آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر22؍ جمادی الثانی 1441ھ 17؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’کورنگی‘ یہاں کے مکان نہایت ترتیب سے اور کشادہ بنائے گئے تھے

شکور پٹھان

بمبئی۔۔۔جاتے میں قدم اور تھے آتے میں قدم اورہم سردی کے دنوں میں بمبئی گئے تھے۔ ہمیں جہاز میں جگہ بھی نچلے حصے میں ملی تھی، جہاں سے سمندر براہ راست نظر نہیں آتا تھا۔ تقریباً چھ ماہ ہندوستان میں رہ کر واپس آئے تو اب گرمیوں کے دن تھے۔ ہمیں عرشے پر جگہ ملی تھی۔ آہستہ آہستہ ہلکورے لیتا عرشے کا فرش، سر پر کھلا نیلا آسمان اور چاروں جانب پھیلے لامتناہی نیلے سمندر میں بہتا ، ڈولتا ہمارا جہاز۔۔اگلے دودن اور دورات ہماری کل دنیا بس یہی کچھ تھی۔

ہم تین دن کے کھانے پینے کا سامان لے کر چلے تھے، جس میں بمبئی کے کیلے اور وہاں کا مشہور عالم “الفانسو” آم بھی تھے۔ لیکن ہمیں دوران سفر ان سے لطف اٹھانے کا موقع نہیں ملا کہ ہر وقت طبیعت متلائی سی رہتی اور جو کچھ کھاتے پیتے فورا الٹ دیتے۔ جو دوست سمندری سفر کر چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ Sea Sickness” کیا ہوتی ہے۔

تیسرے دن دور سے کراچی کا ساحل نظر آیا تو جان میں جان آئی۔ ٹھاٹیں مارتے، لہراتے سمندر اور نیلے آسمان کو مسلسل تکتے رہنے کے بعد جب زمین اور وہ بھی اپنے وطن کی زمین، نظر آتی ہے تو اس کیفیت کو صرف محسوس کیا جاسکتا ہے، بیان نہیں کیا جاسکتا۔ یوں لگتا ہے عدم سے وجود میں یا یوں کہئیے کہ لا مکاں سے مکان کی جانب آنا شاید ایسا ہی ہوتا ہوگا۔ بیچ گہرے سمندر میں صرف اللہ کا خیال رہتا ہے، جیسے ہوائی سفر کے دوران ہم اپنے آپ کو مستقل اللہ کے حوالے کردیتے ہیں اور جب جہاز کے پہئیے زمین چھوتے ہیں تو زبان بے ساختہ رب کا شکر ادا کرتی ہے۔

کراچی کی بندرگاہ پر صرف ابا ہمیں لینے آئے تھے۔ یہاں کے سارے مراحل جلدطے ہوگئے۔ کسٹمز میں جانچ کے لئے صرف کیلے،الفانسو ( ہاپوس) آم، بمبئی کے ایم سلیمان مٹھائی والا کا مشہور “افلاطون” حلوہ اور اپنے پیاروں کی یادوں کے سوا ہمارے پاس اور کیا تھا ،چنانچہ جلد ہی باہر آگئے۔ ابا نے ایک ٹیکسی والے کو آواز دی اور ’’ کورنگی چلنے کی بات کی۔ ہم نے اس جگہ کا نام پہلی بار سنا تھا۔

کیماڑی سے کالا پل اور ڈیفینس سوسائٹی کی “ آغا خان کی ٹیکڑی” تک تو آس پاس، بازار، دوکانیں اور مکان نظر آرہے تھے۔ آغا خان ہاؤس کے بعد ٹیکسی ایک چٹیل میدان میں چلی جارہی تھی، جہاں اکا دکا، بس یا گدھا گاڑی نظر آتی تھی۔ میرے دماغ میں لیکن کچھ اور ہی چل رہا تھا۔ میں آنے والے وقت کے خیال سے تھرتھرا رہا تھا اور مجھے آس پاس کے کسی منظر سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

