آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل23؍جمادی الثانی 1441ھ 18؍ فروری2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نزلہ و زکام کے سدباب کیلئے مددگار غذائیں

ملک بھر میں جاڑے کی آمد ہوگئی ہے ، ایسے میں صبح کی خنکی اور سرد شامیں جہاں دل میں ہلچل مچادیتی ہیں، وہیں موسمیاتی الرجی ( نزلہ زکام، کھانسی اور بخار) میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ اس حوالے سے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً 200قسم کے وائرس اس بیماری کی وجہ بنتے ہیں۔ 

بیماری میں بستر سے لگ جانا کوئی معمولی بات نہیں ، جسم میں ٹیسیں اٹھنا، بخار، ٹھنڈ لگنا اور ناک کا بند ہوجانا کسی بھی انسان کو پریشان کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ لیکن اس موسمی بدلاؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے کئی ایسے گھریلو ٹوٹکے موجود ہیں جو مذکورہ اثرات کو کم کرتے ہوئے طبیعت بہتربنانے میں مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ آئیے ان کے بارے میں جانتے ہیں۔

چکن سوپ/یخنی

نزلہ زکام پر قابو پانے کے لیےچکن کا سوپ یا یخنی بہترین انتخاب ہوسکتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ سبزیوں کے ساتھ تیار کیا گیا سوپ یا مرغی کی یخنی جسم میں نیوٹروفلز (Neutrophils)کی نقل و حرکت کو سست کرتی ہے۔ نیوٹروفلز سفید خلیوں کی ایک قسم ہے، جو آپ کے جسم کو وبائی امراض سے محفوظ رکھتا ہے اور اس کی نقل و حرکت میں سست روی بافتوں کی مرمت وعلاج میں بھی سازگا ر ثابت ہوتی ہے۔

ایک اور تحقیق سے ثابت ہے کہ چکن سوپ اَپر ریسپائرٹی انفیکشن کی علامات کو بھی کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ سوپ میں سوڈیم کی کم مقدار انسانی جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے کے ساتھ زیادہ غذائیت فراہم کرتی ہے، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ چاہے آپ جیسا بھی محسوس کررہے ہوں سرد موسم میں چکن سوپ پینا ایک بہترین انتخاب ہوتا ہے۔

ادرک

صحت کے لیے ادرک انتہائی مفید اور صدیوں سے آزمودہ ہے۔ سائنس بھی اب ادرک میں پائی جانے والی بے تحاشا غذائی خصوصیات کو تسلیم کرچکی ہے۔ کھانسی اور نزلہ زکام ہونے کی صورت میں ایک چمچ شہد میں ادرک کے رس کے چند قطرے ڈال کر پینے سے افاقہ ہوتا ہے۔ 

کچی ادرک کے چند ٹکڑے پانی میں اُبال کر استعمال کرنے سےکھانسی میں آرام اور گلی کی سوزش کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ ایک گرام ادرک کااستعمال طبی طور پر متلی دور کرنے کا باعث بنتا ہے۔ ساتھ ہی سرد موسم میں ادرک اور شہد ملا اُبلا ہوا پانی جسم کو گرم رکھتا اور سردی سے بچاتا ہے۔

شہد

شہد میں قدرتی طور پر کئی طرح کی اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی مائیکروبیل خصوصیات موجود ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ شہد کھانسی پر قابو پانے میں بےحد مؤثر ہے۔ تحقیق کے دوران سوتے وقت بچوں کو 10گرام شہد استعمال کرواکے ان کی کھانسی کی شدت میں کمی ثابت کی گئی۔ 

سرد موسم میں شہد کا استعمال بچوں میں سردی کی علامات کو کم کرتا ہے۔ دوسری جانب چائے میں لیموں اور شہد ڈال کرپینے سے گلے کی تکلیف میں راحت محسوس ہوتی ہے۔ تاہم ڈاکٹرز کے مطابق ایک سال سے کم عمر کے بچوں کو شہد نہیں دینا چاہئے کیونکہ اس میں بوٹولیزم اسپورز(Botulism spores) موجود ہوتا ہے اور نومولود بچوں کا مدافعتی نظام اس سے لڑنے کے قابل نہیں ہوتا ۔

لہسن

لہسن میں ایلیسن نامی مرکب موجود ہوتا ہے، اس مرکب میں اینٹی مائیکرو بیل خصوصیات پائی جاتی ہیں، لہٰذاسرد موسم کی خوراک میں لہسن کا اضافی استعمال سردی یا ٹھنڈ کی شدت کو کم کرسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق، لہسن کا باقاعدہ استعمال سردی کے حملے کو 63فیصد تک کم کرتا ہے، ساتھ ہی نزلہ زکام کے حملے کو بھی زائل کرتا ہے۔ 

یہ بیماری سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ سرد موسم میں لہسن کےفوائد سے متعلق مزید تحقیق کی ضرورت ہے، تاہم غذا میں لہسن کا زائد استعمال نقصان دہ نہیں سمجھا جاتا۔

وٹامن سی کے فوائد

وٹامن سی انسانی جسم میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور صحت کے اعتبار سے اس کے بہت سے فوائد ہیں۔ لیموں، کینو، چکوترا، سبز پتوں والی سبزیاں اوردیگر پھل وٹامن سی کا بہترین ذریعہ تسلیم کیے جاتے ہیں۔ وٹامن سی کا استعمال سانس کی نالی کی بیماریوں کو دور کرنے اور دیگر وبائی امراض سے محفوظ رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ 

بیماری کے دوران شہد کے ساتھ تازہ لیموں کا عرق گرین ٹی میں شامل کرنے سے بلغم میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ لیمنیڈ پینا بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ مشروب پوری طرح ٹھنڈ کو ختم نہیں کرسکتا، لیکن وٹامن سی حاصل کرنے میں مدد گار ہوتا ہے جس کی آپ کے مدافعتی نظام کو بے حد ضرورت ہوتی ہے۔

نوٹ: اگر آپ چند ہفتوں سے مستقل بیمار ہیں تو اپنے ڈاکٹر سے معائنے کے لئے وقت لیں، مثلاً اگر آپ کو سانس لینے میں دشواری ہورہی ہے اور دل تیزی سے دھڑک رہا ہے، غنودگی یا بےہوشی محسوس کرتے ہیں یادیگر علامات میں شدت محسوس کرتے ہیں تو فوری طور پر طبی مدد حاصل کریں اور اچھے معالج سے رابطہ کریں۔

صحت سے مزید