آپ آف لائن ہیں
منگل6؍شعبان المعظم 1441ھ 31؍مارچ 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

 سینے اور پھیپھڑوں کو شدید متاثر کرنے والا کرونا وائرس جو چین سے پھیلنا شروع ہوا تھا اب تمام براعظموں میں پہنچ چکا ہے۔ تادمِ تحریردنیا بھر میںاس وائرس کی وجہ سے ہونے والی اموات کی تعدادتین ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ان میں سےنوّے فی صد اموات چین کے صوبے ہوبائی میں ہوئیں، جہاں دسمبر2019 میں اس وائرس کی سب سے پہلے تشخیص ہوئی تھی۔عالمی سطح پر اب تک اس کے نوّے ہزار کیسز سامنے آچکے ہیں۔پہلے یہ چین میں بہت تیزی سے پھیلا ،مگر اب وہاں اس کا زور ٹوٹنے کی خبریں آرہی ہیں۔تاہم اب یہ چین سے باہر تیزی سے پھیل رہا ہے۔

یہ وائرس پاکستان اور اس کے ہم سایہ ممالک میں بھی پہنچ چکا ہے۔ پاکستان میں اگرچہ تادمِ تحریر اس کے صرف پانچ کیسز کی تصدیق ہوئی ہے، تاہم ایران اور افغانستان سے ملحق سرحدوں کے علاوہ بین الاقوامی ہوائی اڈوں پرا سکریننگ بڑھا دی گئی ہے۔اس وائرس کی وجہ سے عالمی معیشت کو کھربوں ڈالرزکا نقصان ہوچکا ہے۔حصص بازاروں سےپانچ ہزار ارب ڈالرز نکل چکے ہیں۔سیّاحت کی صنعت کواربوں ڈالرز کا خسارہ ہوا ہے، تیل کی قیمت میں شدید کمی آچکی ہے،ہوا بازی کی صنعت کو بھی بہت دھچکا لگا ہےاور دیگر شعبے بھی متاثر ہوئے ہیں۔

زیادہ تر افراد کے لیے یہ فِلُوسے زیادہ نہیں

ماہرین کے مطابق ہر سال دنیا بھر میںایک ارب افراد انفلوئنزا کا شکار ہوتے ہیں اور دو لاکھ نوے ہزار سے چھ لاکھ پچاس ہزار افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ فلو کی شدت ہر سال بدلتی ہے۔تاہم کرونا وائرس کے ضمن میں اچھی خبر یہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس سے متاثرہ زیادہ ترافراد کی علامات میں شدّت نہیں ہے اوراس وائرس سےہونے والی اموات کی شرح پانچ سے دوفی صد پر آ گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے بچاو ممکن ہے اوریہ وائرس عام فلُوکے وائرس کی طرح ہی پھیلتا ہے۔یہ نیا کرونا وائرس ہےجو بہت کم تعداد میں متاثرہ افراد کو نمونیا میں مبتلا کر سکتا ہے۔ صرف ان افراد میں اس کا خطرہ ہوتا ہے جن کے پھیپھڑے پہلے ہی سے کم زور یا خراب ہوں،وہ دمے یا شدید الرجی کے مریض ہوںیا جن کی قوتِ مدافعت بیماری،ضعیفی یا کسی اور وجہ سے بہت کم ہوچکی ہو۔ماہرین کے مطابق چوں کہ یہ کرونا وائرس کی ایک نئی قسم ہے اور کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں ہےاس لیے یہ کسی بھی طرح کی پھیپھڑوں کی بیماری یا نمونیا کا سبب بن سکتا ہے۔دوسری جانب چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے ایک ماہر کا کہنا ہے متاثرہ افراد کےمعمولی علامات سے ٹھیک ہونے میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔

کسی سطح کو ہاتھ لگانے سے بھی منتقلی کا خطرہ

ماہرین کے مطابق اگر کوئی متاثرہ شخص کھانستے یا چھینکتے ہو ئے اپنے ہاتھ منہ پر رکھتاہے اور پھر کسی شئے یا سطح کو ہاتھ لگاتاہے تو وہ متاثر ہو جاتی ہے۔ دروازے کے ہینڈل اور بس کے ڈنڈے اس کی عام مثالیں ہیںجہاں اس وائرس کے ہونے کا امکان ہو سکتے ہیں۔تاہم اس بات کا اب تک علم نہیں ہے کہ یہ نیا کرونا وائرس اس طرح کی سطحوں پر کتنی دیر تک زندہ رہ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی عمر دنوں کے بجائے گھنٹوں میں ہے، لیکن یہ بہتر ہے کہ آپ باقاعدگی سے ہاتھ دھوئیں تاکہ وائرس سے متاثر ہونے اور پھیلنے کا امکان کم ہو۔

ماہرین کے مطابق متاثرہ شہریا ممالک سے خریدی گئیں یا وہاں سے بہ ذریعہ ڈاک بھیجی گئیں اشیا کے ذریعےاس کی منتقلی کا خطرہ نہیں ہے۔کیوں کہ اب تک اس بات کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیاہے۔ویسے بھی یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وائرس انسان یا جانوروں کے جسم سے باہر زیادہ دن تک زندہ نہیں رہتاہے۔اسی طرح یہ فضا میں ایک میٹر سے زیادہ آگے نہیں پہنچ پاتا۔

اس وقت یہ وائرس انٹارکٹیکاکے علاوہ تمام براعظموں میں موجود ہے اور پہلی مرتبہ یہ چین سے باہر زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔بڑے شہر جہاں لوگ بڑی تعداد میں رہتے ہیں اور ایک ساتھ کام کرتے ہیں، وہاں وبا پھوٹنے کا امکان ماہرین کے لیے تشویش کی بڑی وجہ ہے۔

گرمی میں یہ ختم ہوجائے گا؟

یہ کرونا وائرس کی ساتویں قسم ہے اور اب تک اس میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی ہے۔ لیکن جب حالات سنبھل جائیں گے تو سائنس داں اس کا قریب سے جائزہ لیں گے۔طبّی ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم اور درجہ حرارت اس وائرس کے پھیلاؤ پرکس طرح اثر انداز ہوتے ہیں،اس بارے میں ہمیں ابھی اس وائرس کے متعلق بہت کچھ جاننا باقی ہے۔یہ اب تک واضح نہیںہے کہ موسم یا درجہ حرارت میں تبدیلی اس کے پھیلاؤ پر کوئی اثرات مرتب کرے گی یا نہیں۔اس کے ساتھ ہی ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ بعض دیگر وائرسز، جیسے کہ فلو، موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ اپنے اثرات مرتب کرتا ہے۔مثلاموسم سرما میں یہ بڑھ جاتا ہے۔مارس اور اس طرح کے دیگر وائرسز کے متعلق بعض تحقیق یہ ظاہر کرتی ہیں کہ یہ آب و ہوا کے حالات سے متاثر ہوتے ہیں اورگرم مہینوں میںکچھ زیادہ تیزی سے پھیلتے ہیں۔

احتیاط علاج سے بہتر

طبّی ماہرین کے مطابق کرونا لاعلاج ضرور ہے مگراسّی فی صد مریض خود ہی صحیح ہوجاتے ہیں۔ ہرشخص کو ماسک پہننے کی ضرورت نہیں۔کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے مرض سے بچا جاسکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام پریشانی کا شکار نہ ہوں۔کسی شکایت کی صورت میں ٹوٹکے آزمانےکے بجائے اسپتال جائیںاوراحتیاطی تدابیر اختیارکریں۔یہ ہی وائرس سے بچنے کا صحیح طریقہ ہے ۔ لوگوں کو چاہیے کہ صاف ستھری اورصحت مندغذا استعمال کریں ۔ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے اجتناب برتیں۔موجودہ صورت حال میں پانی زیادہ پیئیں۔ کھلی جگہوں پر کھانسنے اور چھینکنے سے اجتناب برتیں۔ ایک دوسروں سے لی گئی چیزوں سے بھی اجتناب برتیں۔

یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ہر فلو کرونا وائرس کا حملہ نہیں ہوتا۔ کسی کو زکام یا کھانسی ہو تو گھبرائیں نہیں۔ کوئی شخص کرونا وائرس سے متاثر ہو تو ان علامات سے پہچانا جا سکتا ہے۔

کرونا وائرس سے متاثرہ شخص کو سب سے پہلے بخار ہوتا ہے۔ اس کے بعد خشک کھانسی آتی ہے۔پٹھوں میں درد اور تھکاوٹ کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ایک ہفتے بعد سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔بعض مریضوں کو اسپتال لے جانے کی نوبت آ جاتی ہے۔اس انفیکشن میں ناک بہنے اور چھینکنے کی علامات بہت کم ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق بیماری کی علامات ظاہر ہونے میں چودہ روز لگ سکتے ہیں۔تاہم بعض محققین کا کہنا ہے کہ علامات ظاہر ہونے کا عرصہ چوبیس یوم پر بھی محیط ہو سکتا ہے۔

اعدادوشمار خوف کی نفی کرتے ہیں

اگر اس بات کی تصدیق ہو جائے کہ کو ئی شخص کرونا وائرس سے متاثر ہےتو بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ دراصل ان اطمینان بھرے جملوں کے پس منظر میں ٹھوس سائنسی حقایق ہیں۔اس وائرس سے متاثر ہونے والے 44ہزار مریضوں کے اعدادوشمارکا جائزہ لینےکے بعد عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اکیاسی فی صد افراد میں اس کی ہلکی پھلکی اور چودہ فی صد میں شدید علامات ظاہر ہوئیں اورپانچ فی صدافراد شدید بیمار ہوئے۔اس بیماری سے انتقال کرنے والوں کی شرح صرف ایک سے دوفی صد رہی۔

بچنے کے لیے کیا کریں؟

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اپنے ہاتھ ایسے صابن سے دھوئیں جو وائرس کو مار سکتا ہو۔کھانستے یا چھینکتے ہوئے اپنے منہ کو ٹشو سے ڈھانپیں۔اس کے فوری بعد ہاتھ دھوئیں تاکہ وائرس پھیل نہ سکے۔کوئی شئے چھونے کے بعد اپنی آنکھوں، ناک اور منہ کو نہ چھوئیں۔ایسے افراد کے قریب نہ جائیں جو کھانس یا چھینک رہے ہوں یا جنہیں بخار ہو۔ایسے افراد سے کم از کم ایک میٹر کا فاصلہ رکھیں۔طبیعت خراب ہو تو گھر میں رہیں۔بخار، کھانسی یا سانس لینے میں دشواری ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس جائیں۔طبی حکام کی ہدایت پر مکمل عمل کریں۔

