آپ آف لائن ہیں
منگل6؍شعبان المعظم 1441ھ 31؍مارچ 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

روہڑی کینال سکھر سے حیدرآباد تک 25 لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی کو سیراب کرتی ہے، پاکستان میں بیراجوں سے نکلنے والی تمام نہروں میں نمایاں حیثیت رکھنے والی اس کینال کو اپنی افادیت کے باعث دلہن بھی کہا جاتا ہے

سندھ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں ایشیاء کا سب سے بڑا نہری نظام رکھنے والا سکھر بیراج موجود ہے یہ دنیا کا واحد بیراج ہے جہاں سے سات نہریں نکلتی ہیں، تین نہریں دادو، رائیس اور کیرتھر کینال دریاء کے دائیں جانب جبکہ چار نہریں سکھر بیراج کے بائیں جانب جن میں روہڑی، نارا، خیرپور ایسٹ، خیرپور ویسٹ کینال شامل ہیں، روہڑی کینال پاکستان کی وہ واحد کینال ہے جو سب سے زیادہ اراضی کو سیراب کرتی ہے۔سندھ کی زمینوں کو سیراب کرنے کے لئے 1923ء میں سکھر بیراج کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا اور اس بیراج کا تعمیراتی کام 1932ء میں پایہ تکمیل تک پہنچا۔ یوں تو سکھر بیراج سے نکلنے والی نہروں میں نارا کینال سب سے بڑی نہر ہے کیونکہ نارا کینال کی لمبائی226میل ہے اور اس میں پانی کی گنجائش 18ہزار کیوسک ہے تاہم روہڑی مین کینال اپنی افادیت و اہمیت کے حوالے سے نہ صرف سکھر بیراج سے نکلنے والی نہروں بلکہ پاکستان کی تمام نہروں میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ روہڑی مین کینال 25لاکھ ایکڑ سے زائد زمین کو سیراب کرتی ہے، روہڑی مین کینال کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں پاکستان کی کوئی بھی نہر کسی زمین کو سیراب نہیں کرتی اور یہ واحد روہڑی کینال ہے جو کہ اتنی بڑی مقدار میں زمین کو سیراب کرتی ہے۔ روہڑی کینال کی نمایاں خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں پورا سال پانی چلتا ہے اور رہڑی کینال سکھر بیراج سے نکل کر کنڈیارو، نوابشاہ،بھٹ شاہ، سکرنڈ، ہالا سے ہوتی ہوئی حیدرآباد تک نیشنل ہائی وے کے ساتھ ساتھ چلتی ہے جبکہ اس نہر کے ساتھ موجود تمام اراضی آباد ہیں کسی بھی علاقے کی زمین بنجر نہیں ہے، اس لئے اسے اریگیشن سسٹم کے حساب سے سندھ کی دلہن بھی کہا جاتا ہے۔ روہڑی کینال کا مجموعی ایریا 25لاکھ ایکڑ سے زائد ہے، اس کی مجموعی لمبائی 208میل ہے جبکہ سکھر بیراج سے شروع ہوتے وقت اس کی چوڑائی 300فٹ ہے جو کہ آگے جاکر کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہے۔ 1932ء میں سکھر بیراج کی تعمیر کے ساتھ ہی روہڑی کینال کی تعمیر مکمل کی گئی، اس وقت اس میں پانی کی گنجائش 10ہزار 887کیوسک تھی تاہم پھر جس طرح وقتاً فوقتاً آبادی بڑھتی گئی اور پانی کی ضرورت زیادہ محسوس ہونے لگی تو پھر 1992میں اس نہر کو ری ڈیزائن کیا گیا اور اس میں پانی کی گنجائش کو بڑھایا گیا، اس وقت کینال میں 16ہزار کیوسک پانی کی گنجائش ہے۔ سکھر بیراج سے نہر میں پانی چھوڑنے کے لئے 12دروازے ہیں اور ہر دروازے کی چوڑائی 25فٹ ہے۔ کیونکہ اس کینال میں پورا سال پانی موجود رہتا ہے، اس لئے اسے اریگیشن سسٹم کے پیری نل کینال بھی کہا جاتا ہے جبکہ اس کینال سے مختلف علاقوں میں سیکڑوں چھوٹی و بڑی نہریں نکلتی ہیں۔ فصلوں کے 2سیزن ربیع اور خریف کی فصلوں کو اسی نہر سے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ خریف کا سیزن جو کہ اپریل سے لیکر ستمبر تک ہوتا ہے جبکہ ربیع کی فصلوں کا سیزن اکتوبر سے لیکر مارچ تک ہوتا ہے۔ خریف کے سیزن میں کپاس کی کاشت کی جاتی ہے کیونکہ سکھر بیراج کے بائیں کنارے پر چاول کی کاشت پر پابندی عائد ہے، اگر بیراج کے بائیں کنارے پر چاول کی کاشت کی بھی جاتی ہے تو متعلقہ انتظامیہ اس فصل کو ختم کردیتی ہے کیونکہ چاول کی فصل کے لئے زیادہ پانی چاہیے ہوتا ہے جس کی وجہ سے زمین سیم و کلر کا شکار ہوکر بنجر ہوجاتی ہے، اس لئے سکھر بیراج کے بائیں کنارے پر چاول کی کاشت پر مکمل پابندی عائد ہے، جبکہ کپاس کی فصل کے ساتھ ساتھ دیگر موسمی فصل بھی کاشت کی جاتی ہیں۔ ربیع کے سیزن میں گندم کی فصل کاشت کی جاتی ہے جبکہ اس کے علاوہ آم، امرود، کھجور و دیگر موسمی پھل فروٹ اور سبزیاں بھی کاشت ہوتی ہیں۔سکھر بیراج کے کنٹرول روم کے انچارج عبدالعزیز سومرو کے مطابق خریف کے سیزن میں 16ہزار کیوسک اور ربیع کے سیزن میں 7سے 8ہزار کیوسک پانی چلتا ہے۔ 

