افغان امن کا دشمن کون؟
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغانستان میں بحالی ٔ امن اور جنگ بندی کے طویل مذاکراتی عمل کے بعد 29فروری کو امریکہ نے قطر کے دارالحکومت دوحا میں طالبان سے امن معاہدہ کیا۔ اس معاہدہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں پاکستان نے بہترین سفارت کاری کے ذریعہ سہولت کار کا کردار ادا کیا جس کا امریکہ نے اعتراف بھی کیا۔

معاہدے میں طے پایا کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ گرفتار طالبان میں سے آدھے فوری اور آدھے بعد میں چھوڑ دیے جائیں گے، اس کے مقابل امریکی قیدی بھی رہا کر دیے جائیں گے۔

معاہدے کی منظوری افغان صدر، طالبان قیادت اور امریکی قیادت نے دی لیکن دوسرے دن ہی افغان صدر نے طالبان قیدی چھوڑنے سے انکار کردیا۔ یہ بات غیرمتوقع نہ تھی کہ افغانستان ہی سے بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیاں کرتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ بھی علم ہے کہ افغان رہنما عبداللہ عبداللہ اور افغان صدر بھارتی حکومت کے زیر اثر ہیں۔ اس کے باوجود امریکی صدر یہ نہ سمجھ سکے کہ جب تک بھارت کا اثر ورسوخ ختم نہ ہوگا، طالبان سے امن معاہدہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا۔

طالبان قیدیوں کی عدم رہائی کے اعلان پر نتیجہ یہی نکلتا تھا کہ طالبان مشتعل ہوں اور ایسا ہی ہوا، طالبان نے ہلمند میں افغان سیکورٹی اداروں پر حملہ کردیا۔ اگرچہ بعد میں داعش نے ذمہ داری قبول کرلی۔

اس صورتحال کا فائدہ بھارت کو ہوا۔ افغانستان میں امن وامان بھارت کے لیے اس کی مذموم کارروائیوں میں رکاوٹ ہے، یہ حفاظتی حملہ جو فوری طور پر امریکہ نے طالبان پر کیا، یہ اس کی نہ چاہتے ہوئے بھی مجبوری تھا۔

اس صورتحال سے امریکی انتظامیہ کو یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی کہ پاکستان اور بھارت دونوں میں اس کے لیے کون سا سہولت کار بہتر ہے، ایک جانب پاکستان ہے جس نے امریکی فوجیوں کی واپسی اور افغانستان میں قیامِ امن کے لیے کامیاب سفارتکاری کی، دوسری جانب بھارت ہے جو اپنے سہولت کاروں کے ذریعہ اس معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

اگرچہ افغانستان کے سیکورٹی اداروں پر حملے کے بعد فوری طور پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملابرادر سے معاہدے کی پاسداری کے حوالے سے آدھے گھنٹے بات کی اور دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ کو اشرف غنی سے بات چیت کرنے کی ہدایت کی، لیکن تاحال اس حوالے سے کوئی نتیجہ خیز بات سامنے نہیں آئی ہے۔

افغانستان میں اقتدار کی رسہ کشی، اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کی علیحدہ علیحدہ تقریب حلف برداری افغانستان کے امن وامان کو تباہ وبرباد کرنے کیلئے پہلا قدم ہے۔ نیز یہ پرانی چنگاری ہے جسے شعلہ بنایا جارہا ہے اور وہ یہ ہے کہ افغانستان کو پختون اور غیرپختون میں تقسیم کردیا جائے۔

یہ چنگاری افغانستان کو ایک ایسی چنگاری میں تبدیل کردے گی کہ جس کے اثرات دور دور تک جائیں گے۔ حلف برداری کی تقریب کے دوران ایوانِ صدر پر راکٹ حملے اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں، ایسی صورتحال میں امریکہ کے لیے یہی بہتر ہے کہ جلد ازجلد افغانستان سے اپنی فوجوں کا مکمل انخلا کرلے۔

امریکی طاقت 18ویں اور 19ویں صدی کی برطانوی طاقت سے زیادہ طاقتور نہیں، جب وہ افغانستان کو نوآبادی نہ بنا سکے تو پھر افغانستان پر اپنی مرضی کس طرح مسلط کر سکتا ہے، امریکہ وہ غلطی نہ کرے جو روس کرچکا ہے۔ اگر امریکہ من مانی پررہا تو اس کا انجام بھی روس جیسا ہی ہوگا۔

افغانستان میں داخل ہونے سے اب تک امریکہ نے اپنا خزانہ بھی خالی کیا اور ہزاروں فوجیوں کی جانیں بھی گنوائیں، اس کے باوجود امن معاہدہ کرنے پر مجبور ہے۔

امریکہ دوستی میں پاکستان نے جو نقصان اٹھایا ہے، اب پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ افواجِ پاکستان نے بڑی محنت اور جانوں کی قربانی دے کر ملک میں امن و امان قائم کیا ہے، لاکھوں سویلین بھی امریکی دوستی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

پاکستان کی سرحدیں غیرمحفوظ ہو گئی ہیں اور یہ سرحدیں امریکی دوست (بھارت) کی وجہ سے ہی غیرمحفوظ ہوئی ہیں، بھارت میں ایسے وقت بھی مسلمانوں پر ظلم ڈھائے جارہے تھے جب امریکی صدر وہاں موجود تھے، قتل عام پر ان کا کہنا تھا کہ یہ بھارت کا داخلی معاملہ ہے، ایک اسرائیلی کے مرنے پر انہیں انسانی حقوق یاد آجاتے ہیں، ایران کے چند سو مظاہرین کی حمایت پر ان کا خون جوش مارنے لگتا ہے اور انسانی حقوق کا واویلا مچا دیتے ہیں لیکن کشمیر، فلسطین، یمن اور شام میں ظلم وبربریت سے ہزاروں مرنے والوں پر ان کی آنکھیں بند رہتی ہیں۔

پاکستان کے استحکام کے لیے پاکستانی سول اور عسکری قیادت کو افغانستان سے اور طالبان سے مذاکرات کرنے میں دشواری نہیں، پاکستان اپنی سرحدوں پر غیریقینی صورتحال پر قابو پا سکتا ہے کیونکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کسی بھی ملک میں مداخلت شامل نہیں ہے۔ لہٰذا فیصلہ امریکہ کو کرنا ہے۔ اب پاکستان سے مزید کوئی مطالبہ نہ کیا جائے۔

تازہ ترین