آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

یورپی یونین نے کورونا وائرس کے باوجود شینگن زون کو کھلا رکھا ہوا ہے

برسلز: مائیکل پیل

برسلز نے کہا ہے کہ اٹلی میں کورونا وائرس پھیلنے کے باوجو یورپی ممالک کا شینگن فری ٹریول زون معطل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، جیسا کہ خوفزدہ ردعمل کے خلاف اس نے متنبہ کیا ہے۔

یورپی یونین کی ہیلتھ سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس پیر کے روز اطالوی بحران پر بات چیت کیلئے ہونا تھا کیونکہ یورپی کمیشن نے اس بیماری کے پھیلاؤ کے خلاف عالمی سطح پر لڑائی کے لئے 232 ملین یورو پیکج کا اعلان کیا تھا۔

عالمی ادارہ صحت اور یورپی یونین کے بیماروں سے بچاؤ اور کنٹرول کے یورپی مرکز کے ہنگامی تشخیصی مشن کا اٹلی پہنچنا ہے،جہاں منگل کے روز 229 کورونا وائرس کے مثبت ٹیسٹ نکلے اور چھ افراد کی موت واقع ہوگئی،جیسا کہ وہاں کے حکام ایشیا سے باہر سب سے بڑے پھیلاؤ پر قابو پانے کی جدجہد کررہے ہیں۔

یورپی یونین کی ہیلتھ کمشنر اسٹیلا کیریباکائیڈس نے پیر کو برسلز میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہمیں اس صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے ، تاہم ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اور یقیناََ ان سے غلط فہمی پیدا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

کمیشن نے زور دیا کہ سرحدوں کی بندش 26 ممالک کے شینگن ایریا میں رکن ممالک کے لئے ایک معاملہ ہے،جس میں یورپی یونین کی ریاستوں اور غیر یورپی یونین کے ممالک جیسے سوئٹزرلینڈ اور ناروے شامل ہیں اور جہاں قومی محاذوں پر عام طور پر پاسپورٹ یا دوسرے کنٹرول نہیں ہوتے ہیں۔

کورونا وائرس زون کے صحت کے بحران پر قابو پانے کے لئے ایک بہت بڑی آزمائش ہے، کیونکہ اس کی بڑی آبادی والے مراکز بنیادی طور پر اچھے ذرائع نقل و حمل کے رابطوں سے منسلک مسلسل زمینی رقبے پر مشتمل ہیں۔

شینگن قوانین رکن ممالک کو عوامی پالیسی یا داخلی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ کے جواب میں بارڈر کنٹرول کو دوبارہ پیش کرنے کے لئے وسیع اختیارات دیتے ہیں۔کسی بھی سختی کو آخری حل سمجھا جاتا ہے،وقت محدود اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے کم سے کم ضرورت تک محدود ہے۔

سوئٹزر لینڈ اور آسٹریا دونوں نے پیر کے روز اٹلی کے ساتھ اپنی سرحدوں پر چیک کے ساتھ ساتھ معلوماتی مہموں کو بڑھانے کا اعلان کیا۔

سوئٹزرلینڈ میں، جس نے ابھی تک کسی بھی مصدقہ واقعہ کی اطلاع نہیں دی ہے، حکام نے پروسی لمبرڈی میں صورتحال کے خراب ہونے کی امکان میں،جانچ کی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافے کا اعلان کیا ہے۔

ملک میں ٹیسینو کی اطالوی زبان بولنے والی قوم اٹالین کے وباء پھیلنے کے مرکز کے قریب ہیں۔تقریباََ 70 ہزار مسافر روزانہ اٹلی سے کام کرنے کیلئے ٹیسینو جاتے ہیں۔

ویانا نے اسی اثناء میں آسٹریا کے تمام شہریوں کو اٹلی کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے خلاف مشورہ دینے کے لئے ایک سفری انتباہ جاری کیا ہے۔

محترمہ کریاکائٹس نے کہا کہ کمیشن اور یورپی یونین کی ریاستیں صحت کی سلامتی کمیٹی جیسے اداروں کے زریعے تیاریوں کے بارے میں مستقل رابطے میں ہیں،جو سرحد پار سے صحت کو لاحق خطرات کے بارے میں قومی ردعمل کو مربوط کرنے میں مدد کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کمیشن اور رکن ممالک تشخیصی لیبارٹریز کی استعداد کارپوریشن اور ممکنہ کورونا وائرس کیریئرز سے کیسے رابطے میں رہ سکتے ہیں،ان علاقوں میں تیاری کا جائزہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے اطالوی صورتحال کے بارے میں کہا کہ میں پوری طرح سے سمجھتا ہوں کہ تشویش لاحق ہے لیکن کہا کہ احتیاطی تدابیر سائنسی شواہد اور تناسب پر مبنی ہونی چاہئے۔

یورپی یونین کے کرائسز مینجمنٹ کے کمشنر جینز لیناراسک نے کہا کہ بلاک نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے بین الاقوامی اقدامات میں اپنی شراکت میں اضافہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ عالمی چیلنج ہے اور اس کےلئے پوری عالمی برادری کے تعاون کی ضرورت ہے۔

کمیشن نے کہا کہ تقریباََ 232 ملین یوروپیکج کا نصف عالمی ادار ہ صحت کے پاس جائے گا،خاص طور پر صحت کے کمزور نظام اور محدود لچک والے ممالک میں صحت عامہ کی ہنگامی تیاریوں اور ردعمل کے کاموں کو فروغ دینے کے لئے۔

افریقہ میں تیز رفتار تشخیص اور وبائی امراض کی نگرانی جیسے اقدامات کی امداد کیلئے 15 ملین یورو کی رقم فراہم کی جائے گی،جبکہ دوسازی کی صنعت کی طرف سے مالی اعانت سے حاصل 100 ملین یورو وائرس کی روک تھام اور روک تھام پر تحقیق کے لئے مختص کی جائے گی۔

فنانشل ٹائمز سے مزید