپنی ایمانداری اور خوش اخلاقی کی وجہ سے بہت ہردلعزیز تھے۔ ذوالفقار چیمہ انسپکٹر جنرل پولیس رہے ہیں اور جیسا کہ ابھی بیان کیا ہے اپنی ایمانداری، بہادری اور کھری باتوں کی وجہ سے بہت مشہور رہے ہیں، بےحد تجربہ کار افسر ہیں۔ قانون نافذ کرنے، انتظامیہ، ٹریننگ اور قوتِ افرادی کو بڑھانے میں ماہر ہیں۔ آپ لاہور کے پولیس چیف رہے ہیں۔ وزیراعظم کے پرسنل اسٹاف آفیسر، ڈائریکٹر ٹریننگ، کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی اور پی آئی اے کے سیکورٹی ڈویژن کے سربراہ کی حیثیت سے کام کیا ہے۔ اس کے علاوہ جناب ذوالفقار چیمہ صاحب نے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے طور پر ڈیرہ اسمٰعیل خان، ایبٹ آباد، کوہاٹ، گوجرانوالہ اور شیخوپورہ ریجن میں نہایت اعلیٰ کارکردگی دکھائی تھی، وہاں کے لوگ آج بھی ان کو بہت یاد کرتے ہیں۔ چیمہ صاحب کی کتاب 2019میں لاہور سے شائع ہوئی ہے، اس کتاب کو ای میل کے ذریعے خریدا جا سکتا ہے۔ ای میل marvabooks@yahoo.com ہے۔

جناب ذوالفقار چیمہ نے 40موضوعات پر قلم آزمائی کی ہے، ہر موضوع دوسرے سے بہتر اور دلچسپ ہے اور ملک و قوم کی خدمت کو مدّنظر رکھ کر لکھا گیا ہے۔ پولیس، عوام، تعلیمی اداروں اور مشہور ذہین شخصیات سے ملاقاتوں اور ان کی صلاحیتوں پر بھی تبصرہ کیا ہے۔ ایک بہت پیارا مضمون انگلینڈ میں پاکستانی طلبا و طالبات سے ملاقات پر مبنی ہے۔ ایک اپنے دوست کا تذکرہ ہے جو یہاں کی غنڈہ گردی، لٹھ بازی، پتھر بازی سے ناراض ہوکر کینیڈا یا امریکہ جانے پر تیار ہوگئے۔ بعد میں چیمہ صاحب نے والد اور بڑی بیٹی نے نہایت اچھے، مناسب الفاظ کہے جس سے لڑکے فوراً پاکستانی ہوگئے اور پاکستان سے محبت کا اظہار کرکے کہا کہ وہ کہیں نہیں جائیں گے۔ یہاں میں اپنی طرف سے ایک اہم اور دل شکن بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ملک میں آپ کو کہیں ریلیف نہیں ملتا اگر پولیس غنڈا گردی کرتی ہے تو سنوائی نہیں ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بعض اداروں کے بارے میں اچھے تاثرات نہیں پائے جاتے۔ ہر شخص یہی کہتا ہے کہ اگر یہ ادارے ٹھیک سے کام کریں تو ملک کی حالت بہت جلد بہتر ہو سکتی ہے۔

(2)اب سنجیدہ باتوں کو چھوڑ کر طنز و مزاح کی جانب آتے ہیں۔ اس وقت میرے پاس دو کتب بنام آبشار سکوت اور کچھ لکھ نہ سکے اور کچھ لکھ بھی گئے موجود ہیں۔ دونوں کتب کے مصنف ہمارے مشہور مزاح نگار ایس ایچ جعفری صاحب ہیں۔ دونوں کتب خزینہ طنز و مزاح ہیں۔ آبشار سکوت پر میرے نہایت قابل دوست پروفیسر پیرزادہ قاسم نے تبصرہ کیا ہے جو پچھلے فلیپ پر موجود ہے۔ پیرزادہ صاحب نے چند سطور میں جعفری صاحب کی شخصیت کو اُجاگر کردیا ہے مثلاً جناب ایس ایچ جعفری باکمال شخصیت کے مالک ہیں۔ بااخلاق، متین اور بہت دلپذیر گفتگو کے حامل، اپنے گردوپیش سے باخبر، جذرسی اور معنی آفرینی سے لیس۔ یوں بات سے بات نکالتے ہیں کہ بے ساختہ داد دینا پڑتی ہے۔ اُن کی شگفتہ تحریروں پر مشتمل دو کتابیں ’’لکھ رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ‘‘ اور ’’کچھ لکھ نہ سکے اور کچھ لکھ بھی گئے‘‘ نظر نواز ہو چکی ہیں۔ پریشان خیالی اور پریشانی حال میں یوں تو ہنسنا ہنسانا حسنات میں شامل ہے مگر جعفری صاحب کی یہ سوچ کہ فلاحی اداروں اور کاموں میں غیرمشروط تعاون جاری رہنا چاہئے، نہایت صائب اور قابل تعریف و تقلید ہے۔

دوسری کتاب، ’’کچھ لکھ نہ سکے، کچھ لکھ بھی گئے‘‘ بھی طنز و مزاح کا لاجواب خزینہ ہے جو کراچی سے شائع ہوئی ہے۔ جعفری صاحب کی انکساری دیکھئے کہ یومِ پیدائش یاد نہیں (جو سرٹیفکٹ پر ہے وہی لکھ دیتے ہیں) اور تعلیم معمولی کہتے ہیں۔ اسی کتاب کا دیباچہ ہمارے سابق عارضی وزیراعظم ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی نے لکھا ہے اور استادِ محترم پیرزادہ قاسم کی طرح انھوں نے جعفری صاحب کے ذوق مزاح کی بےحد تعریف کی ہے۔ ڈاکٹر معین قریشی کے دیباچہ سے چند سطور تحریر کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔ ’’کتاب کے طرز تحریر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کسی پیٹنٹ ادیب کی تخلیق نہیں لگتی۔ اس کے اسلوب کی سادگی اور بیان کی بے ساختگی نے اس کی مطالعہ پزیری کو دو چند کردیا ہے۔ اس پر یہ طرّہ کہ متن میں شروع سے آخر تک بین السطور مزاح کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ جعفری صاحب کا زیادہ تر مزاح ان کے مزاح کی طرح دھیما، شائستہ اور دل نشین ہے۔ اس کتاب کو پڑھ کر میری سوچی سمجھی رائے یہ ہے کہ کچھ لکھ نہ سکے اور کچھ لکھ بھی گئے کے پردے میں جعفری صاحب سب ہی کچھ لکھ گئے ہیں۔