دراصل امی نے مجھے انڈیا میں دھمکی دے رکھی تھی کہ کراچی پہنچتے ہی میرے تمام کارناموں کی رپورٹ ابا کو کرینگی۔ ابا نے اس سے پہلے نہ تو کبھی ڈانٹا تھا نہ مارا تھا لیکن امی نے جو کچھ ممکنہ سلوک تھا وہ میرے دماغ میں بٹھا کر میری طنابیں کس دی تھیں۔ راستے بھر امی ابا کی باتوں پر کان لگائے ہوئے تھا کہ شاید اب میری بات ہوگی لیکن امی رشتے داروں کے حالات گوش گذار کرنے میں مصروف تھیں۔ امی بھی اس اجاڑ اور ویران راستے کو دیکھ کر پریشان تھیں کہ کس بیابان میں گھر لیا ہے۔

دراصل ہمارے انڈیا جانے کے بعد ابا نے کورنگی میں کرائے پر کوارٹر لے لیا تھا۔ بہار کالونی میں چھوٹے سے گھر میں ہمارے علاوہ دادی اور دو چچا بھی رہتے تھے۔ بہار کالونی گنجان آباد اور بھرا پرا علاقہ تھا اور شہر سے متصل تھا جب کہ یہ کورنگی تو آنے کا نام ہی نہیں لیتی تھی اور ہماری ٹیکسی سنسان سڑک پر چلی جارہی تھی۔ خدا خدا کرکے کورنگی کے کوارٹروں کی قطاریں نظر آنا شروع ہوئی۔ سلیقے سے ایک قطار میں اور ایک جیسے مکان اور گلیاں بڑے عجیب سے لگ رہے تھے۔ ہمیں اس قدر منظم علاقے دیکھنے کی عادت ہی نہیں تھی۔

چار نمبر کورنگی میں کوارٹروں کی سب سے آخری والی قطار میں ایک کوارٹر کے سامنے ابا نے ٹیکسی رکوائی۔ اتنی نیچی چہاردیواری کہ ہاتھ ٹیک کر دیوار پر چڑھا جاسکے۔ لیکن اندر ایسا تھا بھی کیا کہ چوروں سے بچنے کے لیے اونچی دیوار بنائی جاتی۔ دو چارپائیاں، ایک چھوٹی سی میز، ایک بغیر دروازے کی الماری، دو ایک صندوق اور تھوڑے سے برتن ، یہ کل کائنات تھی۔ اور صرف ہمارے ہاں ہی کہاں، ہر گھر میں یہی کچھ تھا کہ یہ آبادی مہاجروں کے لیے بسائی جارہی تھی جو اس سے پہلے قائد آباد اور جیکب لائنز وغیرہ میں مقیم تھے اور وہ سب بھی ایسے ہی بے سروسامان تھے۔ زیادہ تر مزدور طبقے کے اور غریب لوگ ہی یہاں آباد تھے۔

عورتیں اپنے لیے الگ گھر اور الگ ہانڈی چولہے کی تمنا کرتی ہیں ، لیکن امی نے یہ اجاڑ ویران سا گھر دیکھ کر رونا شروع کردیا۔ ہندوستان میں ان کے چار بھائی اور تین بہنیں تھیں۔ یہاں کراچی میں بھی ہم دادی اور چچاؤں کے ساتھ رہتے آئے تھے۔ بہار کالونی سے پہلے ہمارے گھر والے بہاؤالدین کمپاؤنڈ، بوہرہ پیر اور پاکستان چوک وغیرہ جیسی پر رونق جگہوں پر رہے تھے۔ اس گھر میں ایک کمرہ تھا ،جس کا کوئی دروازہ نہیں تھا۔ ایک جالی دار کھڑکی اور ہوا کے لئے ایک روشندان، جس کے پٹ رسی کھینچنے سے کھلتے اور بند ہوتے تھے۔ بیت الخلا اور غسلخانے پر ٹاٹ کے پردے تھے جبکہ باورچی خانہ اس سے بھی محروم تھا۔ لیکن جو سب سے خوش کن چیز تھی وہ بڑا سارا اور کھلا سا لیکن کچا صحن تھا۔

یہ اس دن کا پہلا تاثر تھا لیکن بہت جلد ہم یہاں کے عادی ہوگئے بلکہ یہاں کی صاف شفاف آب و ہوا اور کھلی کھلی فضا ہمیں اپنا اسیر بناتی چلی گئی۔ یہاں ہر وقت پانی دستیاب تھا۔ گلیوں کے نکڑ پر پانی کے نلکے تھے ،جہاں اس قدر تیز اور پریشرسے پانی آتا تھا کہ اگر آپ نلکے کے نیچے بے خیالی میں ہاتھ رکھ کر ٹونٹی کھولیں تو ہاتھ جھٹکے سے نیچے جاتا تھا۔

دوسری چیز یہاں کی صفائی تھی۔ یہاں کسی گلی میں کوئی نالی یا کیچڑ نہیں تھی۔ کوارٹروں کے عقب میں گندی گلی بنی ہوئی تھی جو کہ خاصی چوڑی ہوتی تھی۔ خاکروب اور مہتر وہیں سے اپنے کام کرجاتے تھے۔

اور یہ پانی کا قصہ بھی عجیب ہے اور ایک دیومالائی داستان کی طرح کورنگی میں یہ کہانی سنائی جاتی تھی۔۔ کورنگی لانڈھی کی تاریخ میں سب سے مقبول شخصیت لیفٹننٹ جنرل اعظم خان کی ہے۔آج بھی کورنگی کے پرانے باسی اعظم خان کے گن گاتے ہیں جنرل اعظم مہاجرین کی بحالی کے کام کے نگراں تھے۔ کورنگی ٹاؤن شپ غالبا امریکہ اور اقوام متحدہ کے تعاون سے بسائی گئی تھی۔ یہ دنیا میں مہاجرین کی سب سے بڑی اور باضابطہ اور منظم بستی تھی۔

کہانی کچھ یوں ہے کہ لاکھوں مہاجرین کی یہ بستی تو بسائی گئی لیکن یہاں پانی کا کوئی انتظام نہ تھا۔ شہر سے ٹینکروں میں پانی آتا تھا جو کہ بالکل ناکافی تھا اور یہاں رہنے والے شدید مشکلات کا شکار تھے۔ جنرل اعظم مہاجرین کی بحالی کا جائزہ لینے آئے تو پانی کی قلت کا مسئلہ ان کے گوش گذار کیا گیا۔ جنرل صاحب متعلقہ انجینئر کے دفتر گئے اور صورتحال معلوم کی۔ انجینئر صاحب نے بتایا کہ اتنے دن لگیں گے یہاں تک پانی کی لائنیں آنے میں اور اتنے دنوں بعد پانی کی سپلائی ممکن ہوسکے گی۔ جنرل صاحب نے پوچھا کہ آپ کے دفتر میں پانی کا کیا انتظام ہے ۔ انہیں بتایا گیا کہ یہاں تک پانی کی لائن پہنچ گئی ہے اور چونکہ انہیں کام کرنا ہوتا ہے اس لئے پانی ضروری ہے، وغیرہ وغیرہ۔ جنرل اعظم خان یہ تفاصیل سن کر واپس چلے گئے۔

اگلے دن جب انجینئر صاحب اور ان کا عملہ کام پر آئے تو دیکھا کہ نلکوں میں پانی نہیں آرہا۔۔ تفتیش کرنے پر پتہ چلا کہ جنرل صاحب کے حکم پر پانی بند کیا گیا ہے۔ انجینئر صاحب دوڑے دوڑے جنرل صاحب کے دفتر پہنچے۔ جنرل صاحب نے انہیں کہا کہ اگر پانی تمہارے دفتر تک آسکتا ہے تو آبادی تک بھی آسکتا ہے۔ اب تمہاری لائن اس وقت کھلے گی جب آبادی کو پانی ملے گا۔ اور جب میں دوبارہ وہاں آؤں اور پانی نہیں پہنچا تو تم اور دیگر عملہ ملازمت پر نہیں رہیں گے۔

کہا جاتا ہے کہ عملے نے دن رات کام کرکے تین دن میں کورنگی میں پانی پہنچایا۔ یہ بات آج بھی بطور ضرب المثل کہی جاتی ہے کہ کورنگی میں تین دن میں پانی پہنچایا گیا تھا۔

کورنگی اور لانڈھی ایوب حکومت اور محکمہ بحالیات کا شاندار کارنامہ تھا۔ دراصل اس وقت تک کافی حد تک فرض شناس نوکر شاہی کا دور تھا، اس کے علاوہ فوجی حکومت کے سخت ڈسپلن کا ڈنڈا بھی ان کے سر پر تھا ۔ مجھے نہیں علم کہ کتنے بڑے رقبے پر یہ آبادی بسائی گئی لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ یہ ایک پورے شہر سے بھی بڑے رقبے پر تھی اور تقریباً سارے بے گھر مہاجروں کو اپنے اندر سمیٹ لیا تھا۔ ساٹھ کی دہائی کی ابتدا میں جب ملکہ برطانیہ نے کراچی کا دورہ کیا ( یاد رہے تب کراچی دارلحکومت تھا) تو ان کے شوہر شہزادہ فلپ نے کورنگی کالونی کا دورہ کیا اور وہ بہت متاثر نظر آئے۔

کورنگی کے مکانات نہایت ترتیب سے، کشادہ اور بے حد مضبوط بنائے گئے تھے۔ تعمیر کا کام ان دنوں ایمانداری سے کیا جاتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ یہاں کے مکانوں کی دیوار میں ایک کیل ٹھونکنے میں دانتوں میں پسینہ آجاتا تھا۔ مکان ہوادار اور روشن تھے، گلیاں چوڑی اور مسطح تھیں۔ ہرعلاقے میں ایک مارکیٹ، ہر دوچار سیکٹر ملا کر ایک اسکول مکمل سہولیات کے ساتھ،اسی طرح ہر سیکٹر میں ایک چھوٹا سا باغیچہ یا پارک ضرور ہوتا تھا۔ 

پانچ نمبر کورنگی پر ایک بڑی سرکاری ڈسپنسری اور کورنگی لانڈھی کو ملانے والی مرکزی سڑک جو صدر تک جاتی تھی اور دوسری جانب نیشنل ہائی وے سے مغربی پاکستان کے دوسرے شہروں سے ملاتی تھی۔ سڑک کے ساتھ ساتھ ایک گہرا اور چوڑا نالہ جو پورے کورنگی کے بارش کے پانی کو اپنے اندر سمو لیتا تھا اور کورنگی میں کہیں بھی بارش کا پانی کھڑا نظر نہیں آتا تھا۔

یہاں کی مٹی بڑی زرخیز تھی اور جو کچھ اگاؤ فورا جڑ پکڑ لیتا تھا۔ فضا بڑی شفاف اور آلودگی سے پاک تھی اور ہر وقت سمندری ہوا چلتی رہتی ، رات خاص طور پر بہت خوشگوار ہوتی اور یہاں بجلی نہ ہونے کے باوجود شدید گرمیوں میں بھی یہاں گرمی محسوس نہیں ہوتی تھی۔

لیکن یہ سب کچھ بتانے کے باوجود میں اس وقت کے کورنگی کی تصویر کشی نہیں کرسکتا ۔ یہ سب کورنگی کے پرانے باسیوں کی آنکھوں میں اور دلوں میں محفوظ ہے ۔ یہ تھی کورنگی ،جہاں میں نے اپنی زندگی کے دوسرے دور کا آغاز کیا ،جہاں میں بچپن سے لڑکپن میں داخل ہوا۔

کولاچی کراچی سے مزید