کوئی خاص علاج نہیں

اب تک اس بیماری کا علاج بنیادی طریقوں سے کیا جا رہا ہے،یعنی علامات کے مطابق طبیب دوا دیتے ہیں۔ تاہم مرض کی روک تھام کے لیے ویکسین کی تیاری کا کام جاری ہے۔ امید ہے کہ اس سال کے آخر تک اس کی دوا انسانوں پر آزمائی جا سکے گی۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں کرونا وائرس تیزی سے پھیلا۔ امکان ہے کہ موسم میں تبدیلی سے اس کا پھیلاؤ روکنے میں مدد دے گی۔ادارے کے مطابق کروناکوئی قاتل وائرس نہیں ہے ۔دنیابھرمیں اب تک اس کے 83000ہزار کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ان میںسے زیادہ تر اموات اسّی برس سےزایدعمر کے افراد کی ہوئیں جوپہلےسےمختلف مسائل کا شکار تھے۔پچّیس سے چالیس برس کی عمرکے افراد کی شرح اموات 0.2فی صد ہے۔لہذا کرونا وائرس کی وجہ سے زیادہ پریشان ہونےکی ضرورت نہیں ہے ۔ ماہرین کے مطابق بچوں میں کرونا وائرس پھیلنےکا خطرہ بہت کم ہے۔ بچوں کو اگرنزلہ زکام ہوتواحتیاط کرائیں۔ بچے کو نزلہ ، بخار اور کھانسی ہو تو اسکول نہ بھیجیں ۔ تاہم صحت مند بچوں کواسکول بھیجنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ماہرینِ طب تجویز دیتے ہیں کہ متاثرہ افراد کو اینٹی بایوٹک ادویات نہ دی جائیں کیوں کہ ان سے پے چیدگی میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

یاد رکھیں کہ کرونا وائرس سے متاثرہ افراد میں زکام، گلا خراب ہونے، سر درد اور بخار کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔جسم تھکا تھکاسا لگتا ہے، ناک مسلسل بہتی ہے، انفیکشن زیادہ ہو جائے تو پھیپھڑے متاثر ہوجاتے ہیں۔ سب سے زیادہ خطر ناک وہ لمحہ ہوتا ہے جب انفیکشن کی وجہ سے نمونیہ ہو جائے۔ اس سے پھیپھڑوں میں زبردست انفیکشن ہو جاتاہے، سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور بخار زیادہ ہو جاتا ہے۔ ایسے میں فوری طور پراسپتال میں علاج کی ضرورت پیش آتی ہے۔ انفیکشن زیادہ ہونے کی صورت میں سانس رک جاتی ہے اور مصنوعی تنفس دینا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس حالت میں یہ میڈیکل ایمرجنسی بن جاتی ہے۔ اگر انفیکشن پھیل جائے تو سانس رک جاتا ہے اور چند ہی گھنٹوںمیں موت واقع ہو سکتی ہے۔کرونا وائرس سے ہونے والی بیماری کی تمام علامات نمونیہ سے ملتی جلتی ہیں۔ متاثرہ فرد کے جسم کو فعال رکھ کر، سانس میں مدد فراہم کر کے، تاوقت کہ ان کا مدافعتی نظام اس وائرس سے لڑنے کے قابل ہو جائے،علاج کیا جاتا ہے۔زکام کی طرح کرونا وائرس کے انفیکشن سے ظاہر ہونے والی علامات بھی زیادہ ترسات تا دس یوم موجود رہتی ہیں۔اگر اس دوران مکمل آرام کیا جائے اور ڈاکٹر کے مشورےسے ادویات لی جائیں تو مرض میں افاقہ ہو جاتا ہے اور آدمی صحت مند ہو جاتا ہے۔ اس لیے کرونا وائرس سے زیادہ گھبرانے اورپریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ زیادہ تر متاثرین ہفتے، دس دن میںخودبہ بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ کرونا وائرس اتنا خطرناک نہیں جتنا کہ اس وائرس کی ایک اور قسم سارس ہےجس سے 2002اور 2003میں دنیا بھر میں تقریباً 800 افراد انتقال کرگئے تھے اور یہ وائرس بھی چین سے پھیلا تھا۔یہ وائرس کوئی نیا نہیں ہے۔ یہ صرف انسانوں میں نیا ہے۔ یہ ایک مخلوق سے دوسری میں آیا ہے۔سارس نامی بیماری بھی کورونا وائرس سے ہی شروع ہوئی تھی۔ یہ چمگادڑوں سے شروع ہوئی اور سیوٹ کیٹ سے ہوتی ہوئی انسانوں تک پہنچی تھی۔سارس کی وبا نے چین میں 2002 کے دوران 774 افراد کو ہلاک کیا اور آٹھ ہزار سے زاید اس سے متاثر ہوئے تھے۔

