آپ آف لائن ہیں
جمعہ3؍رجب المرجب 1441ھ 28؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

گجرخان: زمین کا تنازع، وفاق کے دو بڑے مدمقابل

گجرخان: زمین کا تنازع، وفاق کے دو بڑے مدمقابل


گجرخان میں زمین کے تنازع پر وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے دوبڑے آمنے سامنے آگئے۔

گجر خان میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب و امور داخلہ شہزاد اکبر اور وفاقی وزیر میاں محمد سومرو طاقت کی جنگ میں مدمقابل ہیں۔

وفاقی حکومت کے ان دوبڑوں کی لڑائی میں 3سرکاری افسران کے تبادلے بھی ہوگئے ہیں۔

شہزاد اکبر کے بھائی مراد اکبر پر جی ٹی روڈ مندرہ کی ایک فلور مل کی زمین پر قبضے کا الزام ہے۔

دوسری جانب شہزاد اکبر کے بھائی مراد اکبر کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے زمین خریدی۔

زمین کے اصلی مالک ملک منیر اسلام آباد میں قتل ہونے والے بیرسٹر ملک فہد کے دادا ہیں جبکہ بیرسٹر ملک فہد وفاقی وزیر محمد میاں سومرو کے بھانجے ہیں۔

مراد اکبر زمین پر قبضے کےلیے 30 افراد اور تعمیراتی سامان ساتھ لائے اور فلور مل کی زمین پر دیواریں کھڑی کرنے کی کوشش کی،جس پر زمین کے مالک کے ملازم اور سیکیورٹی گارڈز نے پولیس بلالی۔

پولیس نے قبضہ مافیا کو زمین پر باؤنڈری وال بنانے اور غیر قانونی قبضے سے روکا ،واقعے کے بعدایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو رضوان قدیر نے جائے وقوع کا معائنہ کیا۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو نے کاغذات کا جائزہ لینے کے بعد شہزاد اکبر کے بھائی کے خلاف فیصلہ سنایا ،اے ڈی سی آر کی رپورٹ پر معاون خصوصی مبینہ طور پر ناراض ہوگئے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے مبینہ طور پر عہدے کا غلط استعمال کرکے ریونیو آفس راولپنڈی پر دباؤ ڈالا۔

چند سال قبل مراد اکبر نے اراضی کی تقسیم کا دعویٰ کیا تھا ،ان کی درخواست اُس وقت کا ریونیو عملہ مسترد کرچکا ہے، شہزاد اکبر کے بھائی نے ایک سال قبل دوبارہ درخواست دی اور مبینہ طور پر دباؤ ڈلواکر اپنے حق میں فیصلہ کروالیا۔

گوجر خان کے قریبی گاؤں کی 10 کنال اراضی ملک منیر نے 23سال قبل خریدی تھی ،اراضی کے حوالے سے عدالت میں فیملی کے درمیان تقسیم کا معاملہ بھی زیر سماعت ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے 2012ء میں اس اراضی پر حکم امتناع جاری کیا ،حکم امتناع کے باوجود شہزاد اکبر کے بھائی نے اراضی پر قبضے کی کوشش کی ،جس کے بعد معاملہ مزید گرم ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق قبضے کے دوران زمین پر میاں محمد سومرو کی سرکاری گاڑیاں بندے لے کر پہنچ گئیں، پولیس بروقت پہنچی اور دونوں پارٹیوں کو تھانے لے گئی ۔

معاملے کی وجوہات رپورٹ کرنے والے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو راولپنڈی فارغ کردیے گئے،ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو بھی ہٹادیا گیااور اے ایس پی مندرہ بھی تبدیل ہوگئے ،نئے ڈی سی راولپنڈی انوارالحق نے چارج سنبھال لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مشیر احتساب نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی رپورٹ پر کمشنر اور ڈی سی کو وزیراعظم آفس طلب کیا اور دونوں افسران کو جھاڑا۔

مراد اکبر کا دعویٰ

شہزاد اکبر کے بھائی مراد اکبر کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے زمین خریدی ہے۔

قومی خبریں سے مزید