آپ آف لائن ہیں
جمعہ3؍رجب المرجب 1441ھ 28؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

حال ہی میں کراچی میں پانچویں پاکستان ایڈیبل کانفرنس 2020ء کا انعقاد کیا گیا جس میں کانفرنس کے چیئرمین میرے دوست رشید جان محمد، PVMAکے چیئرمین شیخ عاطف اکرام اور PEORAکے چیئرمین طارق اللّٰہ صوفی نے مجھے خصوصی طور پر مدعو کیا تھا۔ 

کانفرنس کے مہمانِ خصوصی وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود تھے جبکہ مہمانِ اعزازی ملائیشیا کی وزیر برائے پرائمری انڈسٹریز مادام تریسا کوک تھیں۔ 

دو روزہ کانفرنس میں پاکستان میں ملائیشیا کے سفیر، قونصل جنرل، ملائیشین پام آئل بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل، انڈونیشیا کے قونصل جنرل، خطے میں خوردنی تیل کے خریداروں، سپلائرز، ماہرین اور ملائیشین پام آئل بورڈز کے 100سے زائد غیر ملکی مندوبین نے شرکت کی۔کانفرنس کے پہلے دن شیما کرمانی اور ملک کے ممتاز فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ 

کانفرنس میں ماہرین کی پاکستان میں خوردنی تیل کی بڑھتی ہوئی کھپت اور امپورٹ سے ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر پر دبائو اور اُن کے حل کیلئے دی گئی تجاویز شیئر کرنا چاہوں گا۔

پاکستان کی سب سے بڑی امپورٹ پیٹرولیم مصنوعات 13ارب ڈالر کی ہیں۔ دوسرے نمبر پر پام آئل اور تیل کے بیجوں کی امپورٹ ہے جو 3ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ پاکستان خوردنی تیل کی ضرورت کا 75فیصد امپورٹ کررہا ہے جبکہ مقامی سطح پر صرف 10فیصد طلب پوری کی جارہی ہے۔ 

پاکستان میں خوردنی تیل کی سالانہ کھپت 4.2ملین ٹن ہے جس میں پام آئل کی امپورٹ 3ملین ٹن اور تیل کی بیجوں کی امپورٹ 3ملین ٹن ہے۔ اِس وقت دنیا میں پاکستان، بھارت اور چین کے بعد خوردنی تیل امپورٹ کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ 2006ءمیں ہماری خوردنی تیل کی امپورٹ 2 ارب ڈالر تھی جو رواں مالی سال 3ارب ڈالر ہو چکی ہے۔ 

پاکستان میں تیل کی فی کس کھپت 20کلو سالانہ ہے جو خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ دنیا میں پام آئل کی ایکسپورٹ میں انڈونیشیا سرفہرست ہے جس کی پام آئل ایکسپورٹ 16.5 ارب ڈالر ہے جو دنیا میں پام آئل کی ایکسپورٹ کا 54.5فیصد ہے۔

دوسرے نمبر پر ملائیشیا ہے جس کی ایکسپورٹ 8.7ارب ڈالر ہے جو دنیا کی پام آئل ایکسپورٹ کا 28.6فیصد ہے۔ پاکستان اور ملائیشیا کے مابین فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) کے تحت چند برسوں پہلے تک ملائیشیا کسٹم ڈیوٹی نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کو پام آئل کی سپلائی کا سب سے بڑا ملک تھا لیکن گزشتہ 4 سالوں سے پاکستان نے انڈونیشیا کے ساتھ ایک ترجیحی معاہدہ PTAکیا ہے جس میں انڈونیشیا کو کسٹم ڈیوٹی پر 15فیصد مراعات دی گئی ہیں جس کی وجہ سے انڈونیشیا سے پاکستان کو پام آئل ایکسپورٹ میں 80فیصد اضافہ اور ملائیشیا سے پام آئل ایکسپورٹ میں 48فیصد کمی ہوئی ہے۔ 

پاکستان، ملائیشیا اور انڈونیشیا سے پام آئل کی امپورٹ کے علاوہ کینیڈا سے کنولا جبکہ امریکہ اور برازیل سے سویا بین بھی امپورٹ کرتا ہے۔ پاکستان میں خوردنی تیل کی امپورٹ، ریفائنری، پروسیسنگ اور اسٹوریج کے لئےپورٹ قاسم میں اب تک 50ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے جس سے مقامی طلب کا تقریباً 75فیصد پورا کیا جاتا ہے۔ 

پاکستان میں ملائیشیا کے ساتھ پام آئل ریفائنریز لگانے کا سہرا بشیر جان محمد کے سر جاتا ہے جو 1968سے پاکستان میں پام آئل کے بزنس سے منسلک ہیں اور ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے مالک ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اِس وقت پاکستان میں تقریباً 20پام آئل ریفائنریز لگ چکی ہیں جبکہ پام آئل سے گھی بنانے کی 100سے زائد فیکٹریاں ہیں۔

پاکستان میں خوردنی تیل پیدا کرنے کیلئے سورج مکھی اور کنولا بیج کی کاشت کو فروغ نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے پام آئل اور تیل کی بیجوں کی امپورٹ پر خطیر زرِمبادلہ خرچ کیا جارہا ہے۔ 

ملک میں زرعی شعبے میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اور جدید ٹیکنالوجی استعمال نہ کرنے کی وجہ سے ہمارا زیادہ تر انحصار پام آئل اور تیل کی بیجوں کی امپورٹ پر ہے۔ 

دنیا میں زرعی اجناس کی سب سے بڑی کمپنی کارگل نے پاکستان میں زرعی اجناس اور تیل کی بیجوں میں 200 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے جس سے مقامی سطح پر خوردنی تیل کی پیداوار میں اضافہ ہوگا لیکن اس سیکٹر کو فروغ دینے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر مطلوبہ پالیسی کا انتظار ہے جس کا وعدہ مشیر تجارت عبدالرزاق دائود نے گزشتہ پام آئل کانفرنس میں کیا تھا۔

گزشتہ چند سالوں سے یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستان کے گیہوں اور گنے کی کاشت کے رقبے میں اضافہ جبکہ کپاس اور تیل کے بیجوں کے رقبے میں کمی کی گئی ہے حالانکہ گیہوں اور شکر اضافی پیداوار کی وجہ سے ہمیں سبسڈی دے کر ایکسپورٹ کرنا پڑرہی ہے جبکہ کپاس اور خوردنی تیل قیمتی زرمبادلہ خرچ کرکے امپورٹ کرنا پڑرہا ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔ 

حکومت کو چاہئے کہ کپاس اور تیل کے بیجوں کی کاشت میں اضافے کیلئے نہ صرف پرکشش مراعات دے بلکہ پاکستان آئل سیڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کو فعال بنائے تاکہ سورج مکھی اور سرسوں کے بیجوں پر ریسرچ کرکے فی ایکڑ زیادہ پیداواری بیج دریافت کیا جاسکے جس سے مقامی طور پر خوردنی تیل حاصل کرکے پام آئل کی امپورٹ پر خطیر زرمبادلہ میں کمی لائی جا سکے گی۔