عام نزلے زکام اور کرونا وائرس کے حملے میں فرق

زکام ، کھانسی ، گلے کی سوزش اور بخاروہ علامتیں ہیں، جو ٹھنڈ لگنے سے بھی ظاہر ہوتی ہیں۔ ایسے میں یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ آیا یہ کوئی بیکٹیریل یا پھر وائرل انفیکشن ہے۔ پہلی نظر میں کرونا وائرس اور ٹھنڈ لگنے کی علامات ایک جیسی ہی دکھائی دیتی ہیں۔ ابتدائی طورپر کرونا وائرس سے متعلق مشکل بات یہی ہے کہ اس کی کوئی ایک بھی ایسی خاص نشانی نہیں ہے جس سے یہ اندازہ ہو جائے کہ یہ سردی لگنے کا معاملہ نہیں بلکہ کرونا وائرس کا حملہ ہے۔ تاہم درجِ بالا علامات ایسی ہیں کہ ان کے ظاہر ہونے پر آپ کو لازمی طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے ۔ اگریہ علامات ظاہر ہو رہی ہیں تو آپ کو جلد از جلد حفاظتی تدابیر اختیار کرکے قریبی اسپتال، کسی قریبی ماہر ڈاکٹر یا پھرمتعلقہ طبی حکام سے رابطہ کرنا چاہیے۔

معمول سے ہٹ کرظاہر ہونے والی علامات

تھوک میں بلغم آنا۔ سر درد۔کھانسنے کے دوران تھوک یا رطوبت میں خون آنا۔ اسہال۔

عام طور پرسردی لگنے کی وجہ سے زکام ہوجاتا ہے اور گلے میں درد محسوس ہوتا ہے۔اگر سانس کی نالی کے اوپر (گلے میں) انفیکشن ہے تو یہ عام طور پر ٹھنڈ لگنے کی علامت ہے۔ اگر ناک بہہ رہی ہے اور ساتھ ہی چھینکیں بھی آ رہی ہیں تو یہ ایک عام فلو ہے۔ کرونا وائرس سانس کی نالی کے نچلے حصے(سینے کے اندر) کو متاثر کرتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس سے متاثرہ افراد کو خشک کھانسی کے ساتھ سانس لینے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔ کیاد رہے کہ اس وائرس سے متاثرہ افراد میں پھیپھڑوں کا انفیکشن ہوتا ہے نہ کہ گلے کا۔

ماسک کتنا موثر

کیا ماسک پہننے سے حفاظت ممکن ہے؟اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔کرونا وائرس اُڑ نہیں سکتا۔ یہ کسی مادّے کے قطروں، رطوبت یا پھر رابطے ہی سے منتقل ہوتا ہے۔لہذا بہتر یہ ہے کہ متاثرہ افراد سے دوری اختیار کی جائے۔ اچھی طرح سے صابن سے ہاتھ دھوئے جائیں۔ اگر جراثیم کُش مایع موجودہو تو اسے بھی ہاتھ پر لگایا جائے۔ماہرین فضا سے پھیلنے والے وائرس سے بچاؤ میں ماسک کے پراثر ہونے کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔لیکن کچھ ایسے شواہد ہیں جن سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ماسک وائرس کی ہاتھوں سے منہ تک منتقلی روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔بعض تحقیق بتاتی ہیں کہ 'عام استعمال کے سرجیکل ماسک فضا میں موجود وائرس یا بیکٹیریا سے بچاؤ کے لیے بہت پراثر ثابت نہیں ہوئے اور زیادہ تر وائرس اسی طریقے سے پھیلےتھے۔ ان کی ناکامی کی وجہ ان کا ڈھیلا ہونا، ہوا کی صفائی کے فلٹر کی عدم موجودگی اور آنکھوں کے بچاؤ کا کوئی انتظام نہ ہونا تھا۔ لیکن یہ ماسک کھانسی یا چھینک کی رطوبت میں موجود وائرس سے بچاؤ اور ہاتھ سے منہ تک وائرس کی منتقلی کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کر سکتے تھے۔

وبا کی درجہ بندی

عالمی ادارہ صحت نےاٹھارہ فروری کو کرونا وائرس کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ چین کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق نوول کرونا وائرس سے متاثرہ نئے کیسز میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔اس لیے عالمی ادارہ صحت موجودہ نتائج کو برقرار رکھے گا، یعنی نوول کرونا وائرس نمونیا عالمی سطح پر وبائی بیماری نہیں اور عالمی سطح پر وباءکے خطر ے کی درجہ بندی کو نہیں بڑھایا جائے گا۔عالمی ادارہ صحت کے تحت ہنگامی صحت عامہ پروگرام کے انچارج مائیکل ریان نے کہاتھا کہ چین کے باہر دوسرے علاقوں میں کرونا وائرس کی کمیونٹیز میں وباءنہیں دیکھی گئی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی نمایاں منتقلی دیکھنے میں آئی ہے۔

اس سے قبل جون 2009میں عالمی ادارہ صحت نے سوائن فلوکو عالمی وبائی مرض قراردے دیاتھا۔سوائن فلواس اعلان سے دوماہ قبل سب سے پہلے میکسیکو میں پھیلا تھا اورپھر یہ وبائی شکل اختیار کرگیا تھا۔چناں چہ گیارہ جون 2009کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او )نے خنزیر سے پھیلنے والے وائرس ایچ ون این ون سے لاحق ہونے والی بیماری کا درجہ وبائی امراض کے اسکیل پر بڑھاکر چھے کردیا اور اسے عالمی وبائی مرض قرار دے دیا تھا۔یہ فیصلہ جنیوا میں واقعےادارے کے ہیڈکوارٹرز میں ماہرین کے ہنگامی اجلاس میں تفصیلی غور کے بعد کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ 1968ء کے بعدیہ پہلا موقع تھاجب ڈبلیو ایچ اونے کسی عالمی وبائی مرض کا اعلان کیا تھا ۔ اجلاس کے بعد ایک بیان میں کیا گیا تھاکہ میکسیکو میں دو ماہ قبل خنزیرسے پھیلنے والے اس وائرس کے دنیا بھر میں پھیلنے کے کافی شواہد موجود ہیں اور یہ براعظم امریکا ، یورپ ،ایشیا اور آسٹریلیا میں تیزی سے انسانوں میں پھیل رہا ہے۔یادرہے کہ دیگر وبائی امراض عام طور پرموسم خزاں میں کسی نئے وائرس کے نتیجے میں پھیلتے رہے ہیں، لیکن یہ وائرس موسم بہار میں پھیلا تھا اور دنیا کے بیش تر خِطّوں میں موسم خزاں شروع ہونے کے ساتھ اس کی شدت میں اضافے کا خطرہ تھا۔اس وقت عالمی ادارہ صحت کا کہنا تھا کہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق چوہتر ممالک میں اس مہلک وائرس کے 28774 کیس رپورٹ ہوئے ہیں اور ایک سوچوالیس اموات ہوئی ہیں جن میںسے زیادہ تر میکسیکواور امریکا میں ہوئی ہیں۔ڈبلیو ایچ او کی اس وقت کی سربراہ مارگریٹ چن نے وائرس سے پیدا ہونے والے خطرے کوماڈریٹ قراردیاتھا۔

واضح رہے کہ ڈبلیو ایچ او کے راہ نما اصولوں کے مطابق کسی مرض کو وبائی قرار دینے کا معیار یہ ہے کہ اس کا وائرس جس ملک میں پیداہواہو،وہ وہاں پھیلنے کے بعد دوسرے ممالک میں بھی پھیل رہا ہو اور لوگ تیزی سے اس مہلک مرض کا شکار ہورہے ہوں۔عالمی ادارہ صحت نے سوائن فلوکے وائرس کووبائی امراض کی درجہ بندی میں پہلے پانچویں درجے میں رکھا تھا ۔پھر اس کے براعظم امریکا کے بعد آسٹریلیا میں تیزی سے پھیلنے کے بعد اس کا درجہ بڑھا کر چھے کردیا گیاتھا جومکمل وبائی مرض کی نشان دہی کرتا ہے۔

