آپ آف لائن ہیں
بدھ7؍ شعبان المعظم 1441ھ یکم اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

وطن عزیز میں موجودہ سیاسی صورتحال کا منظر اور چہرہ بڑے عجیب انداز میں دکھائی دے رہا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کی سیاست ایک ایسے جمود اور سکوت کی صورت میں محسوس کی جا رہی ہے جیسے دونوں کا عوام کے جذبات اور معاملات سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں اور اُن کی قیادت حکومتیں چلانے کا تجربہ رکھنے کے باوجود یہ تاثر دے رہی ہیں کہ سیاسی منصوبہ بندی کے کسی بھی لائحہ عمل کو بروئے کار لانے کے لئے اُن کے پاس فضاء سازگار نہیں ہے۔ دوسری طرف مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی بدحالی میں بڑھتے ہوئے اضافہ کی سنگین صورتحال میں مبتلا بے بس عوام کو حکمرانوں کی طرف سے تسلیوں اور وعدوں سے ہی بہلایا اور ٹرخایا جا رہا ہے۔ 

وزیراعظم اور اُن کے وزراء کی طرف سے ’’عوامی فلاحی پروگراموں‘‘ کے اعلانات اور اجراء کی تقریبات تو تسلسل سے منعقد کی جا رہی ہیں لیکن نچلی سطح پر عوام کو ان اقدامات سے افاقہ محسوس بھی نہیں ہو رہا بلکہ اُن کے دن بدن بڑھتے ہوئے مسائل نے اُن کی زندگی کو عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یار لوگوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور شرح سود کے بارے میں ادارہ شماریات کی رپورٹ نے بھی سب کو حیرانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک ہفتے کے دوران مہنگائی میں اضافے کی مجموعی شرح کا گزشتہ مہینے والی حد پر برقرار رہنا ملک کی غریب آبادی ہی نہیں بالائی متوسط طبقوں تک کی زندگی اجیرن کر دینے کے لئے کافی ہے۔ آئی ایم ایف کے قرض کی نئی اقساط کے اجراء سے قبل ہی بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے کے خوف نے عوام کو پریشان صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔ اقتصادی ماہرین اور کاروباری طبقے کے نمائندے معاشی سرگرمی اور صنعت کے جام ہونے والے سلسلے کو رواں کرنے کے لئے سٹیٹ بینک کی شرح سود میں کمی کی ضرورت کا بھی بڑی شدت سے اظہار کر رہے ہیں۔ وہ اس بات پر بھی حیران ہیں کہ گورنر سٹیٹ بینک کی طرف سے آٹھ ماہ قبل کئے گئے وعدے کے باوجود بھی اس بارے میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے دبائو کی وجہ سے حکومت کو کئی معاملات اور اقدامات میں مجبوری کا سامنا ہے۔ 

یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے تناسب سے حکومت پٹرولیم مصنوعات کے حوالہ سے عوام کو خاصا بڑا ریلیف دینے کا ارادہ رکھتی تھی لیکن بین الاقوامی اداروں کی شرائط کی وجہ سے اتنا ریلیف نہ دیا جا سکا جس کی عوام حق دار ہے۔ وفاقی دارالحکومت اِن دنوں بین الاقوامی سفارتکاری کا مرکز بنا ہوا ہے۔ بدلتے ہوئے حالات کے عالمی تناظر میں مستقبل کی فیصلہ سازی اہم مراحل میں نہ صرف داخل ہوتی محسوس ہو رہی ہے بلکہ علاقائی صورتحال کے باعث پاکستان عالمی سفارتکاری کا محور بن کر سامنے آ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور پھر امریکی نمائندے زلمے خلیل کے دوروں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دونوں عالمی نمائندوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ پاکستان کے امن و امان کے قیام کے کردار کو احسن انداز میں محسوس کر رہے ہیں اور حالیہ امریکہ طالبان کے معاہدے نے بھی پاکستان کی حیثیت اور کردار میں اضافہ کیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے سیاسی حلقوں میں یہ بات شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ کابینہ کے بیشتر وزراء نجی محفلوں میں وزیراعظم ہاؤس کے ’’ٹرائیکا‘‘ کو سب سے زیادہ با اختیار تصور کر رہے ہیں۔ 