خریف کے سیزن میں جب نہر میں اس کی گنجائش کے مطابق 16ہزار کیوسک پانی چھوڑا جاتا ہے تو اسے اریگیشن سسٹم کے تحت آب کنالی کا سیزن کہا جاتا ہے، اس سیزن میں افسران کو خصوصی احکامات دیے جاتے ہیں کہ وہ نہر کی مکمل نگرانی کریں، ہر 500فٹ پر عملہ مقرر کردیا جاتا ہے جو کہ پٹرولنگ کرتا ہے اور اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ پانی زیادہ ہونے کی وجہ سے کسی مقام پر کوئی شگاف وغیرہ تو نہیں پڑ رہا، اس دوران اگر شگاف پڑ جائے تو پھر شگاف کی نوعیت دیکھی جاتی ہے، اگر چھوٹا موٹا شگاف ہوتا ہے تو پھر پانی کی مقدار کم کردی جاتی ہے اور اگر بڑا شگاف ہوتا ہے تو پھر نہر میں پانی کی فراہمی مکمل طور پر روک دی جاتی ہے، اگر پانی کی فراہمی روکی جائے تو پھر پانی بند ہونے سے لیکر پانی دوبارہ چھوڑنے تک کم از کم 15دن تک پورا نظام متاثر ہوتا ہے تاہم گزشتہ 7سے 8سال کے دوران ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ جب دریا میں سیلابی صورتحال پید اہوتی ہے تو پھر نہر میں پانی کی مقدار کم کردی جاتی ہے، اسی طرح مون سون کے موسم میں بھی نہر میں 40سے 50فیصد تک پانی کی سپلائی کم کردی جاتی ہے اور اگر ضرورت سے زیادہ بارشیں ہوجائیں تو پھر نہر میں پانی کی سپلائی مکمل طور پر روک دی جاتی ہے۔ عبدالعزیز سومرو نے بتایا کہ 2015میں حکومت سندھ کی جانب سے روہڑی کینال پر لائننگ کا کام شروع کیا گیا، جس کے تحت نہر کے دونوں اطراف کے پشتوں کو پختہ کرنا تھا، پہلے مرحلے میں نوابشاہ سے لیکر قاضی احمد تک نہری پشتوں کو پختہ و مضبوط کردیا گیا ہے اور اب مرحلہ وار یہ کام جاری ہے، جب نہر میں پانی کی سطح کم ہوتی ہے تو پھر پشتوں کی مضبوطی کا کام کیا جاتا ہے۔ 

سال میں صرف 15دن کے لئے اس نہر میں پانی بند ہوتا ہے کیونکہ 6جنوری سےلے کر 20جنوری تک بھل صفائی کے لئے نہر میں پانی کی فراہمی روک دی جاتی ہے۔ بھل صفائی کے دوران نہر میں پانی کی فراہمی بند کرکے اس میں موجود ریت کو نکالا جاتا ہے، مشینوں کی مرمت کی جاتی ہے، دروازوں میں آئل و گریس لگایا جاتا ہے جبکہ اس کے علاوہ جس جگہ پشتیں کمزور ہوتی ہیں انہیں پختہ کیا جاتا ہے اور جہاں اسٹون پچنگ کی ضرورت ہوتی ہے وہاں اسٹون پچنگ بھی کی جاتی ہے۔ بھل صفائی کے لئے ہر ڈویژن کو ان کی ضرورت کے مطابق فنڈ فراہم کیا جاتا ہے۔ اگر کسی ڈویژن میں نہری پشتیں کمزر ہوتی ہیں تو پھر پانی کی وارہ بندی سے قبل ڈویژن کا انچارج کینال کے سپرنٹنڈنٹ انجینئر کو آگاہ کرتا ہے اور کام کی نوعیت کے متعلق تفصیلات بتاتا ہے، یہ تمام پلاننگ وارہ بندی سے 6ماہ قبل مکمل کرلی جاتی ہے اور پھر کام کی نوعیت کے حساب سے بجٹ فراہم کیا جاتا ہے جو کہ لاکھوں اور کروڑوں تک ہوتا ہے۔ 

روہڑی کینال سرکل کا انتظامی نظام چلانے کے لئے ایک سپرنٹنڈنٹ انجینئر ہے، سرکل میں 8ڈویژنز ہیں، جن میں کنڈیارو، مورو، نصرت، دال، ہالا، سکرنڈ، نصیر شامل ہیں، ہر ڈویژن میں ایک ایگزیکٹیو انجینئر ہے، پھر اس کے بعد اسسٹنٹ انجینئر یعنی کہ ایس ڈی اوز ہوتے ہیں، بیراج کے چیف انجینئر کینال کے ہیڈ ہیں، مجموعی طور پر افسران و اہلکاروں پر مشتمل سیکڑوں کی تعداد میں عملہ ہے۔ نہر میں پانی سپلائی کرنیکا طریقہ کار کچھ اس طرح ہے کہ نہر کے سب سے آخر یعنی کہ ٹیل کے ڈویژن کا انچارج اپنے سے اوپر والی ڈویژن کو آگاہ کرتا ہے کہ ہمیں اتنی مقدار میں پانی چاہیے، مذکورہ نہر کی آخری ڈویژن نصیر ہے، جس کا انچارج اپنے سے اوپر والی ڈویژن ہالا کے انچارج کو پانی کی ضرورت بتاتا ہے، جس کے بعد ہالا ڈویژن کا انچارج نصیر ڈویژن اور اپنی ڈویژن کی ضرورت دونوں کو ملاکر اپنے سے اوپر والی ڈویژن کے انچارج کو آگاہ کرتا ہے اور پھر اس طرح تمام ڈویژن سے ہوتے ہوئے سکھر بیراج کے کنٹرول روم کے انچارج کو نہر میں مطلوبہ پانی کی مقدار سے آگاہ کردیا جاتا ہے جس کے بعد انچارج کنٹرول روم تمام تر صورتحال سے چیف انجینئر اور ایگزیکٹیو انجینئر کو آگاہ کرتا ہے اور پھر مشاورت کے بعد نہر میں پانی چھوڑا جاتا ہے۔ اس نہر کے ذریعے سندھ کی ایک وسیع اراضی کو سیراب کیا جاتا ہے اور اس نہر سے فراہم کئے جانیوالے پانی سے خریف و ربیع کی مختلف فصلیں کاشت ہوتی ہیں، اس لئے سندھ کی زراعت کے حوالے سے یہ نہر کافی اہمیت کی حامل ہے اور سکھر بیراج کی ساتوں نہروں میں بھی اسے ممتاز و منفرد مقام حاصل ہے اور اس کی افادیت کے حوالے سے اس کو دلہن بھی کہا جاتا ہے۔

وادی مہران سے مزید