کرونا کے بارے میں ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹر کیجی فوکوڈا نے ایک نیوزبریفنگ میں کہا تھاکہ اگریہ وائرس دنیا بھر میں پھیلتا ہے تو اس سے لاکھوں لوگ متاثر ہو جائیں گے۔اس وقت ماہرین کا کہنا تھا کہ اگرڈبلیو ایچ او اسکیل میں اس کا درجہ چھے، یعنی مکمل وبائی مرض تک بڑھا دیتاہے،تواس کے بعد متاثرہ ممالک کی حکومتیں لوگوں میں اینٹی وائرل اور اینٹی بایوٹکس ادویہ تقسیم کرنے سمیت دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی پابند ہوں گی جن میں لوگوں کے بڑے اجتماعات پر پابندی سمیت مختلف اقدامات شامل ہوسکتے ہیں۔

کرونا کا عالمی درجہ

اگر چہ اب تک کرونا وارس کو عالمی سطح کی وہا قرار نہیں دیا گیا ہےبلکہ اس کے لیے میڈیکل ایمرجنسی کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔تاہم حکام اس امکان کی تیاری کر رہے ہیں کہ دنیا کے سامنے آنے والی عالمی سطح کی بڑی وبا کرونا وائرس ہوسکتا ہے۔دراصل پینڈیمک یا عالمی سطح کی وبا کی اصطلاح ان بیماریوں کے لیے مخصوص ہے جن کے انفیکشن سے دنیا بھر میں ایک ہی وقت میںبہت سے افرادمتاثر ہوں۔اس کی ماضیِ قریب کی مثال 2009 کا سوائن فلو پینڈیمک ہے جس میں ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئےتھے۔

دراصل کسی بیماری کے عالمی وبا بننے کا امکان اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب وائرس قدرے نیا ہو،اس کی لوگوں کو باآسانی متاثر کرنے کی صلاحیت زیادہ ہو، اور وہ ایک سے دوسرے انسان میںباآاسانی منتقل ہو سکتا ہو ۔ ماہرین کے بہ قول بہ ظاہر کرونا وائرس کی خصوصیات میں یہ سب شامل ہے۔اب تک اس وائرس کی کوئی ویکسین یا علاج سامنے نہیں آیاہے۔ اسی لیے اس کاپھیلاؤ روکنا انتہائی اہم ہے۔عالمی ادارہِ صحت کی تعریف کے مطابق کرونا وائرس عالمی وبا بننے سے بس ایک قدم ہی پیچھے رہ گیاہے۔یہ انسانوں میں ایک سے دوسرےکو منتقل ہورہا ہے، چین کے متعدد ہم سایہ ممالک میں پایا گیاہے اور ان ممالک سے باہر بھی پایا گیا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کے مطابق اگر انہیں مختلف ممالک میں کمیونٹی کی سطح پر بڑے پیمانے پر یہ نظر آنے لگا تو اسے عالمی وبا تصور کیا جائے گا۔ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس آدنوم کا کہنا ہے کہ اب تک چین سے باہر اس بیماری کا پھیلاؤبہ ظاہر آہستہ اور کم ہی ہے۔