اس میں وزیراعظم عمران خان اُن کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور مشیر خاص زلفی بخاری شامل ہیں۔ خارجہ امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ سے لے کر قطر تک کے دوروں میں زلفی بخاری کی ہمسفری وزارت خارجہ کے لئے ایک اہم سوال بنی ہوئی ہے۔ حکمران پارٹی کے اندر بھی وفاقی وزیر اسد عمر اور وزیراعظم کے دستِ راست جہانگیر ترین کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کی کئی کہانیاں بھی زبان زدِ عام ہیں۔ نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اور وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کے درمیان کی ’’سرد جنگ‘‘ بھی وزارتِ قانون کے کئی عہدیداروں کے لئے درد سر بنی ہوئی ہے۔ تاہم اعلیٰ حکومتی عہدیدار وفاقی وزیر قانون کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ اُن کے لئے وہ نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ 

صوبائی دارالحکومت میں کرونا وائرس کی وجہ سے سیاسی سرگرمیاں اتنی تیز نہیں دکھائی دے رہی ہیں تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کابینہ کے اجلاس میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست کو مسترد کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپوزیشن کو ’’ٹف ٹائم‘‘ دینا چاہتے ہیں۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے یہ فیصلہ وزیراعظم عمران خان کے احکامات کے تناظر میں کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس سلسلہ میں قانونی ماہرین کی ٹیم کے ذریعے آئندہ کے لائحہ عمل کو طے کرنے میں مصروف دکھائی دے رہی ہے۔ گو سیاسی حلقوں میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کی ’’عدم موجودگی‘‘ کو بڑی شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے تاہم قید و بند سے رہائی کے بعد شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال جس عزم اور حوصلے سے پارٹی کے وجود کو قیادت کی روشنی فراہم کر رہے ہیں اُس سے یہ تاثر ابھر کر سامنے آ رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں مزاحمتی سیاست کا کردار ادا کرنے والوں میں رانا ثناء اللہ کے علاوہ یہ دونوں قائدین بھی شامل ہیں۔ 

یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ شریف برادران نے لندن سے بھی ان تینوں راہنمائوں کو اُن کی ’’وفا داریوں کی داستان‘‘ مرتب کرنے پر اُن کو نہ صرف خراج تحسین پیش کیا ہے بلکہ اُن کو پارٹی کے مشکل وقت میں ایک قیمتی اثاثہ قرار دیا ہے۔ میاں شہباز شریف کے رواں ماہ میں واپسی کے امکانات کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔ تاہم شریف فیملی میاں نواز شریف کی صحت کو سب سے زیادہ ترجیح دے رہی ہے اور اس بات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ میاں نواز شریف کے علاج کی وجہ سے اُن کی واپسی میں تاخیر بھی ممکن ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف وفاقی حکومت میاں نواز شریف کو واپس لانے کے لئے برطانوی حکومت کو خط لکھنے کا بھی اعلان کر رہی ہے۔ صوبے میں انتظامی سطح پر یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ چیف سیکرٹری اعظم سلیمان اور آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کو وفاقی حکومت کی طرف سے ’’فری ہینڈ‘‘ ملا ہوا ہے اور مثبت نتائج کے لئے بیورو کریسی کے تبادلوں کے معاملہ میں بھی وہ کارکردگی کے معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اختیارات کو بغیر کسی دبائو کے استعمال کر رہے ہیں۔ 

کئی ارکان اسمبلی اور بعض صوبائی وزراء اپنے مرضی کے افسران کے تبادلوں کے معاملہ میں خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اور ان کے حکومتی اتحاد کے راہنمائوں کے درمیان اب معاملات بڑے خوشگوار انداز میں چل رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری پنجاب میں دوبارہ دورہ کر رہے ہیں۔ اس سے قبل لاہور میں چند روز قیام کے دوران بھی وہ پارٹی راہنمائوں سے صوبے میں پارٹی کو زندہ کرنے کے سلسلہ میں مشاورت کرتے رہے ہیں اور اب وہ چند اضلاع میں پارٹی کی تنظیم سازی کے سلسلہ میں ’’عوامی رابطہ مہمٔؒ‘‘ کا آغاز کرنے والے ہیں۔ وسطی پنجاب اور جنوبی پنجاب میں پارٹی کی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لئے لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد ہر ہفتے لاہور میں قیام کے دوران دھواں دار پریس کانفرنس کر کے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں لیکن ہر بار وہ ترمیم کئے بغیر اپنی جارحانہ گفتگو کو ’’قند مکرر‘‘ کے طور پر پیش کر دیتے ہیں۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید