آپ آف لائن ہیں
پیر12؍شعبان المعظم 1441ھ 6؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’’بھ کی سبزی‘‘ ثقافتی ترکاری کا درجہ رکھنے والی خوش ذائقہ خوراک

سندھ کی ثقافت کے بارے میں تو آپ نے بہت کچھ پڑھا، سنا، دیکھا اور لکھا ہوگا مگر آج ہم آپ کو آشنا کرارہے ہیں ایک ایسی سبزی سےجسے سندھ کی ثقافتی سبزی کا درجہ حاصل ہے اور زمانہ قدیم سے ہی یہ خطے کے لوگوں کی مرغوب غذا ہے۔جی ہاں، ہم بات کررہے ہیں ’’بھ‘‘ کی سبزی کی، جو کہ ملک میں سب سے زیادہ سندھ میں کاشت اور استعمال ہوتی ہے۔بھ کو ابال کر مٹکوں میں رکھ کر فروخت بھی کیا جاتا ہے، قدیمی دور سے ہی یہ رواج چلا آرہا ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد مٹکوں کو سروں پر رکھ کر گلی و محلوں میں بھ فروخت کرتی ہے۔ 

لیس دار بھ ابال کر، نمک، مرچ اور لیموں چھڑک کر خریدار کو دی جاتی ہے تو اس کا ذائقہ اس قدر لذیذ اور چٹخارے دار ہوتا ہے کہ کھانے والا انگلیاں چاٹنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ ایک درجن سے زائد طریقوں سے تیار ہونے والی سندھ کی یہ ثقافتی سبزی’’ بھ‘‘ سوغات بھی سمجھی جاتی ہے اور سندھ کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں میں رہنے والے لوگوں کو بطور تحفہ بھیجی جاتی ہے۔ قدیمی دور سے ہی سندھ کے لوگ بھ کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں اور آج بھی شادی و بیاہ کی تقریبات میں بھ کی ڈش کی موجودگی لازمی سمجھی جاتی ہے اور یہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بھی ہوتی ہے۔

یوں تو تمام سبزیاں انسانی صحت کے لئے انتہائی مفید ہیں اور ہر سبزی اپنی الگ اہمیت رکھتی ہے، لیکن بھ ایک ایسی سبزی ہے جس کی کاشت اور استعمال زیادہ تر سندھ میں ہی ہوتا ہے۔ ملک کے دیگر حصوں میں بھ کی خاطر خواہ فصل کاشت نہیں کی جاتی مگر سندھ میں ہزاروں ایکڑ اراضی پر بھ کی کاشت کی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سندھ کے لوگ بھ کی سبزی کو بہت زیادہ پسند کرتے ہیں۔

اس سبزی کی سب سے خاص بات یہ بھی ہے کہ امیر ہو، غریب ہو یا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا شخص ، یہ سبزی تمام طبقات کے افراد میں یکساں مقبول ہے اور اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سبزی عام و خاص ہر شخص کی دسترس میں ہے کیونکہ یہ زیادہ مہنگی نہیں ہوتی، ایک عام شخص بھی اسے خرید سکتا ہے۔ 

سندھ کے تمام اضلاع بالخصوص سکھر، گھوٹکی، لاڑکانہ، خیرپور، شکارپور، جیکب آباد ،قمبرشہداد کوٹ، کندھ کوٹ، دادو، نواب شاہ، حیدرآباد ، بدین، ٹھٹہ سمیت دیگر اضلاع میں بھ کی سبزی سب سے زیادہ استعمال کی جاتی ہے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کھانوں میں بھ کی ڈش تیار کرتی ہے، لوگ بڑے شوق سے بھ کی سبزی پکاتے اور کھاتے ہیں۔ چونکہ بھ کی سبزی کا استعمال دیگر سبزیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتا ہے اس لئے ہر شخص اس سبزی کو اپنی پسند کے مطابق تیار کرتا اور کھاتا ہے۔ یہ سبزی کبھی پالک کے ساتھ پکائی جاتی ہے تو کبھی گوشت کے ساتھ ذائقہ دار ڈش تیار کی جاتی ہے۔

بھ فرائی بھی ہوتی ہے اور بھ کا اچار بھی ڈالا جاتا ہے جبکہ مرغی کے گوشت کے ساتھ بھی بھ کی ڈش تیار ہوتی ہے۔ بھ کی سبزی سے تیار ہونے والی ڈشز اس قدر ذائقہ دار ہوتی ہیں کہ کھانے والا اپنی انگلیاں چاٹتا رہ جاتا ہے۔ گھر میں جب کوئی مہمان آتا ہے تو اہل خانہ مختلف پکوانوں کی تیاری کے ساتھ ساتھ بھ کی ڈش بھی خاص طور پر پکواتے ہیں، بہت سے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو کہ ملک کے دیگر شہروں کراچی، کوئٹہ، لاہور، اسلام آباد، پشاور سمیت دیگر علاقوں میں رہائش پذیر اپنے رشتے داروں اور دوستوں کو بطور تحفہ بھ بھجواتے ہیں۔ 

ایسے افراد جو کہ اپنی ملازمت یا دیگر وجوہات کی بنا پر ملک کے دیگر شہروں میں رہائش پذیر ہیں وہ بھی اکثر و بیشتر اپنے دوست و احباب اور رشتہ داروں سے بھ بھجوانے کی فرمائش کرتے ہیں۔ جب کوئی شخص اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لئے ملک کے دیگر شہروں میں جاتا ہے تو بھ کی سبزی بھی ساتھ لے کرجاتے ہیں تاکہ جس سے ملنے جارہے ہیں اسے تحفہ کے طور پر یہ سبزی پیش کریں۔ اس طرح اسے سندھ کی سوغات کی حیثیت بھی حاصل ہے۔

بھ کو سندھ کی قدیمی ڈش کا درجہ بھی حاصل ہے اور زمانہ قدیم سے ہی لوگ بھ کی سبزی کو مختلف انداز میں پکاکر کھاتے ہیں۔ ماضی میں جب نت نئے پکوانوں کو اتنی اہمیت حاصل نہیں تھی جتنی کہ آج ہے تو لوگ اپنے گھر آنے والے مہمانوں اور دعوتوں میں بھ کی ڈش پکایا کرتے تھے اور ایک یہی ڈش تمام ڈشز پر فوقیت رکھتی تھی اور آج بھی بھ کی ڈش تمام ڈشز سے زیادہ کھائے جانے والے پکوانوں میں شامل ہے۔

سندھ میں ہونے والی چھوٹی بڑی دعوتوں میں بھ کی ڈش خصوصی طور پر تیار کرائی جاتی ہے، شادی کی تقریبات میں ایک سے بڑھ کر ایک ڈشز ہوتی ہیں مگر بھ کی بات ہی الگ ہے اور یہ لوگوں کی توجہ کا مرکز ہوتی ہے۔ عام طور پر دعوتوں میں قورمہ، باربی کیو، بریانی و دیگر ڈشز تیار ہوتی ہیں مگر سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں میں جب کسی کے یہاں شادی ہوتی ہے تو وہ دعوت میں مختلف اقسام کی ڈشز کے ساتھ ساتھ بھ کی ڈش بھی خصوصی طور پر تیار کرواتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ شادی کی دعوت میں آنے والےلوگ بہت شوق سے بھ کی ڈش کھاتے ہیں۔ بعض اوقات تو یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی کی شادی کی دعوت میں بھ کی ڈش موجود نہ ہو تو دوست و احباب تکلف کو بالائے طاق رکھ کر پوچھ لیتے ہیں کہ بھائی، خیر تو ہے، بھ کی ڈش تیار کیوں نہیں کروائی گئی۔ 

شادی بیاہ کی تقریبات میں بھ کی ڈش کو ایک خاص ڈش کا درجہ حاصل ہوتا ہے، کیونکہ لوگ دیگر ڈشز کے بجائے پہلے بھ کی ڈش سے زیادہ استفادہ کرتے ہیں۔ اگر کسی تقریب میں بھ کی ڈش سمیت دیگر ڈشز موجود ہوتی ہیں تو دیکھنے میں یہی آتا ہے لوگ پہلے بھ کی ڈش سے لطف اندوز ہوتے ہیں، اس کے بعد ہی دیگر ڈشز کی طرف رخ کرتے ہیں۔

اس سبزی کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ بہت زیادہ لیس دار ہوتی ہے، بھ کو اگر توڑا جائے تو اس کا ریشہ کئی میٹر تک بغیر ٹوٹے جاسکتا ہے، جو لوگ بھ کے ذائقے سے ناآشنا ہوتے ہیں اور انہیں اس کے فوائد معلوم نہیں ہوتے وہ اس کا ریشہ یعنی کہ اس کے لیس دار ہونے کو جواز بناکر اسے کھانے سے گریز کرتے ہیں لیکن جب انہیں یہ لیس دار سبزی کھلائی جاتی ہے تو وہ تعریف کئے بنا رہ نہیں پاتے۔ بھ کی یہ سبزی نہ صرف سالن کے طور پر کھانے میں استعمال ہوتی ہے بلکہ سموسے، پکوڑے، دہی بڑے و دیگر اشیاء کی طرح مارکیٹوں میں فروخت بھی ہوتی ہے اور اس سبزی سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا روزگار بھی وابستہ ہے۔ سکھر شہر میں ہی ایسے درجنوں افراد مل جائیں گےجو علی الصباح اٹھ کر بھ کو ابالتے ہیں اور اسے فروخت کرنے کے لئے گلی و محلوں اور بازاروں میں پہنچ جاتے ہیں۔

بھ فروخت کرنے ولےیہ لوگ دور سے ہی پہچان لیے جاتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ بھ کو ابالنے کے بعد مٹی سے بنے مٹکوں میں رکھتے ہیں اور ان مٹکوں کو اپنے سروں پر رکھ کر مختلف علاقوں میں گھومتے ہیں۔ بھ ایک تو ویسے ہی لیس دار اور ذائقے سے بھرپور ہوتی ہے اور سونے پر سہاگہ ابالنے کے بعد اس پر مختلف اقسام کے مصالحہ جات نمک، مرچ ڈالے جاتے ہیں اور پھر لیموں چھڑک کر اسے خریدار کو دیا جاتا ہے، جس کے بعد اس کا ذائقہ اس قدر عمدہ اور چٹخارے دار ہوجاتا ہے کہ کھانے والا تعریف کئے بغیر نہیں رہ پاتا۔

سندھ میں زیادہ تر بھ ابال کر مٹکوں میں فروخت کی جاتی ہے ، بھ فروخت کرنے والا محنت کش بھ سے بھرا ہوا مٹکا سر پراٹھائے مختلف علاقوں میں بھ فروخت کرتا ہے تو چلتے پھرتے لوگ بھی اسے خرید تے ہیں اور وہیں کھڑے ہوکر کھاتے ہیں۔ لوگ بھ پارسل کرا کر گھروں کوبھی لے جاتے ہیں۔بھ فروخت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ لوگ ان سے وافر مقدار میں ابلی ہوئی بھ خصوصی طور پر تیار کرواتے ہیں جو گھروں اور شادی بیاہ کی تقریبات میں استعمال کی جاتی ہے۔

بھ پکانے والے محنت کشوں کے مطابق بھ پکانے میں کافی مشقت ہوتی ہے اور بہت زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، یہ پوری رات مختلف مراحل میں ابالی جاتی ہے، سب سے پہلے رات کو ایک برتن میں پانی ڈال کر اس میں نمک ملاکر بھ ڈالی جاتی ہے اور یہ ساری رات پکتی ہے، پھر رات کو 4بجے ہم لوگ اٹھ کر دیکھتے ہیں کہ کتنا پانی بچا ہے، اس کے بعد اس میں ٹاٹری ڈال کر دوبارہ ابالا جاتا ہے، چند گھنٹے بعد باقی رہ جانے والا پانی بھی جذب ہوجاتا ہے، جس کے بعد بھ کو مٹکے میں ڈال دیتے ہیں اور اس مٹکے کے منہ کو سوتی کپڑے کے ساتھ بند کردیا جاتا ہے۔

پھر ایک دوسرے برتن میں پانی ڈال کر پانی کو ابالا جاتا ہے اور ابلنے والے پانی سے نکلنے والی بھاپ بھ کے مٹکے میں پہنچتی ہے جس سے وہ نرم ہوجاتی ہے اور پھر فروخت کے لئے مختلف علاقوں کا رخ کرتے ہیں، بھ کو مٹکے میں اس لئے رکھا جاتا ہے کہ یہ گرم رہے اور اس کا ذائقہ برقرار رہے۔

ویسے بھی قدیمی دور سے ہی مٹی کے برتنوں کا استعمال ایک عام رواج ہے اور بھ خود بھی ایک قدیمی سبزی کی حیثیت رکھتی ہے، اس لئے اسے مٹی کے مٹکوں میں رکھ کر فروخت کیا جاتا ہے۔ بھ فروخت کرنیوالے افراد 10روپے سے لیکر خریدار کی خواہش کے مطابق تک فروخت کرتے ہیں،مٹکے والے کو دیکھ کر بچے بھی دور سے ہی سمجھ جاتے ہیں کہ بھ فروخت کرنے والا آگیا ہے۔

بھ کی اس فصل کی کاشت انتہائی مشقت آمیز کام ہے مگر چونکہ سندھ کے لوگ اس سبزی کو بہت پسند کرتے ہیں اس لئے زمیندار و کاشتکار اس سبزی کی کاشت کرتے ہیں۔ مقامی زمیندار محمد ارشد بھٹو کے مطابق بھ کی فصل کا بیج مارکیٹ میں لانے کے بعد گول ہوتا ہے، پورے بیج کے چھوٹی سائز میں اس کو اوپر والے حصے سے توڑنا پڑتا ہے۔ ایک ایکڑ میں پچاس کلو بیج بویا جاتا ہے، جس کے بعد اوپر سے پانی دیا جاتا ہے آدھے فٹ سے زیادہ پانی دیاجاتا ہے۔ 

یہ بھ مٹی میں تیار ہوتا ہے پھر اس کو کھدائی کر کے نکالا جاتا ہے، سبزی گرمی اور سردی دونوں موسم میں پیدا ہوتی ہے، فروری سے ستمبر تک بھ کی پیداوار کی جاتی ہے، یہ فصل تین ماہ میں تیار ہوتی ہے۔ اندرون سندھ لاڑکانہ، سکھر، دادو، قمبر شہدادکوٹ میں ہزاروں ایکڑ زمین پر یہ فصل کاشت کی جاتی ہے۔ تیارہونے کے بعد یہ کراچی سمیت ملک کے دیگر شہروں میں سپلائی کی جاتی ہے۔ 

حکومت کی جانب سے اگر اس سبزی کو بین الاقوامی مارکیٹ میں متعارف کرایا جائے تو یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ بیرونی ممالک کے لوگ بھی اس سبزی کے ذائقے کو پسند کریں گے، اس طرح حکومت بھ کی سبزی کو برآمد کرکے زر مبادلہ کی مد میں کثیر رقم بھی حاصل کرسکتی ہے، جس کا فائدہ بھ کی کاشت کرنے والے چھوٹے کاشتکاروں اور زمینداروں کو بھی پہنچے گا اور ملک بھر کی طرح پوری دنیا کے لوگ سندھ کی ثقافتی سبزی کا درجہ رکھنے والی بھ کی اس سبزی سے روشناس ہوسکیں گے۔

وادی مہران سے مزید