دراصل ہر پینڈیمک مختلف ہوتا ہے، اور جب تک کوئی وائرس پھیلنا شروع نہیں ہو جاتا اس کے مکمل اثرات کے بارے میں پیش گوئی کرنا ناممکن ہوتا ہے۔چناں چہ پہلے ماہرین کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وبا 2003 میں سارس وائرس سے پھیلنے والی وباسے بڑی ہے اور اس کے متاثرین کی تعداد بھی سارس کے مقابلے میں زیادہ ہو چکی ہے، تاہم کرونا وائرس کم مہلک ہے۔لیکن چین کی ننکائی یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سارس سے ایک ہزار گنا زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس سے پہلے اندازہ تھا کہ سارس سے ملتے جلتے کرونا وائرس کا پھیلاؤ سارس جیسا ہی ہوگا۔لیکن کرونا سے صرف دو ماہ میں بیاسی ہزار افراد متاثر اور تین ہزار سے زاید ہلاک ہوچکے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے ڈاکٹر مائیک ریان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کا خطرہ اب انتہائی حدوں کو چھو چکا ہے۔ بہترین نظامِ صحت کے حامل جدید ممالک بھی اس وائرس سے نمٹنے میں پریشانی کا شکار ہیں ۔ دنیا کے 195 میں سے 53 ممالک اس کی زد میں آچکے ہیں۔چین میں2003میںپھیلنے والی سارس کی بیماری بھی کرونا وائرس کی ایک قسم تھی جس نے 26 ممالک کو متاثر کیا تھا۔

مختلف صورت حال

اندازہ ہے کہ سارس کی وجہ سے تقریباً 30 ارب ڈالرز (بائیس ارب پاؤنڈز) کا نقصان ہوا تھا، مگر ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ نیا کرونا وائرس عالمی معیشت پر اس سے بھی زیادہ خطرناک اثرات مرتب کر سکتا ہے۔چین پر عالمی ادارہ صحت نے سارس کی وبا کی شدت کو چھپانے پر تنقید کی تھی۔ مگر اب تازہ ترین وائرس کے خلاف سخت اقدامات کرنے پر اس کی تعریف بھی کی جا رہی ہے۔ چین نے کئی شہروں میں اپنے کروڑوں شہریوں کو باقاعدہ قرنطینے میں ڈال دیا ہے۔ اس نئے وائرس کے خلاف چین کے ردِعمل کی برق رفتاری اور وسعت کو بے مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

اس نئے وائرس کے انسانی جسم کے اندر کام کرنے کا طریقہ مختلف ہے۔سارس ایک خوف ناک انفیکشن تھا جو پوشیدہ نہیں رہتا تھا۔ مریض صرف تب ہی متاثر ہوتے تھے جب ان میں اس کی علامات ظاہر ہوتی تھیں۔ اس کی وجہ سے بیماروں کو الگ کرنا اور کسی بھی ممکنہ طور پر متاثرہ شخص کو قرنطینے میں ڈالنا آسان تھا۔مگر اس نئے وائرس 2019-nCov کو تلاش کرنا بھی مشکل ہے۔ اس لیے اسے روکنا بھی مشکل ہے۔وائرس کے نکتہ نظر سے دیکھیں، تو ارتقائی اعتبار سے اس کی بقا کی حکمتِ عملی سارس سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔اندازہ یہ ہے کہ صرف پانچ میں سے ایک ہی کیس میں شدید علامات ظاہر ہو رہی ہیں۔اس لیے بجائے اس کے کہ بیمار لوگ خوداسپتال جائیں،حکّام کو خود باہر جا کر انہیں ڈھونڈنا پڑتا ہے۔اور اب ایسے تفصیلی کیسز سامنے آ رہے ہیں جن میں پایا گیا ہے کہ لوگوں میں علامات ظاہر بھی نہیں ہو پاتیں کہ وہ وائرس پھیلانے کا سبب بننے لگتے ہیں۔ماہرین کے مطابق عام طور پر ہماری توجہ صرف اس بات پر رہتی ہے کہ کوئی وائرس کتنا ہلاکت خیز ہے، مگر اس کے ساتھ وائرس کےپھیلنے کی صلاحیت مل کر اس کے خطرے کی حقیقی نوعیت بتاتی ہے۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید