آپ آف لائن ہیں
پیر3؍صفر المظفّر 1442ھ 21؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

صدر کو شرعی سزاؤں میں معافی کا اختیار نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل

اسلام آباد (انصار عباسی) اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) نے آئین کے آرٹیکل 45؍ کو غیر اسلامی قرار دیا ہے؛ اس آرٹیکل میں صدر مملکت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی مجرم کو معافی دیں۔

آئینی شق میں ترمیم کی تجویز کے متعلق وزارت قانون و انصاف کی جانب سے پیش کیے گئے حوالے پر غور کرتے ہوئے سی سی آئی نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت اسلامی قوانین، حدود اور قصاص کے تحت سنائی گئی سزا پر معافی نہیں دے سکتے۔

 آئینی ترمیم کا یہ بل حال ہی میں سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا۔ سی سی آئی کا کہنا تھا کہ ریاست کے سربراہ کو اس طرح کے اختیارات دینا اسلامی شریعت کے خلاف ہے۔ تاہم، کونسل کا کہنا تھا کہ تعزیرات (انسان کے بنائے گئے قوانین) کے تحت سنائی گئی سزائوں پر صدر مملکت معافی کا یہ اختیار استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ ان کا تعلق حقوق العباد (انسانیت کی جانب اسلام کے فرائض) سے نہیں۔

 کونسل کا کہنا تھا کہ ملک و قوم کے مفاد میں صدر مملکت معافی دے سکتے ہیں یا سزا ختم کر سکتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 45؍ میں لکھا ہے کہ ’’صدر مملکت کو کسی عدالت، ٹریبونل یا دیگر ہئیت مجاز کی دی ہوئی سزا کو معاف کرنے، ملتوی کرنے اور کچھ عرصے کیلئے روکنے، اور اس میں تخفیف کرنے، اسے معطل کرنے یا تبدیل کرنے کا اختیار ہوگا۔‘‘ 

جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے حال ہی میں سینیٹ میں ترمیمی بل پیش کیا ہے جس میں آرٹیکل 45؍ میں ترمیم کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ سراج الحق نے تجویز دی ہے کہ اس آرٹیکل میں ترمیم کی جائے کہ صدر مملکت حدود اور قصاص کے تحت سنائی گئی سزائوں میں معافی کا اختیار استعمال نہیں کریں گے۔ 

گزشتہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں اسلامی نظریاتی کونسل نے مجوزہ ترمیم کا جائزہ لیا اور کہا کہ ماضی میں بھی سی آئی آئی نے اس معاملے پر غور کیا تھا اور کہا تھا کہ آرٹیکل 45؍ ا پنی موجودہ حالت میں غیر اسلامی ہے۔ سی آئی آئی کی مذکورہ سفارشات کونسل کی سالانہ رپورٹ برائے 2012-2013ء میں شائع ہوئی تھیں۔ 

تاہم، ذرائع کہتے ہیں کہ اس وقت کی پارلیمنٹ نے ان سفارشات پر غور کیا اور نہ ہی آرٹیکل 45؍ کو اسلامی تعلیمات کے عین مطابق تبدیل کرنے کیلئے پیش کیا۔ کونسل وزارت قانون کو آرٹیکل 45؍ کے متعلق اپنی سفارشات نہیں بھجوائے گی۔ یہ تجاویز غور کیلئے سینیٹ کو بھجوائی جائیں گی۔

 1973ء کے آئین کے تحت، قرآن اور سنت سے متصادم کوئی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔

 سی آئی آئی بھی اسی لیے تخلیق کی گئی تھی کہ وہ ملک کے ہر قانون کا جائزہ لے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی ایسا قانون نہ بنے جو اسلامی تعلیمات کیخلاف ہو۔

 آئین کے تحت کونسل کو یہ مینڈیٹ بھی حاصل ہے کہ وہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کو سفارشات پیش کرے جس میں مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی حلقہ ہائے عمل میں اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق، جس طرح قرآن پاک اور سنت میں ان کا تعین کیا گیا ہے، ترتیب دے سکیں۔

 کونسل کا کام یہ بھی ہے کہ ایوان، صوبائی اسمبلیوں، صدر مملکت یا گورنر کو کونسل کو بھیجے گئے کسی بھی معاملے پر مشورہ دے کہ آیا کوئی قانون اسلامی تعلیمات سے متصادم تو نہیں۔ 

اسلامی نظریاتی کونسل ایسے اقدامات کا مشورہ بھی دیتی ہے جو موجودہ قوانین اسلامی تعلیمات کے عین مطابق بنانے میں مدد دیتے ہوں، اور ساتھ ہی ان مراحل کی تجویز بھی دیتی ہے جن میں ان اقدامات پر عملدرآمد کیا جا سکے۔

اہم خبریں سے مزید